کیا وقف شده زمین پر تصرف کیا جا سکتا هے ؟ اور کیا اسے بیچا جا سکتا هے ؟

0 0

اس سلسله میں مراجع کرام کے فتوے کی طرف توجه فرمایئے :

آیت الله العظمیٰ خامنه ای (مدظله العالی):

اگر زمین کا وقف هونا ثابت هے اور زمین کھیتی کے لائق هے تو کھیتی کے سوا اسے استعمال کرنا جائز نهیں هے اور اگر کھیتی کے قابل نهیں هے تو شرعی متولی زمین کرایه پر دے سکتا هے تا که وه وهاں بلڈنگ بنائے لیکن بیچنے کا حق نهیں هے ۔

آیت الله العظمیٰ مکارم شیرازی (مدظله العالی):

یقیناً زمین وقف هے اور سوال کی روشنی میں اسے موجوده قیمت کے مطابق کرایه پر مکان بنانے کے لئے دیا جا سکتا هے اور هر تین سال پر اجاره نامه کی تجدید هونی چاهئے ( جس طرح قم میں حضرت معصومه (س) کے لئے وقف شده زمین کے لئے انجام پاتا هے اور اس کی آمدنی وقف نامه میں مذکور موارد میں صرف هونی چاهئے ۔

مزید  کیا فدک کے بارے میں حضرت علی [ع] کی یه حدیث قابل اعتبار ھے که فرماتے ھیں:" بیشک مجھے شرم آتی ھے که ایک ایسی چیز کو لوٹا دوں جس کے بارے میں ابوبکر اور عمر نے منع کیا ھے؟"
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.