کیسے اطمینان کیا جاسکتا هے که وعظ و نصیحت کرنے والے علماء اس کام کى لیاقت رکھتے هیں یا نهیں ؟

0 2

جواب واضح هونے کے لئے چند نکات کا ذکر کرنا ضرورى هے :

1ـ عالم کے علم کى قدر وقیمت : خداوندمتعال نے علم کى فضیلت اور اس کے مقام کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد فرمایا هے : ” قل ھل یستوى الذین یعلمون والذین لا یعلمون “[1] (کهدیجئے که کیا وه لوگ جو جانتے هیں، ان کے برابر میں جو نهیں جانتے هیں؟)

ایک دوسرى جگه پر ارشاد فرماتا هے : ” خداوند متعال، صاحبان ایمان اور جن کو علم دیا گیا هے ان کے درجات کو بلند کرنا چاهتا هے اور الله تمھارے اعمال سے خوب باخبر هےـ”[2]

روایات میں بھى علم و عالم کى قدرو قیمت اور عالم کى طرف رجوع کرنے کى ضرورت کو واضح طور پر بیان کیا گیا هے ـ

رسول خدا صلى الله علیه وآله وسلم نے فرمایا هے : ” جو شخص علم کو اهل علم سے سیکھے اور اس پر عمل کرے وه نجات یافته هے ـ “[3]

مزید فرمایا : ” عالم کے چهرے پر نظر ڈالنا عبادت هے ـ “[4]

ایک اور جگه پر علم کو حاصل کرنے کى ضرورت بیان کرتے هوئے آنحضرت صلى الله علیه وآله وسلم نے فرمایا هے : ” علم حاصل کرنا هر مسلمان مرد اور عورت پر واجب هے ـ”[5]

2ـ آیات وروایات سے معلوم هوتا هے که دین اسلام، ایک دائمى اور لافانى دین هے اور اس کے قوانین قیامت کے دن تک انسان کے لئے لازم الاجرا هیں، اس لئے انسان کے لئے ضرورى هے که اسلام کے تمام احکام کو سیکھـ لے اور اس مقصد تک پهنچنے کے لئے دو طریقوں کے علاوه کوئى تیسرا طریقه نهیں هے : یا یه که خود انسان اپنے علمى سرمایه کے ذریعه فقهى و دینى منابع کى طرف رجوع کر کے احکام اورمسائل کو ان سے استخراج کرے اور اگر خود علمى توانائى نه رکھتا هو تو اهل فن اور ماهرین (فقها) کى طرف رجوع کرے ـ[6]

3ـ پیغمبر اسلام صلى الله علیه وآله وسلم اور ائمه اطهار علیهم السلام نے لائق اور موزون علما کو پهچاننے کے لئے کچھـ معیار بیان فرمائے هیں، که هم یهاں پر ان میں سے بعض کى طرف اشاره کرتے هیں :

حضرت امام حسن عسکرى علیه السلام نے اس آیه شریفه : ” فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم، ثم یقولون ھذا من عند الله ـ ” (وائے هو ان لوگوں پر جو اپنے هاتھـ سے کتاب لکھـ کر یه کهتے هیں که یه خدا کى طرف سے هے) کے بارے میں یوں فرمایا هے که : ” یه آیت قوم یهود کے بارے میں نازل هوئى هے ـ” ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے پوچھا :” اگر یهودیوں کےعام لوگ کتاب (توریت) کو اپنے علما سے سیکھتے تھے ، پس کیوں ان کے علماء کى تقلید کرنے پر سرزنش کى گئى هے ؟ مگر یهودى عوام، همارے عوام کے مانند نهیں تھے جو علماء کى تقلید کرتے هیں؟ امام صادق علیه السلام نے جواب میں فرمایا : همارے عوام اور یهودى عوام ایک لحاظ سے برابر هیں اور دوسرے لحاظ سے ان کے درمیان فرق هے البته برابرى اس لحاظ سے هے که خداوند متعال نے همارے عوام کو ان کى تقلید کى وجه سے سرزنش کى هے، جس طرح ان کے عوام کى سرزنش کى هے ـ لیکن فرق اس لحاظ سے هے که یهودی عوام اپنے علما کے کھلم کھلا جھوٹ بولنے، حرام کھانے اور رشوت لینے اور احکام خدا میں مداخلت کرنے سے باخبر تھے اور یقین رکھتے تھے که جو بھى ایسا هو وه فاسق هے اور لائق نهیں هے که وه خدااور اس کے بندوں کے درمیان واسطه بن جائے، لیکن پھر بھى ایسے علما کى تقلید اور پیروى کرتے تھے ـ همارے عوام بھى اگر اپنے علما کا فسق واضع هونے، بے جا تعصب، دنیا پرستى اور فعل حرام کا مشاهده کرنے کے باوجود ان کى تقلید کریں تو وه بھى یهودیوں کے مانند هیں جن کى خداوند متعال نے فاسق علماء کى تقلید کرنے کے سبب مذمت کی هے ـ لیکن جو علماء میں سے اپنے نفس کا نگراں، دین کا محافظ، نفسانی خواهشات کا مخالف اور خد کے فرمان پر اطاعت کرنے والاهو، عوام پر واجب هے که اس کی تقلید کریںـ اور یه خصوصیات شیعوں کے بعض فقها میں پائى جاتى هیں، نه سبوں میں ـ پس علماء میں سے جو برے اور قبیح اعمال کا مرتکب هو جائے، دوسرے فاسق فقها کی راه پر چلے، تو اگر وه هم سے کوئے چیز نقل کرے تو اسے قبول نه کرنا اور اس کا احترام نه کرنا[7]ـ”

رسول اکرم صلی الله علیه و آله و سلم نے فرمایا: ” هر عالم کے ساتھـ مصاحبت نه کرنا، مگر اس عالم کے ساتھـ جو آپ کو پانچ خطرناک چیزوں سے پانچ فائده بخش چیزوں کی طرف دعوت کرے: شک سے یقیں کی طرف، تکبر سے تواضع کی طرف، گیا اور تظاهر سے اخلاص کی طرف، دشمنی و کینه توزی سے خیر خواهی کی طرف اور دنیا کی رغبت اور رجحان سے زهد اور دنیا سے بے رغبتی کی طرف[8] ـ “

4ـ اسلام کے دستورات کے مطابق، علم، دانش و حکمت مومن انسان کی گم شده چیز هے اور جهاں پر اور جس کے پاس بھی اسے پائے اس سے استفاده کرتا هے[9]ـ یعنی مومن انسان، علم و حکمت اور اپنے وجود کی اصلاح کرنے کے در پے هوتا هے اور جو بھی بات عقل و حکمت کی بنیاد پر هو اسے قبول کرتا هے اور امام علی علیه السلام کی پیروی کرتے هوئے خود بیان و بات کی طرف نظر کر تاهے نه بیان کرنے والے کی طرف[10] ـ البته اس روش کے مطابق اگرانسان بولنے والے شخص کی خصوصیات اور طرز عمل سے آگاهی رکھتا هو اور اس کے قول و فعل میں تضاد پاتاهو تو اس کے بیان کا اثر کم هوگا، اگر چه اس کا کلام حکمت کى بنیاد پر بھی هو، لیکن ایسے موقع پر بھی انسان دینی تعلیمات کی بناپر اس کے علم و حکمت سے استفاده کرسکتا هے ـ


مزید  جن افراد کی ماں سید ہے، وہ سید کیوں شمار نہیں ہوتے، جبکہ حضرت زہرا{ع} کے تمام فرزند سید ہیں؟ شکریہ۔

[1]  زمر، 9.

[2]  مجادلھ، 11.

[3]  عوالى اللئالى، ج 4 ، ص 77; کافى، ج 1، 46.

[4]  بحار، ج 1 ، ص 195.

[5]  تنبیه الخواطر، ج 2، ص 176.

[6]  راھنماى حقیقت، آیت الله جعفر سبحانى، ص 577.

[7]  الحیاۃ، ترجمعھ احمد آرام، ج 2، ص 571.

[8]  بحار، ج 1، ص 38.

[9]  سھل بن زیاد عن بکر بن صالح عن ابن سنان عن عمروبن شمر عن جابر عن ابی عبد الله ع قال الحکمۃ ضالۃ المومن فحیشماوجد احدکم ضلالتھ فلیا خزھا، کافى، ج8، ص 167.

[10]  “خدا الحکمۃ ممن اتاک بھا و انظر بھا الى ما قال ولا تنظر الى من قال ” غیر الحکم، ص 58.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.