ھم کیوں عراق کی مدد کرتے ھیں؟ جبکھ ھماری خود اپنی ضرورتیں ھیں، لوگ مھنگائی اور اشیاء کی کمی کی وجھ سے پریشانی میں مبتلا ھیں۔

0 0

اولاً: دوسرے ملکوں کو اسلامی جمھوریھ ایران کی مدد کی بنیاد صرف معنوی مدد ھے۔ نھ کھ مالی اور مادی مدد۔

ثانیاً: اگر دوسرے اسلامی ممالک کے لئے مادی اور مالی مدد بھی ھوگی تو اس کے بھت سے  مادی اور معنوی اثرات ھیں۔

الف : مادی اثرات : یھ کام ملک کی اقتصادی ترقی کا سبب بنتا ھے، کیونکھ اقتصادی ترقی کا سب سے اھم عامل دوسرے ممالک کے ساتھه تجارتی روابط کا ھونا اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ  کا حامل ھونا ھے۔ عالمی برادری میں سیاسی اثر و رسوخ بھی دنیا کے ممالک میں حامی اور مددکار ھونے، ان کے ساتھه اچھے روابط اور ان کی حمایت سے مالامال ھونے سے متعلق ھے۔ اسی لئے دنیا کے سبھی ممالک ، عالمی برادری میں اپنی حکومت کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لئے مختلف خطوں میں اپنے دوستوں اور حامیوں کی مادی اور سیاسی مدد کرتے ھیں اور اپنی دفاعی قوتیں پیدا کرتے ھیں۔

ب ) معنوی اثرات: یھ کام خدا کی خوشنودی کے علاوه ، شرعی[1] اور انسانی ذمھ داری کو نبھانے کے لئے ھے۔ جو دنیا میں انصاف پھیلانے، ظلم و ستم کے ختم ھونے اور اسلام اور انقلاب اسلامی کے مقاصد کو پھیلانے کا سبب ھوگا۔

ج) اس سلسلے میں ایک اھم نکتھ کی جانب توجھ کرنا نھایت ھی ضروری ھے اور وه یھ کھ دین اسلام، ملکوں کی جغرافیایی تقسیم کو، جسے استعمار نے مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور نفرت پھیلانے کی غرض سے انجام دیا ھے، ھر گز قبول نھیں کرتا ھے ۔ ۔

اسلام کا نقطھ نظر یھ ھے کھ مسلمان پوری دنیا میں ایک ملت ھیں۔ اسی لئے قرآن مجید اس کے بارے میں امت واحده کی تعبیر کرتا ھے۔ ” ان ھذه امتکم امۃ واحدۃ و انا ربکم فاعبدون” [2] اور سب اسلامی ممالک ایک ملک ھیں۔ جس کو فقھ اسلامی میں ” دار الاسلام “کھا جاتا ھے، جس کا ” دار الکفر “[3] کے مقابلے میں اطلاق ھوتا ھے۔

اسی لئے اسلامی ممالک کا سرمایھ ولی امر مسلمین کے ھاتھه میں ھے او وه جھاں بھی اسلامی امت کی صلاح ھوگی استعمال کرسکتا ھے، البتھ اگر جمھوری اسلامی کی حفاظت فقط اس پر بات پر موقوف ھو کھ اس سرمایھ کو ایران میں خرچ کریں تو ولی امر مسلمین قاعده “اھم کو مھم پر ترجیح دینے ” کے مطابق اس سرمایھ کو ایران میں ھی استعمال کرے گا۔ کیوں کھ عصر حاضر میں اسلامی جمھوریھ ایران مسلمانوں کی حکومت کا مرکز ھے۔[4]

اس مدعی کی دلیل یھ ھے: کھ ھم مشاھده کرتے ھیں کھ پورے اسلام ممالک میں شیعھ اپنے شرعی ارقام کو مراجع تقلید قم کے دفاتر میں ارسال کرتے ھیں۔ اور مراجع عظام ان اموال کو نیک کاموں خصوصا علم کے نشر و انتشار، اور علمی مراکز اور مدارس کے لئے ایران اور غیر ایران میں صرف کرتے ھیں۔ و۔۔۔


مزید  بعض کتابوں میں لکھا گیا هے که بعض افراد جوانى میں گناه کے مرتکب هوتے تھے لیکن بعد میں ان کے دلوں میں نور الهى متجلى هوتا هے اور وه مومن بن جاتے هیں، جیسے : رسول ترک جس نے امام حسین (ع) کے توسط سے نجات پائى هے­[وضاحت : مشهور هے که توبه سے پهلے رسول ترک، کو کسى شخص نے خواب میں کتے کى صورت میں امام حسین (ع) کے خیموں کى نگهبانى کرتے هوئے دیکھا تھا که یه کتا امام حسین (ع) کے خیموں میں غیروں کو داخل هونے سے روکتا تھا­ اس خواب کو بیان کرنا اس شخص میں ایک عظیم باطنى تبدیلى پیدا هونے کا سبب بنا اور اس نے توبه کى اور توبه کرنے کے بعد بلند معنوى مقام پر فائز هوا]لیکن سوال یه هے که امام حسین (ع) نے کیوں رسول کو اپنے گھر کے دروازے کے کتے کى صورت میں قبول فرمایا، میرا مراد یه هے که اس کو کیوں امام (ع) نے کتے کى صورت میں قبول کیا، کیا انسان کا مقام بلند نهیں هے، پس امام (ع) نے کیوں اسے خواب میں اپنے نگهبان کتے کى شکل میں قبول کیا ­ البته رسول ترک کے دوستوں سے میرا رابطه هے اور میں نےاس کے امام حسین (ع) کے توسط سے نجات بانے کى کتاب پڑھى هے؟؟!

[1]  اصول کافی ، کتاب ایمان اور کفر ، باب حق مومن بر مومن۔ حدیث ، ۱ ، ۲،۳ ، مزید اطلاع کیلئے کتاب معراج سعادۃ ص ۳۸۵ کی طرف رجوع کریں۔

[2]  سوره انبیاء / ۹۳۔

[3]  ھادوی تھرانی، مھدی ، ولایت و دیانت۔

[4]  ایران کے خلاف عراق کی طرف سے مسلط کئی گئ جنگ میں ، امام خمینی ( رح ) سے ایران یا لبنان یا سوریھ سے دفاع کی اولیت کے بارے میں ایک سوال پوچھا گیا۔ امام نے فرمایا: اولیت ایران سے دفاع کرنا ھے کیونکھ ایران اسلامی ممالک کا مرکز اور محور شمار کیا جاتا ھے۔

تبصرے
Loading...