کیا قرآنی آیات اور دعائیں، کامیاب مطالعھ کرنے اور بھتر سیکھنے میں مؤثر ھیں؟

0 0

مطالعھ دقتِ نظر ، اور خاص توجھ سے کسی چیز کی جانب دیکھنے کو کھتے ھیں ، تا کھ وه چیز سمجھه میں آجائے اور اُس سے آگاھی حاصل ھو ، اس لئے مطالعھ حد درجھ  تامل ، غورو خوض اور فھم کے ساتھه ھوتا ھے اور جو بھی پڑھائی ان شرائط اور خصوصیات کے ساتھه نھ ھو اس کو مطالعھ نھیں کھتے [1] بے شک جھل کے اندھیروں سے نکلنے اور علم و آگاھی کی روشنیوں تک پھنچنے کیلئے ، بعض شرائط کو فراھم کرنے کی ضرورت ھے وه شرائط جن کو حاصل کرنے کے بغیر مطلوب اور مفید مطالعھ تک پھنچنا غیر ممکن ھے۔

ھم اس مقالے میں اس مبارک مقصد تک پھنچنے  کے لئے ایک کامیاب مطالعھ کے اھم ترین شرائط کی جانب اشاره کرتے ھیں۔

پھلی شرط: مطالعھ کرنے والے فرد کو بڑے شوق سے مطالعھ کرنا چاھئے کیوں کھ ھر کام کا اصلی محرک اس کام کے تئیں شوق اور دلچسپی ھے۔

دوسری شرط: شادابی ، انبساط ، حوصلھ اور صبر کے ساتھه مطالعھ کرنا۔ کیوں کھ کاھلی  اور بد مزاجی کے وقت صبر نھیں رھتا اور مطالعھ کرنے کی طاقت بھی ختم ھوجاتی ھے۔

تیسری شرط: مناسب اور شاداب  اوقات میں مطالعھ کرنا جیسے صبح اور سحر کے وقت جب سیکھنے اور یاد رکھنے کے لئے زیاده قوت ھوتی ھے۔[2]

اگر ھم پیشھ ورانھ  طور پر مطالعھ کرتے ھیں تو  ھم ھر وقت اور ھر جگھ مطالعھ کرسکتے ھیں  مطالعھ کرنے میں زمانھ اور اوقات کی کوئی قید نھیں ھے اور سب اوقات میں ھم لطف اندوز ھوسکتے ۔ کیوں کھ جو مختلف ٹیسٹ مطالعھ کے اوقات کے مناسب ھونے پر لئے گئے ھیں، اور جن میں مطالعھ کے اثر کو ناپا گیا ھے۔ ان میں یھ بات واضح ھوگئی ھے کھ کسی خاص وقت کی باقی اوقات پر کوئی ترجیح نھیں ھے ، البتھ یھ بات ثابت ھوئی ھے کھ رات بھرسونے کے فورا  بعد مطالعھ کرنا مطلوبه اثر نھیں رکھتا اور یھ مطالعھ کامیاب نھیں رھتا ھاں نیند سے اٹھنے کے ۲۰ یا ۳۰ منٹ بعد مطالعھ کرنا ٹھیک ھے اور اس کا اثر حسب دلخواه  رھتا ھے ۔

اگر ھم پیشھ ور مطالعھ کرنے والے نھیں جب بھی ھمیں مطالعھ کا شوق ھو مطالعھ کریں اور جب مطالعھ میں دلچسپی نھ ھو تو  ھمیں مطالعھ نھیں کرنا چاھئے۔

چوتھی شرط: مطالعھ با مقصد ھونا چاھئے ۔اور کتب اور موضوعات کو مھارت اور فھم کے مطابق منتخب کرنا چاھئے ، صحیح اور سائنسی روش کے مطابق مطالعھ کرنا خصوصا تیز پڑھنا  نھ کھ کلمھ بھ  کلمھ پڑھنا اور کلمات رک رک کر پڑھنے کی روش سائنسی اور علمی لحاظ سے نادرست ھے۔ کیوں کھ اس طرح مطالعھ کرنا ذھن کی ظرفیت کو معطل کرکے وقت کے ضایع ھونے کا سبب بنتا ھے۔ اس کے علاوه مطالعھ کرنے والے کو چوبیس گھنٹے کا نظام الاوقات بنا کر   خاص اوقات میں مطالعھ کرنا چاھئے   تا کھ یھ پروگرام ھفتوں، مھینوں اور سالوں سال تک چلتا رھے۔  اور ھر طرح کی بے نظمی اور پریشانی دور ھوجائے۔

پانچویں شرط: جو مطالعھ کرتا ھے اسے چاھئے کھ کوشش اور محنت سے اپنے مطالعھ کی عادت پر قائم رھے تا کھ کوئی چیز بھی اسے مطالعھ اور تحقیق کرنے  سے روک نھ سکے ، اور اپنی محنت اور جد و جھد سے علم کی بلند چوٹیوں کو سر کرسکے ۔

چھٹی شرط : محقق اور مطالعھ کرنے والے شخص کو چوبیس گھنٹوں میں بعض ساعات کو آرام اور تفریح کےلئے مخصوص کرنا چاھئے اور ھر تیس یا چالیس منٹوں کے بعد ۵ یا ۱۰ منٹ آرام کرے تا کھ اپنی صحت اور سلامتی کے علاوه روحانی اور جسمانی طور پر تازه ھو کر دوباره مطالعھ اور تحقیق میں مصروف ھوجائے۔

ساتویں شرط: مطالعھ کرنے کی جگھ ، آرام اور ھر طرح کے  شور و غل سے دور اور ظاھری سجاوٹ سے خالی ھو اور جو چیز بھی توجھ ھٹانے کا سبب بنے وه چیز مطالعھ کی جگھ سے ھٹالینی چاھئے اسی طرح مطالعھ کی  جگھ پر مناسب روشنی اور درجھ حرارت بھی ھو۔

آٹھویں شرط: مطالعھ کرنے کے وسائل جیسے میز، کرسی ساده اورمعیاری ھونے چاھئیں اور مطالعھ کرنے والے شخص کو بھی ان  وسائل کے استعمال کرنے کی آگاھی ھونی چاھئے تاکھ  سائنسی اور طبی نکات کی جانب بھی توجھ کرسکے۔ مثال کے طور پر کرسی پر بیٹھنے اور اٹھنے کا صحیح طریقھ ، اور بیٹھنے کے دوران کچھه منٹ چلنا۔ مختصراور ھلکی کسرت کرنا اور صفحات کی سطح کو آنکھوں سے مناسب فاصلھ پر رکھنا ( کم از کم ۳۰ سینٹی میٹر ) تا کھ طویل  مدتی مطالعھ سے میں بیماری میں مبتلا نھ ھوجائے ،

نویں شرط: خلاصھ لکھنا اور کتاب کے اھم اور کلیدی موضوعات اور عناوین کو نوٹ کرنا اور جلی حروف سے مختلف مطالب کی درجھ بندی کرکے ان کے معانی پر زیاده دھیان دینا تا کھ یھ معانی زیاده دیر تک ذھن میں ره سکیں۔

دسویں شرط: خدا پر توکل اور ( اھل بیت علیھم السلام ) سے توسل اور باطنی طھارت اور معنویت کا زیاده خیال رکھنا  خصوصا ھمیشھ با وضو رھنا ، علم حاصل کرنے میں اھم کردار ادا کرتا ھے۔

گیارھویں شرط: مناسب غذا ، اور ذھن کو ضرورت کے مطابق خوراک مھیا کرنا تاکھ  اسے  سوچنے میں بھتر اعانت ملے۔ خوراک کا پروگرام بھی اسی ترتیب سے ھونا چاھئے تا کھ ذھن کو بھتر کام کرنے کیلئے ضروری مواد فراھم ھو ، دودھ سے بنی ھوئی اشیاء ، پروٹین ، غلات ، سبزیاں ، خشک اور تر میوے جیسے اخروٹ ، بادام ، وغیره کی سفارش کی جاتی ھے۔[3]

بارھویں شرط: اپنے دل کو خدا کی یاد اور ذکر سے نورانی کرنا اور خدا سے بھترفھم طلب کرنے کیلئے عربی زبان یا غیر عربی زبان میں دعا کرنا۔

حضرت رسول اکرم جو عالم ھستی میں سب سے زیاده عالِم ھیں خدا سے یھ دعا کرتے ھیں :” رب زدنی علما” پروردگارا میرے علم کو زیاده کر۔[4]

مندرجھ ذیل دعا کو پڑھنے کی سفارش کی جاتی ھے۔

“اللھم اخرجنی من ظلمات الوھم و اکرمنی بنور الفھم اللھم افتح علینا ابواب رحمتک و انشر علینا خزائن علومک برحمتک یا ارحم الراحمین ۔ ” خدایا مجھے وھم اور خیال کے اندھیروں سے باھر نکال اور نور کے فھم سے مجھے بزرگی  عطا کر۔ پروردگارا اپنی رحمت کے دروازے میرے اوپر کشاده کردے  اور اپنے علم کے خزانوں کو میرے لئے کھول دے ، تجھے  اپنی رحمت کی قسم اے سب سے مھربان”[5]

۲۔ اللھم انی اعوذ بک ان أضل او أضل اوأزل او أزل او أظلم او أظلم او أجھل او یجھل علی اللھم انفعنی بما علمتنی و علمنی ما ینفعنی و زدنی علما و الحمد للھ علی کل حال اللھم انی اعوذ بک من علم یا ینفع و من قلب لا یخشع و من نفس لا تشبع و من دعاء لا یسمع۔ [6]

پروردگارا تجھه سے پناه مانگتا ھوں گمراه ھونے سے یا گمراه کرنے سے، غلطی کرنے یا غلطی کرانے سے  ظلم کرنے سے یا ظلم کرانے سے نادان بننے سے  یا نادان بنانے سے ، پروردگارا! میرے علم کو میرے لئے فائده مند بنادے اور مجھے وه چیز سکھا دے جو مجھے فائده پھنچائے۔ میرے علم کے درجات کو زیاده کر ، ھر حال میں خدا کا شکر ھے پروردگارا تجھه سے پناه چاھتا ھوں اس علم سے جو فائده مند نھ ھو اس دل سے جس میں خشوع نھ ھو اور اس نفس سے جو کبھی نھیں بھرتا ، اس دعا سے جو اجابت تک نھیں پھنچتی ۔۔۔۔ [7]

ان دعاؤں کو پڑھنے سے اور فھم اور ادراک کو طلب کرنے سے جس دعا کے ذریعے سے بھی ھو   اور جس زبان میں بھی ھو  ، مذکوره شرائط کے ساتھه، انسان کا ذھن علم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے کیلئے زیاده تیار ھوتا ھے لیکن توجھ رکھنا چاھئے کھ صرف دعا پڑھنے سے لیکن مطالعھ کے شرائط پورے کئے بغیر کبھی بھی با مقصد نتیجھ حاصل نھیں ھوگا۔[8]


مزید  کیا یه روایت صحیح هے که "قیامت کے دن هر شخص اپنے هم نام امام کے پیچھے کھڑا هوگا"؟

[1]  موگھی ، عبد الرحیم ، روش مطالعھ اور تلخیص ، س ۲۳، پھلی سے چوتھی سطر۔

[2]  شجری ، ف، یادگیری خلاق، ص ۱۲۵، ۱۵ سطر ۲۵تک ناشر، انجمن قلم ایران، چھاپ ۱۳۷۷۔

[3]  ایضا ص ۱۱۹۔

[4]  سوره ۱۱۴، تفسیر ھدایت ، تفسیر ، من ھدی القران ، ج ۱۴، ص ۳۳۷۔

[5]  قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنا، ص ۱۳۰۱، دعای مطالعھ،

[6]  شھید ثانی ، منیۃ المرید۔ ص ۲۱۱۔

[7]  منیۃ المرید، ترجمھ ، حجتی ، سید محمد باقر، آداب تعلیم و تعلم در اسلام ص ۲۶۷۔

[8]  مزید آگاھی کیلئے رجوع کریں ، ابزار و روش تحقیق ، دشتی ، محمد ، چاپ مھر قم، ۱۳۶۶، روش مطالعھ ، اداره کل آموز ضمن خدمت ، چاپ دوم ۱۳۶۰۔ شجری ، یادگیری ، خلاق، ناشر انجمن قلم ایران ، چاپ ۱۳۷۷، روش مطالعھ و تلخیص ، موگھی عبدا لرحیم۔

تبصرے
Loading...