کیا لیلۃ المبیت میں حضرت علی (ع) کی جان کو خطره میں ڈالنا خداوند متعال اور پیغبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی طرف سے ان کی جانشینی کے منافی نهیں هے؟

0 0

اس سوال کے جواب کے سلسله میں دو مسائل واضح هونے چاهئے :

1ـ پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کے بعد علی علیه السلام کی جانشینی کا قطعی هونا ـ

2ـ هجرت کی رات کو آنحضرت (ص) کے بستر پر سوکر حضرت علی علیه السلام کی جان کا خطره سے دوچار هونا آپ (ع) کی جانشینی کے منافی نهیں هے ـ

پهلا مسئله سنی اور شعیه روایات میں مکمل طور پر واضح و روشن هے که هم یهاں پر ان میں سے بعض روایتوں کی طرف اشاره کرتے هیں:

1ـ حدیث یوم الدار:[1] اس آیت، “و انذر عشیرتک الاقربین” کی تفسیر میں، “براء بن عازب” سے روایت هے که اس نے کها :”جب آیه “وانذر عشیرتک الاقربین” (پیغمبر: آپ اپنے قریبی رشته داروں کو ڈراریئے) نازل هوئی، علی (ع) نے کها: پیغمبر (ص) نے مجھے بلایا اور فرمایا : یا علی ! خدا نے مجھے حکم دیا هے تاکه اپنے نزدیک ترین رشته داروں کو اس کی طرف دعوت دیدوں اور میں اس سلسله میں فکرمند هوں که اگر ان کو دعوت دیدوں تو مزید اور نئی ناراحتی کے علاوه کوئی چیز نهیں دیکھتا هوں، لهذا میں نے خاموشی اختیار کی یهاں تک جبریئل نازل هوئے اور پیغام لائے که اگر اس کام کو انجام نه دیا تو پروردگار تجھے عذاب کرے گا! (اب تم یا علی) همارے لئے غذا فراهم کرنا اور بھیڑ کی ایک ران پکانا اور قدرے دودھ فراهم کرنا، اس کے بعد عبدالمطالب کے فرزندوں کو دعوت دینا تاکه میں ان کے ساتھـ گفتگو کروں اور جس چیز کے لئے مامور هوا هوں اسے پهنچادوں ـ علی (ع) کهتے هیں: جو کچھـ مجھے حکم دیا گیا تھا میں نے اسے انجام دیا اور میں نے انھیں دعوت دی اور اس دن چالیس افراد سے زیاده جمع هوئے کم تر نهیں تھے ـ ان کے درمیان آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کے کئی چچا موجود تھے، جب یه سب جمع هوئے تو پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) نے فرمایا : “آماده کئے گئے کھانے کو لاو، جب میں نے کھانالایا، پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم) نے اس میں سے ایک چیز اٹھالی، میں نے خیال کیا که گوشت کا ایک ٹکڑا تھا، اسے دوحصوں میں تقسیم کرکے کھانے کے برتن میں ڈال دیا اور پھر فرمایا خدا کے نام سے شروع کیجئے ـ وه کھانا کھانے میں مشغول هوئے یهاں تک که سبوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ـ خدا کی قسم ان میں سے صرف ایک آدمی سبوں کے برابر دودھ پیتا تھا ـ اس کے بعد جوں هی رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) بات کهنا چاهتے تھے، ابولهب آگے بڑھا اور بولا : صاحب خانه نے آپ لوگوں کو اچھی طرح جادو کیا، لهذا لوگ اٹھـ کر متفرق هوگئے اور آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کو بات کرنے کی فرصت هی نه ملی ـ دوسرے دن مجھـ سے فرمایا اے علی! اس شخص نے پیش قدمی کی اورمجھے بات کهنے کی فرصت نهیں دی همیں چاره نهیں هے که اسی غذا کو پھر سے فراهم کریں اور اسی دودھـ کو تهیه کرکے ان لوگوں کو پھر سے دعوت دیں، میں نے حکم کے مطابق کھانا حاضر کیا اور انهوں نے اس کل کے عمل کو دهرایا، سبوں نے کھایا، پیا اور سیر هوگئے، اس کے بعد رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) نے فرمایا: اے عبدالمطلب کی اولاد! میں کسی عرب جوان کو نهیں جانتا هوں که جس نے اپنی قوم کے لئے اس سے بهتر فخر و مباهات لایا هو، جو میں نے آپ کے لئے لایا هے ، میں نے آپ کے لئے دنیا و آخرت کی خیر لائی هے اور خداوند متعال نے مجھے مامور کیا هے تاکه آپ کو اس کی طرف دعوت دیدوں ـ اپ آپ میں سے کون حاضر هے جو اس کام میں میرا تعاون کرے اور میرے بھائی ، وصی اور جانشین کے عنوان سے آپ کے درمیان هو؟ میں، باوجود دیکه، سب سے چھوٹا تھا، عرض کی، اے رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) میں آپ کے اس کام میں آپکا وزیر بن جاوں گا ! آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) نے میری گردن میں اپنے هاتھـ کو ڈال کر فرمایا: یه هے میرے بعد آپ کے درمیان میرا بھائی، وصی اور جانشین سبوں کو اس کی بات سننی اور اس کی اطاعت کرنی چاهئے، اس کے بعد لوگ هنستے هوئے اپنی جگهوں سے بلند هوئے اور ابوطالب سے مخاطب هوکر کها: محمد تجھے دستور دیتا هے تاکه اپنے بیٹے کی اطاعت کرو اور اس کی بات سن لو ـ”[2] اس حدیث کو احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں مختلف اسناد سے نقل کیا هے ـ[3]

حدیث منزلت: پیغمبر اسلام (صلی الله علیه وآله وسلم) نے حضرت علی علیه السلام سے فرمایا: “انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الاانھ لا نبی بعدی”[4] “میری به نسبت علی (ع) کا مقام وهی هے جو حضرت موسی (ع) کی به نسبت حضرت هارون (ع) کا مقام تھا، فرق صرف اتنا هے که میرے بعد کوئی پیغمبر اور رسول نهیں هوگا ـ”

ان احادیث سے بخوبی معلوم هوتا هے که پیغمبر اسلام (صلی الله علیه وآله وسلم) کی بعثت کے آغاز سے حضرت علی علیه السلام کی جانشینی قطعی تھی ـ

دوسرے مسئله ـــــ یعنی هجرت کی رات کو آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کے بستر پر سوکر حضرت علی علیه السلام کی جان کا خطره سے دوچار هونا آپ کی جانشینی کے منافی نهیں هے ــــــ کے بارے میں قابل ذکر بات هے که: مکه مکرمه میں پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی نبوت کے پورے تیره سال کے دوران، اسلام، ناقابل برداشت مشکلات اور دباو سے دوچار تھا اور بعض اوقات مسلمان ان مشکلات اور دباو سے بچنے کے لئے (پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم کی اجازت سے ) دوسری سرزمینوں میں هجرت کرتے تھے ـ اسی سلسله میں چونکه مکه کے باهر اسلام کے پھیلنے کے امکانات زیاده تھے اس لئے بعثت کے تیرھویں اور جودھویں سال تقریباً 90 فیصدی مسلمانوں نے یثرب (مدینۃ النی) کی طرف هجرت کی ـ[5] صرف چند افراد آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کے ساتھـ مکه میں رهے اور مشرکین مکه مسلمانوں کے اس طریقه کار سے بهت پریشان هوئے اور دارالند وه (مشکرین کی فیصله کرنے کی مجلس) میں جمع هوئے اور مسلمانوں کے یثرب (جو مکه کی رگ حیات کو قطع کرسکتا تھا) کو بعنوان مرکز منتخب کرنے پر خطره کا احساس کیا اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کو قتل کرکے نبوت اور وحی کو جڑ سے اکھاڑ نے کا فیصله کیا اور اس کام کے مقدمات کو فراهم کیا ـ لیکن خداوند متعال (والله خیر الماکرین)[6] نے پیغمبر (ص) کو اس سازش سے آگاه کیا ، اب پیغمبر (ص) کو کیا کرنا چاهئے تھا؟

علی علیه السلام کا انتخاب:

اب پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کفار کے نقشه سے آگاه هوچکے هیں اور انھیں فوراً اس کے لئے چار جوئی کرنی چاهئے تاکه اسلام کو اس خطره سے بچالیں اور مکه میں اپنے نامکمل اور ادھورے کام کو کسی قابل اعتماد شخص کے ذمه رکھیں تاکه وه انھیں انجام دے ـ اس کام کے لئے سب سے بهتر اور مطمئن فرد کون هوسکتا هے؟ وه آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کے وهی وزیر، مشاور، برادر، همدم اور هم نفس هیں جن کی جانشینی کا حکم “یوم الدار” کے دن بارها عام لوگوں کے درمیان اعلان هوا تھا، چونکه آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) اس ماموریت کے لئے حضرت علی علیه السلام سے مناسب تر کسی کو نهیں پاتے هیں اس لئے اپنے بهترین یاور کو تلوار کھینچی هوئے جنگووں کے درمیان تنها چھوڑتے هیں اور امانتیں ادا کرنے اور آپ (ص) کے خاندان کے افراد کو مکه سے مدینه منتقل کرنے کے لئے مامور قرار دیتے هیں کیا یه عقلمندی هے که انسان اپنے نفس اپنے وارث اور علوم نبوی کے حامل کو بستر مرگ پر تنها چھوڑ کر اس کی جان کو خطره سے دوچار کرے ؟ جی هاں! انھیں چند دلائل کی وجه سے یهی کام انجام دینا چاهئے تھا:

1ـ خداوند متعال کی اطاعت:

همارے لئے مسلم هے که قرآن مجید کے صریح اور واضح حکم کے مطابق رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) کبھی اپنی نفسانی خواهشات کے مطابق بات نهیں کرتے تھے اور جو بھی بیان فرماتے تھے، وه خدا کی طرف سے وحی هوتی تھی ـ[7] اور یه امر بھی غیر معمولی اهمیت و حساسیت کے پیش نظر قطعا خدا کے حکم کے مطابق تھا ـ

2ـ پیغمبر (ص) کی جان اور رسالت کی حفاظت:

“لیلۃ المبیت” یعنی هجرت کی رات میں جب تمام دشمنوں نے آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کو قتل کرنے کا مصمم اراد کیا، مسلسل چوکس تھے، تاکه پیغمبر (ص) اپنے بستر سے ن اٹھیں، اور کبھی کبھی {آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کے موجود هونے کا اطمینان پیدا کرنے کے لئے} آپ (ص) کی طرف کنکریاں پھینکتے تھے ـ[8] تاکه اگر آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) اپنے کمرے سے باهر آگئے هوں تو فوراً انهیں گرفتار کرلیں ـ ان حالات میں سب جانتے تھے که آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) آئنده چند لمحات کے اندر قتل کئے جایئں گے اور اس کے بعد رسالت ، وحی اور نبوت کا کهیں نام و نشان باقی نهیں رهے گاـ ان لمحات میں دین کو بچانے کے لئے کیا کرنا چاهئے تھا؟

پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی جان کو “قطعا” بچانا چاهئے تھا ـ اگر اس وقت جب دین ابھی کمال کے مرحله تک نهیں پهنچا تھا رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) قتل کئے جاتے تو حضرت علی علیه السلام کی جانشینی کا کیا فائده تھا؟ پس امام علی علیه السلام کی جانشینی کا دستورات دینی کی اصل پر ایک فرع هے اور یه فرع سرور کائنات، پیامبرگرامی (صلی الله علیه وآله وسلم) کے وجود نازنین کو بچانے کے لئے هے ـ دشمن کی هوشیاری، دقت اور تقشه کے پیش نظر معمولی حرکت دشمن کو آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کے بستر پر عدم موجودگی کے بارے میں متوجه کر سکتی تھی ـ وهی اتفاق کئی گھنٹوں کے بعد واقع هوا اور دشمنوں نے پوری طاقت کے ساتھـ آنحضرت (ص) کا پیچھا کیا اور آپ (ص) کی مخفی گاه کے نزدیک پهنچے، لیکن کامیاب نهیں هوئےـ اس بناپر بیشک آنحضرت (صلی الله علیه وآله وسلم) کی جان کی حفاظت حضرت علی علیه السلام کی جان نثاری، ایثار اور سیکورٹی کی رعایت اور حفظ اسرار کے بغیر ممکن نهیں تھی ـ اور یه کام کسی اور سے انجام پانے والا نهیں تھا ـ

3ـ مکتب اسلام کے لئے اس حساس موڑ پر یه جاں نثاری اور ایثار و قربانی حضرت علی علیه السلام کی فضیلت اور شائستگی کو دوسروں کے لئے واضح کرتی هے ـ حضرت علی (علیه السلام) کی “لیلۃ المبیت” میں جاں نثاری کے بارے میں اتنا هی کافی هے که خداوند متعال کی طرف سے اس سلسله میں ایک آیت نازل هوئی اور اس کام کی خداوند متعال کی طرف سے تشویق کی گئی، جهاں پر ارشاد هوتا هے : “اور لوگوں میں وه بھی هیں جو (علی (ع) جیسے باایمان و جاںنثار، “لیلۃ المبیت” میں آنحضرت (ص) کے بسترے پر سوکر) اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے هیں الله اپنے بندوں پر بڑا مهربان هے ـ”[9]


مزید  کیا آپ زیارت جامعه کے ولایت سے متعلق اس جمله :" جعل صلواتنا علیکم وما خصنا به من ولایتکم" کے بارے میں تشریح بیان کر سکتے هیں؟

[1]  الطرائف، ج 1، ترجمھ، داود الھامی، ص 22 و 21 ـ

[2]  الطرائف، ج 1، ترجمھ، داود الھامی، ص 66 و 67 ـ

[3]  المسند، ج 1، ص 111، و 109 طبع مصر: ابن بطریق، العمدۃ، ص 42، اس حدیث کو علی بن برهان حلبی شافعی نے اس تفصیل کے ساتھـ سیره حلبی ج 1، ص 323 میں نقل کیا هے اور کهتا هے که پیغمبر اکرم نے علی علیه السلام سے کها : فانت احی و وزیری و وصیی و وارثی و خلیفتی من بعدی اس کے علاوه متقی هندی نے کنزالعمال ، ج 6، ص 397 میں اور ابوالفداء نے اپنی تاریخ میں ج 1، ص 116 میں اور نسائی نے اپنی کتاب حضائص ص 6 میں اور ابو جعفر اسکافی معتزلی نے کتاب “نقض العثمانیۃ” میں ابن بی الحدید ج 3 ص 263 سے نقل کرکے اور ابن سعد نے طبقات میں اس مضمون سے درج کیا هے ـ

[4]  علامھ امینی، الخدیر، حدیث منزلت اور دوسری کتابیں

[5]  ملاحظه هو : دیره رسول خدا(ص)، رسول جعفریان: سیره حلبی : تاریخ ابن اثیر: سبحانی، جعفر، تاریخ اسلام

[6]  سوره آل عمران، 53 ـ

[7]  سوره نجم، 3 ـ

[8]  ملاخظه هو: سیره حلبی ـ

[9]  “ومن الناس من یشری نفسھ ابتغاء مرضات الله و الله روف بالعباد” سوره بقره، 207 ـ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.