کیا قیامت کے دن سوال و جواب عمومی ھے؟ اس دن پیغمبروں سے سوال کیا جانا کس معنی میں ھے؟

0 0


سائٹ کے کوڈ
fa4546


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
13116

کیا قیامت کے دن سوال و جواب عمومی ھے؟ اس دن پیغمبروں سے سوال کیا جانا کس معنی میں ھے؟

قرآن مجید میں آیا ھے: “پس اب ھم ان لوگوں سے بھی سوال کریں گے اور ان کے رسولوں سے بھی سوال کریں گے۔” {اعراف:۶}
ایک دوسری جگه پر ارشاد فرماتا ھے :”اور تم سے یقیناً ان اعمال کے بارے میں سوال کیاجائے گا جو تم دنیا میں انجام دے رھے تھے۔”{نحل/ ۹۳}
مذکوره دوآیات کے بارے میں مندرجه ذیل دواھم سوال پیدا ھوتے ھیں:
۱۔ مذکوره آیات سے معلوم ھوتا ھے که قیامت کے دن سوال کیاجانا عمومی ھے اور اس میں انبیاء {ع} بھی شامل ھیں۔ اگر ایسا ھے تو، جو آیات و روایات بعض افراد کے حساب و کتاب کے بغیر بھشت یا جھن٘م میں داخل ھونے کی دلالت کرتی ھیں، کا کیسے معنی کیا جائے گا؟
۲۔ اگر بعض مومنین حساب کے بغیر بھشت میں داخل ھوں گے، تو کیا اس لحاظ سے انبیاء ان سے پست تر ھیں؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

مزید  شرعی لحاظ سے ، بینکوں یا قرض الحسنه کے اداروں سے سهو لتیں حاصل کر نے کا کیا حکم هے؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.