کیا نماز جمعھ کے خطبے کو اذان سے پھلے پڑھا جاسکتا ھے ، اور کیا دو خطبوں کے درمیان اذان دی جاسکتی ھے؟

0 0

آپ کے سوال میں ابھام ھے یعنی آپ کے سوال کو دوسوالوں میں تقسیم کیا جاسکتا ھے اگر چھ یھی معلوم ھوتا ھے کھ آپ کی مراد وھی ھے جو ھم پھلے سوال کے طورپر بیان کریں گے۔

۱۔ کیا نماز جعمھ کا پھلا خطبھ اذان سے  پھلے پڑھا جاسکتا ھے۔ اور  کیا  دونوں خطبوں کو اذان سے پھلے یا اذان کے بعد پڑھا جاسکتا ھے۔

۲۔ کیا دونوں خطبوں کے درمیان اذان واجب ھے۔

پھلے سوال کے بارے مراجع عظام تقلید نے فرمایا:

حضرت امام خمینی (رح):

نماز جمعھ کا وقت سورج کے زوال سے شروع ھوتا ھے جب تک کھ شاخص کا سایھ دو قدم (پاؤں ) تک پھنچ جائے ، لیکن احتیاط واجب یھ ھے کھ زوال ظھر کی ابتدا  سے دیر نھ کرے ( جو عُرفاً ظھر کا اول وقت ھے ) اور اگر دیر ھوگئی تو احتیاط  مستحب  یھ ھے کھ نماز ظھر پڑھی جائے۔

 جایز ھے کھ دونوں خطبے شرعی ظھر سے پھلے پڑھے جائیں اس طرح کھ خطبوں کی انتھا شرعی ظھر سے برابر ھو لیکن احتیاط مستحب ھے کھ انھیں ظھر کی اذان(وقت) کے بعد پڑھیں۔

اگر امام نے خطبوں کو پھلے شروع کیا اور زوال کے وقت تک مکمل کیا اور نماز  جمعھ کو شروع کیا تو صحیح ھے۔

حضرت آیۃ اللھ مکارم شیرازی ( مد ظلھ العالی)

نماز جمعھ کا وقت اول ظھر سے اس وقت تک ھے کھ اذان اور خطبے اور نماز معمول کے مطابق انجام پاجائیں اور اِس وقت کے گزرنے کے ساتھه ساتھه نماز جمعھ ختم ھوجاتی ھے۔

احتیاط واجب یھ ھے که نماز جمعھ کے دونوں خطبوں کو ظھر داخل ھونے کے بعد پڑھیں۔

حضرت آیۃ اللھ فاضل العظمٰی لنکرانی ( رح)

نھیں ۔ ضروری نھیں ھے اگر امام خطبوں کو زوال سے پھلے شروع کرے اور زوال تک مکمل کرے تو نماز جمعھ صحیح اور اس میں کوئی فرق نھیں ھے کھ اذان کا وقت خطبھ کے کس جگھ پر ھو۔

حضرت آیۃ اللھ العظمٰی تبریزی ( رح)

احتیاط واجب کی بنا پر نماز جمعھ ، کے دونوں خطبے ظھر شرعی کے بعد پڑھیں جائیں اور ظھر سے پھلے ان کا پڑھنا جایز نھیں ھے ۔ اگر چھ خطبوں کا مکمل کرنا ظھر شرعی سے مساوی ھو ۔ [1]

حضرت آیۃ اللھ سیستانی ( مد ظلھ العالی )

وقت کا داخل ھونا نماز جمعھ کے واجب ھونے کی شرائط میں سے ھے اور وقت کا داخل ھونے کے مطلب سورج کا زوال ھے (یعنی ظھر کا وقت ) اور اس کا عرفی وقت زوال کا ابتدائی وقت ھے پس اگر اس وقت سے نماز جمعھ میں تاخیر کی گئی تو اس کا وقت ختم ھوا ھے اورنماز ظھر پڑھنا چاھئے۔

ظھر سے پھلے خطبھ کا پڑھنا اشکال رکھتا ھے۔[2]

دوسرے سوال کے بارے میں:

حضرت آیۃ اللھ العظمٰی سیستانی ( مد ظلھ العالی )

دو خطبوں کے درمیان اذان واجب نھیں ھے اور دوخطبوں کے درمیان کا فاصلھ ایک مرتبھ بیٹھنا ھے و اللھ اعلم

حضرت آیۃ اللھ الظمٰی فاضل لنکرانی (رح) :

ایک اذان خطبے سے پھلے اور ایک اذان خطبے کے بعد دینا جایزنھیں [3]

حضرت آیۃ اللھ العظمٰی مکارم شیرازی (مد ظلھ العالی )

ضروری نھیں ھے۔


مزید  بیمار مسافر کے احکام کیا هیں؟

[1] توضیح المسائل ( المحشی للامام الخمینی ) ج۱ ص ۸۴۷ ، احکام نماز جمعھ، مسئلھ ۱۵ اور ۱۶ اور ۲۷۔

[2]  ایضا ۸۶۱

[3]  ایضا ص ۸۵۴، مسئلھ ۴۰۔۔

تبصرے
Loading...