کیا SMS کے ذریعے طلاق پڑھنا صحیح ھے۔

0 0

شارع مقدس نے طلاق کے صیغے کو جاری کرنے کیلئے دونوں مرد اور عورت کے لئے کچھه شرائط معین کئے ھیں جو مندرجھ ذیل ھیں۔

الف : طلاق دینے والے ( مرد) کے شرائط یوں ھیں: [1]

ا۔ عاقل ھو ( پاگل نھ ھو)

۲۔ بالغ ھو ( بچھ نھ ھو)

۳۔ اپنی بیوی کو قصد اور اختیار کے ساتھه طلاق دے ، ( شوخی ، اور اکراه (مجبوری) کے ساتھه طلاق نھ دے)

ب: عورت کیلئے شرائط اس طرح ھیں:

ا۔ دائمی زوجھ ھو، ( موقت نھ ھو)

۲۔ خون حیض اور نفاس سے پاک ھو، اگر عورت حیض یا نفاس کے ایام میں ھے تو اس کا طلاق دینا صحیح نھیں ھے۔

ج : طلاق کے صیغے کے بھی شرائط مندرجھ ذیل ھیں:

۱۔ صیغھ ، خاص شرعی ھو۔

۲۔ صیغه ، گفتار اور لفظ اور کلمات کے ذریعے ادا ھو ، لکھنے یا اشاره کرنے سے طلاق واقع نھیں ھوتی مگر یھ کھ مرد گونگا ھو۔ [2]

۲۔ طلاق دو شاھد عادل ( مرد ) کے سامنے واقع ھو۔

پس جو طلاق تلیفون یا SMS   کے ذریعے واقع ھو۔ حتی  کھ  شوھر کی جانب سے  وه صحیح نھیں ھے، کیوں کھ طلاق، لفظ ، گفتار کے ذریعے واقع ھونا چاھئے اور دو شاھد عادل کی موجودگی میں ھو، اس کے علاوه عورت کا حاضر رھنا شرط نھیں ھے کیوں کھ طلاق ایقاعات میں سے ھے۔ یعنی ایک طرف انشا [3] کرنے سے واقع ھوتی ھے جو صرف شوھر یا اس کا وکیل انشاء کرسکتا ھے۔[4]

ھاں،  جب طلاق اپنے پورے شرائط کے ساتھه واقع ھوجائے تو شوھر یا کوئی اور فرد ھر طریقے سے حتی کھ SMS کے ذریعے عورت کو اس کی اطلاع دے سکتا ھے۔

حضرت آیۃ اللھ مکارم شیرازی ( مد ظلھ العالی) کے دفتر کی جانب سے جواب:

کافی نھیں ھے۔

حضرت آیۃ اللھ فاضل لنکرانی کے دفتر کی جانب سے جواب:

نھیں، طلاق کو اپنی شرائط کے ساتھه انجام پانا چاھئے ۔ ھاں اس کے ذریعے طلاق کے واقع ھونے کی خبر دی جاسکتی ھے۔

حضرت آیۃ اللھ بھجت ( مد ظلھ العالی) کے دفتر کی جانب سے جواب:

طلاق کو ،  دو عادل شاھد، کی موجودگی اور دیگر شرائط کے ساتھه انجام پانا چاھئے۔


مزید  کیا مردوں کے لئے عورتوں کی انڈرویر پهننا مذهب اهل سنت میں حرام هے؟

[1]  اسلام کے نقطھ نظر سے طلاق کا اختیار صرف مرد کے پاس ھے۔

[2]  تحریر الوسیلۃ ، کتاب الطلاق ، القول فی الصیغه۔ ، مسئلھ ۳ ص ۷۶۵، ، توضیح المسائل مراجع ، ج۲ ، ص ۵۲۲ ، مسئله ۲۵۰۸

[3]  فقه کی اصطلاح میں انشاء سے مراد وه صیغه ھے جو صرف ایک طرف سے پڑھا جاتا ھے ، یعنی طلاق صرف ایک طرف سے ایجاد اور متحقق ھوتی ھے۔

[4]  تحریر الوسیلۃ ۔ کتاب الطلاق، ۔ القول فی شروطه ، ص ۷۶۲،۷۶۷

تبصرے
Loading...