یه جو بعض او لیائے الهی ماکان وما یکون وماهو کائن (ماضی،حال اور مستقبل) کا علم رکھتے تھے ، کا مراد کیا هے؟

0 0

انسان کی اس طرح تخلیق هوئی هے که وه مختلف طریقوں سے معلومات کو حاصل کر سکتا هے، من جمله مندرجه ذیل راهوں سے:

١- رجحانات، غرائز اور شهوانی خواهشات : یه راه انسان کو اس کی فطری اور جسمانی ضرورتوں سے آگاه کرتی هے – جیسے بھوک ، پیاس اور احساس درد وغیره کا علم …

٢- فطرت: فطرت اسے بلند تقاضوں سے مطلع کرتی هے اور اس کی طرف کھینچ لیتی هے، جیسے: ایک برتر موجود (حس مذهبی وپرستش) سے وابستگی اور دل لگی کی حس ، حقیقت کی تلاش اور کمال حاصل کر نے اور زیبائی طلبی کی حس و…

٣- عقل سلیم: عقل سلیم انسان کو ابتدائی بدیهیات سے آگاه کرتی هے، جیسے: اجتماع کا استحاله یا نقیضین ، اصغریت، اکبریت ، تساوی اور تشابه کو رفع کر نا و… انسان ان ابتدائی بدیهیات کو بنیاد قرار دیتا هے اور ان کے ذریعه استدلال بر هان اور استنتاج تک پهنچتا هے اور جدید معلو مات حاصل کرتا هے-

٤- حواس خمسه( پنجگانه): حواس پنچگانه انسان کے جسمانی رابطه کے اپنے جسم سے اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے رابطه کسی صنعتی اوزار کے بغیر رابطه قائم کر نے کے وسیلے هیں – انسان کو اکثر معلو مات اس طریقه سے حاصل هوتی هیں ، یهاں تک که بعض لوگ دوسرے  تمام طریقوں  کو جھٹلا کر معلومات حاصل کر نے کے  صرف اسی طریقه کا اعتقاد رکھتے هیں اور انھیں حس گرایان یا حسیوں یا تجر بیون کها جاتا هے-

٥- وراثت: بعض معلومات ، وراثت کی صورت میں ، خاص جین (Gene)کے ذریعه انسان مین منتقل هوتے هیں اور مخفی حالت مین رهتے هیں اور ضرو رت کے وقت نمودار هوتے هیں ، چنانچه انسان کے بعض حالات و صفات بھی ایسے هی هو تے هیں-

٦- جادو، ستاروں کی حر کت، سحر، جنات سے رابطه قائم کر کے ، هپنا ٹیزم اور خواب اور اس کی تعبیر سے بعض اطلاعات کو حاصل کیا جاسکتا هے – اگر چه یه طریقه کسی حد تک غیر فطری اور خلاف عادت هے، لیکن اکثر دنیوی امور سے مربوط هے-

معلو مات حاصل کر نے کے مذکوره طریقے انسانوں کے در میان مشترک و قابل تعلیم و تعلم اور منتقل هیں اور ماهرین نفسیات ، معرفت شناس اور فلاسفه نےانھیں دوحصوں ،یعنی کلی اور حصولی میں تقسیم کیا هے – ان کی تفصیلات اپنی جگه پر بیان هوئی هیں اور اس مقاله میں اس کی بحث کو چھیڑنے  کی گنجائش نهیں هے-

٧- الهی لوگ ، معلو مات حاصل کر نے کے ایک اور طریقه کے معتقد هیں ، اس کا نام “غیب سے ارتباط” هے – لیکن ماده پرست اورصرف حس کے حامی ، غیب اور  ماورائے فطرت عالموں  کے منکر هیں اس لئے معلو مات حاصل کر نے کے اس طریقه کے سخت مخالف اور منکر هیں اس راه کا اعتقاد رکھنے والوں اور دعوی کر نے والوں پر سحر و جادو اور پاگل پن کا الزام لگاتے هیں- اس اهم طریقه کے اثبات و انکار کا مسئله تاریخ میں ایک اهم تنازعه کی صورت میں موجود تھا ایک طرف رسالت و نبوت کے مدعی اور دوسری طرف ان کے دشمن اور ضدی افراد اس سلسله میں لڑتے رهے هیں اور یه مسئله عھد صنعت اور علم وتمدن سے مخصوص نهیں هے[1]

اسلامی محقیقن کے مطابق خود یه راه بھی مختلف طریقوں سے حاصل کی جاسکتی هے:

١) قلبی الهامات سے، جس طرح حضرت موسی علیه السلام کی والده کو الهام هوا تاکه (بچه) حضرت موسی علیه السلام کو ایک صندوق میں رکھـ کر دریائے نیل میں ڈال دیں  اور خداوند متعال پر بھروسا کریں تا که خدا وند متعال حضرت موسی علیه السلام کو دوباره اپنی ماں کے پاس لوٹا کر اسے رسول کے عنوان سے مبعوث فر مائے-[2]

٢) سچے خواب: چنانچه حضرت ابراھیم علیه السلام کے بارے میں ان کے بیٹے اسماعیل علیه السلام کو ذبح کر نے کے لئے فر ماتا هے : ” ابراھیم (ع) نے اسماعیل(ع) سے کها: بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا که تجھے ذبح کر رهاهوں ، تیری رائے کیا هے ؟ اس نے کها: بابا !جو کچھـ آپ پر حکم هوا هے ، اسے انجام دیجئے ، خدا نے چاها تو آپ مجھے صابرین میں پائیں گے! “[3] اس کے علاوه پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کو خواب میں مستقبل میں فتح مکه کی اطلاع ملنا-[4]

٣) وحی: خود وحی بھی چار صورتوں میں حاصل هوتی هے :

الف: بلا واسطه صورت میں کلام الهی، مخاطب کے قلب یا سماعت میں داخل هو تا هے-

ب: ایک فرشته حقیقت میں ظاهر هو کر مخاطب کو وحی پهنچاتا هے-

ج: مخاطب ، فرشته کی صرف آواز سنتا هے اور پیغام کو حاصل کرتا هے، لیکن اسے نهیں دیکھتا هے-

د: فرشته انسان کی شکل میں ظاهر هو کر پیغام کو مخاطب تک پهنچاتا هے-[5] لیکن قابل توجه بات هے که مذکوره روابط کے لئے مخاطب کے نبی یا امام هو نے کی شرط نهیں هے، اگر چه کسی رسول یا امام کا اس رابطه کے بغیر تصور نهیں کیا جاسکتا هے ، دوسرے الفاظ میں تمام انبیاء واوصیاء کسی نه کسی طرح مذکوره رابطه رکھتے تھے ، بلکه ان میں سے ، مانند پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم مختلف زمانوں میں مذکوره تمام روشوں سے بهره مند هوئے هیں- لیکن ایسا نهیں هے که جو بھی اس قسم کا رابطه رکھتا هو، وه نبی یا وصی هو گا- پس نبی اور امام کی نبوت اور امامت ، دوسرے طریقوں سے ثابت هونی چاهئے، جیسے: نبوت و امامت کا دعوی کر نا، معجزات دکھانا ، پهلے نبی کی بشارت ، اپنے بعد والے وصی کی بشارت (نص) اور دوسرے تمام دلائل و شواهد- [6] اس لحاظ سے اگرچه حضرت زهراء (ع) اور حضرت مریم علیهما السلام و … حضرت جبرئیل  کے مخاطب قرار پائے ، لیکن نبی یا امام نهیں هیں-

٤- ماورائے فطرت کے عالموں  کی سیر، مکاشفه یا مکمل بیداری و هوشیاری میں یه سفر انجام پانا، جیسے، پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی  معراج-[7]

٥- ایسے اسناد کی طرف رجوع کرنا، جو ان کے اهل کے پاس هوں، جیسے قرآن مجید کے باطن کا علم اور معصو مین(ع) کے توسط سے اس کی آیات کی تاویلات اور تفسیر اور امام علی علیه السلام کے توسط سے جفر جامع کو دوسرے ائمه میں منتقل کر نا-

٦- او لیائے الهی کے لعاب دهن یا جھوٹے کھانے کے ذریعه معلو مات کا منتقل هو نا یا اولیائے الهی کے دم مسیحائی سے بهره مند هو نا ، جیسے کر بلائی کاظم ساروقی سے ظاهر هوئی کرامت اور ان پڑھ محض هو نے کے باوجود ایک هی نظر عنایت سے ان کا حافظ کل قرآن بن جا نا-[8]

مذکوره مطالب کی تفصیلات معارف اور نبوت ووحی کی بحث سے متعلق اکثر کتا بوں میں درج هیں – اس کے علاوه بعض اولیائے الهی اور علمائے دین کے مکا شفات کو تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں مطالعه کیا جاسکتا هے- لیکن جفر جامع کے بارے میں هم ذیل مین ایک مختصر وضاحت پیش کرتے هیں:

امام علی علیه السلام ، نهج البلاغه کے خطبه نمبر ٩٣ میں تشریح فر ماتے هیں که: ” میں بچپن سے هی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کے ساتھـ ساتھـ تھا، سوائے اس کے که کبھی خاص ماموریت پر چلا جاتا، میں کبھی رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم سے جدا نهیں هوتا تھا اور مسلسل آپ (ص) کی تعلیم وتر بیت کے سائے میں رهتا تھا-” امام (ع) اپنے علم غیب کے بارے میں فر ماتے هیں:” پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے مجھے اپنی آغوش میں لے کر اپنے بدن سے چپکایا اور اپنی زبان مبارک میرے منه میں ڈال دی- آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کے لعاب دھن سے میرے لئے علم کے هزار باب کھل گئے که هر باب سے مزید هزار باب کھلتے هیں-“[9]

ابو حامد غزالی نے لکھا هےکه : امام المتقین علی بن ابیطالب علیه السلام کے پاس ایک کتاب هے – اس کتاب کانام ” جعفر جامع الدنیا والآخره” هے – اور اس کتاب میں تمام علوم، حقائق، اسرار، علم غیب ، کائنات میں موجود اشیاء کی خصوصیت و اثرات ، اسماء و حروف کی خصو صیات و غیره درج هیںجوآپ(ع) کے علاوه رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کی طرف سے امامت وولایت کے مقام پر منصوص ، آپ(ع) کے گیاره فر زندوں کو وراثت میں ملے هیں – ان غیبی علوم کے بارے میں مذکوره مقدس ذوات مقدس کے علاوه کوئی آگاه نهیں هے “[10]

” اس کتاب میں ماضی ، حال اور قیامت تک مستقبل کے بارے میں هر ایک چیز لکھی گئی هے ، حتی که اپنی اولاد وذریات اور ان کے دوستوں اور دشمنوں کے نام تک اس میں درج هیںاور جوکچھـ ان پر قیامت تک گزرے گی وه بھی اس کتاب میں درج هے… یه جفر جامع نامی کتاب رمزی حروف میں لکھی گئی هے اور اس کے رمز کو سمجھنے کی کلید وراثت کے طور پر ائمه اطهارعلیهم السلام کے سپرد کی گئی هے اور ان کے علاوه کوئی شخص ان رموز کو سمجھنے کی قدرت نهیں رکھتا… اکثر واقعات اور قضایا جن کے بارے میں ائمه اطهار علیهم السلام خبر دیتے تھے ، اسی کتاب میں سے نکالتے تھے – وه امور کے بارے میں کلیات سے لے کر جزئیات تک سے باخبر تھے – خود اهل بیت(ع) پر اور شیعوں پر وارد هو نے والی مصیبتوں اور مشکلات کو اسی کتاب سے نکا لتے تھے ، جیسا که احادیث کی کتابوں میں مکمل اور وسیع پیمانے پر درج هوا هے…”[11]

یه جفر، بکری کی کھال تھی، جو جبرئیل کے حکم سے ذبح کی گئی تھی پھر اس کی  کھال کو دباغت کے ذریعھ تیار  کیا گیا تھا [12] ، پس غیب کی خبریں جبرئیل نے پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کو اور آپ (ص)نے علی علیه السلام کو املا کی صورت میں بتائی هیں اور حضرت علی علیه السلام نے انھیں اس قدر لکھا هے که یه پوری کھال حتی که اس کے دست و پا بھی پر هو گئےاور اس میں ماضی اور مستقبل کی تمام خبریں درج کی گئی هیں اور یه کھال وراثت کے طور پر ائمه اطهار علیهم السلام کو منتقل هوئی هے – البته ائمه اطهار علیهم السلام کا علم صرف اسی جفر جامع سے استفاده کر نے تک محدود نهیں تھا بلکه یه لوگ (ائمه اطهار) غیبی الهامات سے بهره مند اور مکا شفات اور عالم ملکوت سے رابطه رکھنے کے مالک تھے ،چنانچه امام حسین علیه السلام کے کربلا کی طرف سفر کے دوران مختلف منازل اور کر بلا میں اس کا مشاهده کیا گیا هے-اسی طرح یه لوگ ، سچے خوابوں سے بھی خبریں اور حوادث کے بارے میں قبل از وقوع باخبر هوتےتھے اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اس طرح خبر دیتے تھے که واضح اور روز روشن ان کے سامنے واقع هوئے هوں- قرآن مجید کی جو آیات غیب کو خداوند متعال سے مخصوص جانتی هیں یانبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے بارے میں علم غیب کی نفی کرتی هیں ، وه مذکوره مطالب سے منافات نهیں رکھتی هیں ،[13] کیونکه اس قسم کی آیات کی خود دوسری آیات سے تخصیص کی گئی هے جو اس پر دلالت کرتی هیں که خداوند متعال نے خود اپنے بعض بندوں کو کسی حد تک غیب سے آگاه کیا هے-[14]

دوسرے الفاظ میں ، خداوند متعال کا عالم غیب کے بارے میں علم ، ایک ذاتی وازلی علم هے – لیکن غیب کے بارے میں اولیائے الهی کا علم (جوتھا، هے اور هوگا) عرضی اور حصولی (خداسے حاصل کیاگیا) علم هے اور خدا کے اذن واجازت سے حاصل کیاگیا هے اور اسی مقدار تک محدود هے جس سے خدا نے انھیں مطلع فرمایا هے ، اس سے زیاده نھیں

دوسری جانب یه غیبی علم اس معنی میں نهیں هے ، که ان سے کوئی چیز مخفی نه هو، مثال کے طور پر تبوک کے سفر میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کا اونٹ گم هو گیا اور اس کے بارے میں کوئی اطلاع نهیں ملی، کسی نے طعنه دیتے هوئے کها که : آپ(ص) کیسے پیغمبر هیں که اپنے اونٹ کے بارے میں بھی خبر نهیں رکھتے هیں؟ پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم نے فر مایا: ” خدا کی قسم میں نهیں جانتا هوں، مگریه که خدا وند متعال مجھے تعلیم دے اور اس وقت مجھے خداوند متعال نے خبر دی هے که یه اونٹ فلاں جگه پر ناک کی نکیل ایک درخت سے پھنسنے کی وجه سے بند هوگیا هے، جاکر اسے لے آئیے-[15] چنانچه ایساهی واقعه حضرت امام صادق علیه السلام اور آپ(ع) کی کنیز کے بارے میں بھی پیش آیا هے-[16]

خلاصه یه که جو کچھـ واقع هواهے، هورهاهے اور مستقبل میں واقع هونے کے بارے میں اولیائے الهی کا علم، عالم غیب (ماورائے فطرت) سے رابطه برقرار هونے کے نتیجه میں هوتا هے اور یه عام طریقه کے ادراک سے بالاتر هے. لیکن اس عالم غیب سے رابطه کی بذات خود مختلف صورتیں هیں. بعض افراد کے لئے یه تمام موارد جمع هوتے هیں اور مختلف زمان و مکان میں ان سے بهره مند هوتے هیں اور بعض لوگوں کے لئے ممکن هے، ان صورتوں میں سے صرف ایک صورت میسر هو. اهم یه هے که ان صورتوں کا حاصل هونا اور ان کے درمیان فرق، افراد کے صفائے قلب اور روحانی توانائی سے نسبت رکهنے سے مربوط هے.

یه امر حد درجه اهمیت والا هے که عالم هستی کے مقدرات اور حوادث (دنیا و آخرت میں ) ان کی پیدائش سے پهلے ضبط و تحریر هوچکے هیں اور انسان کے اختیارات کو سلب کئے بغیر، پورے عالم هستی، من جمله انسان پر حاکم هیں اوردنیا کی نابودی کے بعد بھی وه حوادث، مضبوط اور مشخص صورت میں، باقی هیں اور هر انسان سے متعلق اس کے امور کو نامه عمل کی صورت میں اس کے حواله کیا جائے گا. اس مطلب کے پیش نظر غیب سے رابطه اور ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں گھری  اطلاع نے معنی پائے هیں اور اس کے بارے میں تصور کیا جاسکتا هے.[17]

منابع و مآخذ:

١- بی ریا، ناصر، روانشناسی رشد، ج١، سمت(دفتر همکاری)، چاپ١، ١٣٧٥، تهران.

٢- جوادی آملی، عبدالله، تحریر القواعد، الزهرا،چاپ١٣٧٥، تهران.

٣- جوادی آملی،عبدالله، حیات عارفانه ی امام علی علیه السلام، اسرا،چاپ ١، ١٣٨٠، قم.

٤- جوادی آملی، عبدالله، فطرت در قرآن، اسرا،چاپ٢، ١٣٧٩، قم.

٥- جوادی آملی، عبدالله، معرفت شناسی در قرآن، اسرا،چاپ٢، ١٣٧٩، قم.

٦- حسینی، نعمت الله، مردان علم در میدان عمل، دفتر نشراسلامی،١٣٧٥، قم.

٧-سبحانی، جعفر، فرازهایی از تاریخ اسلام، مشعر،طبع٢، ١٣٨١، تهران.

٨- سلطان الواعظین، شیرازی، شبهای پیشاور،ص٩٤٠-٨٦١، دارالکتب الاسلامیه، چاپ٤، ١٣٧٨ هـ.ق، تهران.

٩- کیاشمشکی، ابوالفضل، ولایت در عرفان، دارالصادقین، چاپ١،١٣٧٨،تهران.

١٠- مصباح یزدی، محمد تقی، آموزش عقاید،ج١-٢، سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ٦، ١٣٧٠، قم.

١١- مصباح یزدی، محمد تقی، معارف قرآن، ج٤-٥، موسسه آموزشی و پزوهشی امام خمینی(ره)، چاپ ١، ١٣٧٦، قم.


مزید  اگر کوئی شخص نماز میں " ولا الضالین " کے بجائے "ولا الزالین" کهے، تو اس نماز کا حکم کیا هے؟

[1]– قصص /٧،طه،٤٠-٣٧-

[2] – ذاریات/٥٢، حجر، ١٥- ١٠-

[3] – صافات ، ١٠٦ -١٠٢-  

[4]– فتح/٢٧-

[5] – شوری ،٥٢- ٥١-

[6] – ملا حظه هو: سبحانی ، جعفر، الالهیات ، ج٣،ص٦٥ و٢١٨-

[7] – اسراء ، ٢- ١، ملاحظه هو: تفاسیر ذیل این آیه کریمه-

[8] – ملاحظه هو: محمدی ری شهری، محمد، کر بلائی کاظم، مٶسسه در راه حق-

[9] – ملاحظ هو: شیرازی، سلطان الواعظین ، شبهای پیشاور، ، ص٩٢٧ -٨٦١-

[10] – ملا حظه هو: شیرازی ، سلطان الواعظین ، شبهای پیشاور،ص٩٣١-٩٢٨-

[11] – ایضا-

[12] – ایضا، ص٩٣٦- ٩٣١-

[13] – انعام، ٥٠ و٥٩، کهف، ١١٠، اعراف، ١٨٨، ھود، ٣٣، نمل، ٦٦، آل عمران، ١٧٤ و…

[14] – کهف، ٦٤، جن، ٢٦، آل عمران، ٤٣ و١٧٤، هود، ٥١، شوری، ٥٣-

[15] – سبحانی، جعفر، تاریخ پیامبر اسلام ،ص٤٨٠-

[16] – اصول کافی، ج١ ،ص٢٥٧، ملاحظه هو: آموزش عقاید، درس ٣٩، ص٣٧٤- ٣٦٨-

[17] ر،ک: نمایه ی، رطب و یابس وکتاب مبین در قرآن، سوال ١٨٧.

 

 

تبصرے
Loading...