یه جو پیغمبر اسلام نے فر مایا هے که “صفائی نصف ایمان هے”، اور دوسری جگه پر فر مایا هے که: ” ازدواج سے انسان کا ایمان مکمل هو تا هے”، پس نماز و روزه کا کیا حال هے؟

0 0

سوا ل میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم سے چند ایسی روایتیں نقل کی گئی هیں، که ان روایتوں کا کهیں وجود هی نهیں هے- کهاں پر آیا هے که پاکیزگی نصف ایمان هے؟ جو کچھـ احادیث کی کتابوں میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے نقل هوا هے، وه یه هےکه : ” النظافه من الایمان”[1] ” صفائی اور پاکیزگی ایمان کا حصه هے اور یه اس معنی میں هے که ایک با ایمان شخص چونکه مومن هے اس لئے پاک وصاف بھی هے اور پاکیزگی کا سر چشمه ایمان هے اور یا یه که ایمان کے ایک حصه کو صفائی اور پاکیزگی تشکیل دیتی هے، یه ممکن نهیں هے که کوئی اپنے دعوی میں سچا هو اور پاکیزگی و صفائی کے بارے میں بھی کوئی توجیه نه رکھتا هو ، بهر حال لفظ “نصف” روایات میں موجود نهیں هے که سوال میں پیش کی گئی مشکل پیش آئے-

خاص کر صفائی کو هاتھـ منه اور لباس دھونے اور گهر کی صفائی تک محدود نهیں کیا جاسکتا هے – بلکه اس سے عام مفهوم کا استفاده کیا جاسکتا هے اور اس کے مختلف موارد کی تحقیق سے کسی نتیجه پر پهنچا جاسکتا هے که حتی که نماز ،روزه وغیره بھی اس میں شامل هیں – دوسرے الفاظ میں ، ممکن هے صفائی طهارت کے معنی میں هو که اس صورت میں انسان کی فکر وعمل کا اس کے بغیر کوئی نتیجه نهیں هوگا ، لهذا نه صرف یه کها جاسکتا هے که “لا صلاه الا بطهور”[2]، بلکه طهارت و صفائی کے بغیر کوئی کام صحیح اور مقبول نهیں هو گا اور اس طرح طهارت و صفائی کے بغیر ایمان متحقق نهیں هوتا هے-

اس کے علاوه ، روایت میں جن موارد میں مقدار و کمیت بیان کی گئی هے، وه در اصل نسبتی کمیت هے – مثلا ً اگر کها جاتا هے که ازدواج سے انسان کے ایمان کا نصف حصه مکمل هوتا هے ، یعنی جس نے ازدواج کیا هے وه ازدواج نه کئے هوئے شخص کی نسبت بهت آرام تر اور سکون سے بهتر عبادت اور فریضه الهی کو انجام د ےسکتا هے اور اس طرح اس نے نصف راسته طے کیا هے ، لیکن جس شخص نے ابھی ازدواج نهیں کیا هے وه اپنے ایمان کی حفاظت میں مشکلات سے دوچار هوتا هے – لهذا اس امر میں ازدواج اهم عامل شمار هوتا هے-

پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے روایت نقل کی گئ هے که آپ(ص) نے فر مایا : جوانو! تم میں سے هر ایک توانائی کا مالک هے، اپنے لئے شریک حیات کا انتخاب کروکیونکه ازدواج آنکهوں کو نا محرم سے بهتر صورت میں پرده کراتا هے اور پاک دامنی نیکی بخشتی هے- [3]

اسلام میں ایک طرف سے ازدواج کے مثبت پهلو پر تاکید کی گئی هے که :ازدواج آرام و سکون کا ایک وسیله هے اور مهر ومحبت کا سر مایه هے – جب ازدواج سے جنسی تقاضےزه وغیره قابو میں آتے هیں اور جوان کی مضطرب روح اعتدال پر آتی هے ، تو وه زندگی کے حقائق کا اچھی طر ح ادراک کر سکتا هے اور اپنے دین وسعادت کی طرف تیزی سے قدم بڑهاتا هے – حقیقت میں ازدواج کے سکون کا وه لوگ زیاده ادراک کرتے هیں جنهوں نے تنهائی اور اکیلے پن کی حالت میں زندگی بسر کر نے کی سختیاں جهیل لی هوں اور ازدواج سے محروم نوجوانوں کی مضطرب روح سے آگاه هوں-

دوسری طرف ، رهبانیت ( دنیا اور اس کی لذتوں کو ترک کر نے ) کی مذمت اور ممانعت کی گئی هے – پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے فر مایا : ” لیس فی امتی رهبانیه” [4]   ازدواج اور زندگی کے امور وغیره کو ترک کر نے کا طریقه که بعض افراد ( جیسے پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے صحابی عثمان بن مظعون ) نے اختیار کیا تھا ، آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم ان سے راضی نهیں تھے، اس لئے آپ(ص) نے فر مایا:

” خدا وند متعال نے همیں رهبانیت کے لئے نهیں بھیجا هے، بلکه همیں ایک معتدل، آسان اورمشکلات سے عاری دین کے ساتھـ مبعوث فر مایا هے – میں روزے رکھتا هوں اور اپنی بیویوں سے (معاشرت کرتا هوں) جو بھی همارے دین فطرت کو پسند کرتا هے ، اسے میری سنت اور روش پر عمل کر نا چاهئے اور ازدواج میری روش اور سنت هے …[5]“اس فضا اوراس نقطه نظر سے ازدواج نصف ایمان کو مکمل کر نے والا شمار هوتا هے ، اور اس قسم کی تعبیرات معصومین علیهم السلام کی طرف سے بھی هم تک پهنچی هیں-

یه ایک عرفی امر هے که اگر هم اپنے کسی دوست کے لئے کسی کام کی اهمیت بیان کر نا چاهتے هیں تو اس سے کهتے هیں که اگر یه کام انجام دو گے تو تم نے نصف راسته طے کیا هے اور آپ کی مشکلات کا ایک حصه اس لئے هے که تم فلاں کام کے مرتکب هو رهے هو اور حقیقت میں شاید اس معنی میں نهیں هوگا که اگرباریکی سے  حساب کیا جائے تو راسته کا نصف حصه مشکل هوگا، بلکه اس سے  مراد یه هے که یه کام مشکل کو حل کر نے میں یا مشکل پیدا  کر نے میں نمایاں کردار ادا کرتا هے-

لیکن اس امر سے بهی غفلت نهیں کی جانی چاهئے که ممکن هے بعض مواقع پر کسی چیز کی حقیقت دوچیزوں سے وابسته هو اور اس کے کمال تک پهنچنے میں دوسرے مسائل بھی دخیل هوں- مثلاً اگر کوئی ایسی روایت هوتی که صفائی نصف ایمان هے اور ازدواج بهی نصف ایمان هے، تو هم کهه سکتے تھے ایمان کی حقیقت دو بنیادوں پر استوار هے اور ان دو کے بغیر ایمان متحقق نهیں هوسکتا هے اور نماز روزه وغیره اس امر میں اس قدر دخیل هیں که اس ایمان کو مکمل اور قوی تر کرتے هیں ، کیو نکه ایمان ایک قلبی حالت هے که اس کو تقویت بخشنے میں متعدد عوامل موثر هوتے هیں-

حالانکه اس قسم کی تعبیر نهیں پائی جاتی هے اس کے علاوه اسلام میں نماز کی اهمیت اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے اثرات وغیره کسی سے پوشیده نهیں هیں –[6]   نماز دین کا ستون [7]هے اور ذکر پروردگارهے [8]اور هر متقی [9]کو اسلام کے اصولوں[10] میں سے ایک کے نزدیک کر نے والی، اعمال کی ترازو[11] …هے اور اس کو (عمداً یا اهمیت نه دینے کی وجه سے ) ترک کر نے والا کافر هے[12]– اسی طرح دوسرے اعمال جیسے روزه، جهاد ، ولایت وغیره کی بھی دین اسلام میں کافی اهمیت هے اور دینی کتابوں میں ان کے بارے میں پائی جانے والی تعبیرات سے یھ کم نهیں هیں-

البته پهلے بھی کها گیا که، صفائی انهی چیزوں تک محدود نهیں هے جو لوگوں میں مشهورهیں، بلکه وسیع تر معنی پر مشتمل هے ،شاید جمله حدث وخبث سے بدن کو پاک

کر نے، اور بد اخلاقی وغیر خدا سے دل کو پاکیزه کر نے پر مشتمل هو-اسی لئے بعض کتابوں میں رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے بعض روایتیں نقل هوئی هیں که آپ(ص) نے فر مایا:” بنی الدین علی النظافه” [13]– یا باب وضو ، غسل وغیره میں معصو مین علیهم السلام کے کلام میں صفائی “طهور” کے عنوان سے پایئ جاتی هے- [14]

آخر میں اس مطلب کا ذکر کر نا ضروری هے که” ایمان” اور” اجزاء و  وارکانِ ایمان” اور “اسلام ” اور “اجزائے اسلام ” وغیره سے مربوط روایتوں کی طرف رجوع کر نے سے مکمل طور پر واضح هوتا هے که اسلام وایمان کے اجزاء وارکان صرف ازدواج اور صفائی وغیره تک هی محدود نهیں هیں- جیسے:

١- ابو حمزه امام محمد باقر علیه السلام سے نقل کرتے هیں که حضرت (ع) نے فر مایا: “اسلام پانچ چیزوں پر استوار هے: نماز ،زکات،روزه ،حج اور ولایت…”[15]

٢- امام جعفرصادق علیه السلام اس سوال کے جواب میں ، که ایمان کے حدود کیا هیں؟ فر ماتے هیں: اس بات کی شهادت که پروردگار عالم کے علاوه کوئی خدا نهیں ے، پیغمبر (ص)، خدا کی طرف سے مبعوث کئے گئے هیں، خدا کی طرف سے جوکچھـ نازل هوا هے اس کا اقرار، نماز پنچگانه ، زکات ادا کرنا ، ماه رمضان کے روزے ، خانه خدا کا حج ، همارے دوستوں کی محبت اور همارے دشمنوں کی عداوت- [16]

٣- امام جعفر صادق علیه السلام نے امام محمد باقر علیه السلام سے اور انهوں نے حضرت علی علیه السلام سے نقل کیا هے که آپ(ع) نے فر مایا : ایمان کے چار ارکان هیں : خدا پر توکل کر نا ، امور کو خدا پر چھوڑ نا، قضائے الهی برتن به رضا هونا اور امر خدا کے مقابل میں سراپا تسلیم هو نا-[17]

٤- امام جعفر صادق علیه السلام نے فر مایا: ” خدا وند متعال نے ایمان کے سات حصے قرار دئے هیں: نیکی، سچائی، یقین ، رضا، وفا، علم ،اور حلم…”[18]


مزید  کیا بھشت اور جھنم میں بھی موت ھوتی ھے؟

[1] – بحار الانوار ،ج٥٩،ص٢٩١،باب٨٩، مستدرک الوسائل ، محدث نوری،ج١٦،ص٣١٩،باب استحباب تخلیل الانسان ،طب النبی، ابو العباس مستغفری ،ص١٩-

[2] – بحار الانوار، ج٤٢،ص ٢٤٥-

[3] – مستدرک الوسائل، ،ج٢،ص٥٣١،ح٢١-

[4] – بحار الانوار، ج٧٠٩،ص١١٥-

[5] – وسائل الشیعه،ج١٤،ص٧٤-

[6] – ملاحظه هو: عنوان ، نماز-

[7] – قال رسول الله (ص): “الصلوه عماد الدین”،بحار الانوار،ج٨٢،ص٢٠١، نیز قال علی (ع): “والله الله فی الصلوه فانها عمود دینکم “،نحج البلاغه نامه ی ٤٧-

[8] – سوره طه ،١٤-

[9] – ” الصلوه قربان کل تقی”، نحج البلاغه ، حکمت ١٣٦-

[10] – عن ابی جعفر(ع) انه قال: “بنی الاسلام علی خمسه اشیاء: الصلوه و…”، بحار الانوار، ج٨٢،ص٢٣٤-

[11] -قال رسول(ص) : “الصلوه میزان، من وفی استوفی”،الکافی،ج٣،ص٢٦٧،ح١٣،الفقیه،ج١، ٣٣،ح٦٢٢،وسائل الشیعه،ج٣،ص٢٢،ظ باب ٨،ح٨-

[12] – بحار الانوار،ج٨٢،ص٢١٦-٢١٧-

[13]محجه البیضاء ،ج١،ص٢٨١-  

[14] – ملا حظه هو : وسائل الشیعه ،کتاب الطهاره ،آداب الصلوه، امام خمینی،ص٩٤-٥٥ و…-

[15] – ملاحظه هو: بحار الانوار،ج٦٨،ص٣٢٩،نیز ص٢٢٥-٣٩٦-

[16] – ایضاً،ص٣٣٠،ح٤-

[17]– یضاً،ص٣٤٠ و٣٤١،ح١٢-

[18] – ایضاً ،ج٦٩،ص١٥٩-

تبصرے
Loading...