گوناگون روز مره مصروفیتوں کے پیش نظر کیسے عبادتیں بهی انجام دی جا سکتی هیں؟

0 2

اس سوال کا مناسب جواب حاصل کر نے کے لئے مندرجه ذیل چند نکات کی طرف توجه کر نا ضروری هے :

١- عبادت ، خداوند متعال کی بندگی اور اس کے احکام واوامر کو بجالانے کے معنی میں هے[1] اور یه صرف نماز ودعا تک محدود نهیں هے ، اگر چه نماز سب سے بهتر عبادتوں میں سے هے- پس جو بهی شخص خداوند متعال کے احکام کو بجا لائے وه خدا وند متعال کی عبادت کی حالت میں هے-

٢-حلال رزق کے لئے کسب و کار کر نا یعنی ذریعه معاش کے لئے شرعی مسائل کی رعایت کے ساتھـ تلاش کر نا هے – پس یه کام کهیتی باڑی تک هی محدود نهیں هے، بلکه اگر کوئی شخص قانونی و شرعی شرائط کی رعا یت کرتے هوئے فکری کام ، جیسے انجینرئنگ یا طب(ڈاکٹری) کے ،ذریعه معاش کے لئے کوشش کرے، تو وه بهی حلال رزق کمانے میں مشغول هے-

٣- اگر آپ نے اس مسئله میں مبالغه نهیں کیا هے، یعنی صبح کے ساڑهے چار بجے سے رات کے باره بجے تک دن رات کے دوران تقریباً بیس گهنٹے کام میں مشغول هو، تو نه صرف آپ اپنی واجب عبادتوں کو انجام دینے میں غفلت سے دو چار هو ئے هیں ، بلکه دنیوی زندگی کے بهت سے کام ، جیسے آرام ، صحیح تفریح، بچوں کی تربیت اور خاندان کے روحی مشکلات کو حل کر نے کی طرف بھی توجه نهیں دے سکتے هیں اور یه عدم تعادل آپ اور آپ کے خاندان کو نا قابل تلافی نقصان پهنچا سکتا هے-

ایسا لگتا هے که آپ کے لئے ضروری هے که آپ اپنی خواهشات کو کم کر کے اور قناعت کی راه سے کام کاج کے لئے عادی وقت (روزانی ٨ سے ١٠ گهنٹے کام کر کے ) زندگی کی دوسری ضرورتوں کو پورا کر نے کے لئے کچھـ وقت صرف کریں – چنانچه ائمه اطهار علیهم السلام نے فر مایا هے : ” اپنی (روزمره) زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کرو- ایک حصه کسب ذریعه معاش کے لئے ، دوسرا حصه آخرت کی زندگی کے لئے اور تیسرا حصه سالم اور حلال سیر و سیاحت کے لئے [2]

لیکن اگر آپ اپنی زندگی کی ابتدائی ضروریات کو پورا کر نے کے لئے مذکوره حالت میں کام کر نے کے لئے مجبور هیں تو اس صورت میں اگر قصد قربت اور فریضه الهی انجام دینے کی نیت رکهتے هو، جو وهی کسب معاش هے اور اس کے علاوه اپنے واجب شرعی فرائض بهی انجام دیتے هو ، تو انشاء الله خدا وند متعال عبادات کے لئے مخصوص تمام ثواب آپ کو عنایت کرے گا –

٤- علمائے اسلام کا اصلی فریضه شب و روز علوم و معارف کو حاصل کر نا هے- وه اپنے دقیق پروگرام کے علاوه اپنی زندگی کے تمام لمحات سے بهترین صورت میں استفاده کرتے هیں اور مستحب عبادات خاص کر شب بیداری میں بھی مشغول رهتے هیں –

شائد آپ جانتے هوں گے که علم حاصل کر نا ایک مشکل کام شمار هو تا هے اور اسی لئے معاشره کے بهت کم لوگ تعلیم حاصل کر نے کی مشکلات کو برداشت کر سکتے هیں اور معاشره کے دوسرے افراد کی به نسبت علماء اور دانشوروں کی تعداد کم هو تی هے- شائد اسی لئے اسلام میں تعلیم حاصل کر نے کے کام کے برابر کسی اور کام میں ثواب نهیں هے [3]اور علماء کے کام کی قدر وقیمت شهداء سے بھی زیاده شمار کی گئی هے[4]


مزید  بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ، مثال کے طور پر اڈیسن نے بجلی ایجاد کر کے ایک بڑی خدمت کی ہے، کروڑوں انسان اس سے بہرہ مند ہو رہے ہیں، لیکن ایک روحانی جو ایک کونے میں بیٹھ کر قرآن پڑھتا ہے یا فقہ، فلسفہ یا تفسیر کا درس دیتا ہے، اس کا معاشرہ کے لیے کیا فائدہ ہے؟ یا یہ کہتے ہیں کہ ایک روحانی بیٹھ کر کوئی درس دیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ کوئی رسالہ لکھتا ہے۔ یہ کونسی خدمت ہے؟ لیکن مثال کے طور پر اس کے برعکس "لوئی پاسچر" نے انسانوں کے لیے ایک بڑی خدمت انجام دی ہے۔ اس کے اس کارنامہ سے کس قدر بیماروں کو شفا ملی ہے؛ اور اس طرح کی بہت سی باتیں کی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ایسی باتوں کا کیا جواب ہے؟

[1] – کافی،ج١،ص٤٣٩-

[2] – مکارم الاخلاق،ص٤٧٢-

[3] – عن ابی عبدالله (ع) قال : ” افضل العبادۃ ادمان التفکر فی الله وفی قدرته- ابا الحسن الرضا(ع) یقول : لیس العبادۃ کثرۃ الصلاۃ والصوم انما العبادۃ التفکر فی امرالله عز وجل ” – ملاحظه هو: کافی ،ج٢،ص٥٥-

[4] – ملاحظه هو : من لا یحضره الفقیه ،ج٤،ص٣٩٨-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.