کیا غنا اور موسیقی کے ذریعه دین اسلام اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی سیرت کی تبلیغ اور ترویج کرنا جائز هے؟

0 0

واضح هے که عام طور پر دین اور خاص طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی سیرت اور طریقه کار، کی تبلیغ ــــ جو قدروں، اخلاق، صیحح سلوک اور بلند مضامین پر مشتمل هے ــــ سب سے اهم مسائل میں سے هیں که مناسب هے که ایک مسلمان کو اس کے بارے میں غور و فکر کر کے ان قدروں کو روئے زمین پر نافذ کرنے کے لئے کو شش کرنی چاهئےـ

لیکن قابل توجه نکته، که جس سے غفلت نهیں کی جانی چاهئے، وه یه هے که ان بلند مقاصد کو نافذ کرنے اور ان قدروں کی تبلیغ کرنے اور انھیں لوگوں تک پهنچانے کے سلسله میں ان طریقوں سے استفاده کیا جانا چاهئے جو پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کے مقاصد کے هم آهنگ هوںـ

مثال کے طور پر، اگر هم سیاست کے مانند ایک مفهوم کو مد نظر رکھیں، میکاولی نظریه کے مطابق اس مفهوم (سیاست) کی تعریف یه هے :”سیاست، حکومت کو جاری رکھنے کے لئے حکام کے هاتھـ میں ایک مدیریت و تخصص هے، جس راه سے بھی اس پر عملی جامه پهنا یا جائے ـ”[1]

بعض نے سیاست کی یوں تعریف کی هے: “سیاست، انسانوں پر حکومت کرنے کا ایک دھوکه اور فریب هے ـ”[2]

مذکوره تعریفوں کے مطابق اور ان کی نظر میں مقصد تک پهنچنے کے لئے هر ذریعه اور وسیله سے استفاده کرنا جائز هے ـ لیکن جب هم اسلام کے مطابق سیاست کی تعریف پر نظر ڈالتے هیں تو همیں معلوم هوتا هے که سیاست، قوم، ملک کے مختلف شعیوں کا نظم و انتظام چلانے اور تدبیر کے معنی میں تعریف کی گئی هے ـ[3] لهذا اس میں کوئی شک و شبهه نهیں هے که جب ایک مسلمان اس مفهوم پر غور و فکر کرے، تو جس چیز کو وه پائے وه اسلامی قدروں کی رعایت کرنا هے، کیونکه قدروں کے ذریعه قوم کی حیثیت بهترین صورت میں محقق هوتی هے ـ

اسلام کی نظر میں صیحح نهیں هے که هم صرف ٹیکنالوجی میں ترقی کا اهتمام کریں یا صرف اقتصادی اور مادی ترقی کی فکر میں رهیں لیکن قدروں سے غافل رهیں اور خیال کریں که صرف اقتصادی اور مادی ترقی سے قوم و مملکت کا نظم و انتظام چلا یا جاسکتا هے ـ

اسی وجه سے هم دیکھتے هیں که قرآن مجید اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم اور ائمه اطهار علیهم السلام کی سیرت میں مادی و معنوی مقاصد تک پهنچنے کی راهوں اور طریقوں کے جائز اور مطابق شرع هونے کی زبردست تاکید کی گئی هے ـ اس سلسله میں ارشاد الٰهی هے: “

“اے داود هم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا هے، لهذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھـ فیصله کرو اور خواهشات کا اتباع نه کرو که وه راه خدا سے منحرف کردیں ـ بیشک جو لوگ راه خدا سے بھٹک جاتے هیں ان کے لئے شدید عذاب هے که انھوں نے روز حساب کو یکسر نظرانداز کردیا هے ـ”[4]

یه آیه شریفه اس بات کی تاکید اور سفارش کرتی هے که حق پر حکم کیجئے اورنفسانی خواهشات کا اتباع نه کیجئے، کیونکه حق کی پیروی کرنا اور نفسانی خوهشات سےدوری اختیار کرنا، الٰهی تعلیمات اور انبیاء علیهم السلام کی رسالت کے موافق هے، نه دھوکه اور فریب کے ـ اسی طرح جب هم سنت کی طرف رجوع کرتے هیں تو معلوم هوتا هے که اسی طریقه کار اور نمونه پر عمل کیا گیا هے ـ پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم سے روایت نقل کی گئی هے که آپ (ص) نے فرمایا :”کوئی ایسا مسلمان نهیں هے، جو مسلمانوں کے امور کو اپنے هاتھـ میں لینے کے بعد اگر ان کےساتھـ فریب اور دھوکه دهی سے کام لے تو خداوند متعال اس پر بهشت حرام قرار دیتا هے “ـ[5]

مذکوره مطالب سےیه مسئله واضح هوتا هے که جس قدر هم دین کی ترویج اور اس کی نشر و اشاعت کے فکر مند هیں، سزاوار هے که اسی قدر همیں ان راهوں اور طریقه کار پر بھی غور کرنا چاهئے جن کو هم دین کی نشرواشاعت کے لئے اختیار کرتے هیں، که کیا یه راه اور طریقه کار اسلام کے مطابق صیحح اور مشروع هے یا نهیں!

کلینی (رح) امام صادق عیله السلام سے نقل کرتے هیں که حضرت (ع) نے فرمایا: “حلال محمد (ص) حلال هے قیامت تک اور حرام محمد (ص)، حرام هے قیامت کے دن تک، اس کے علاوه کچھـ نهیں هے اور کچھـ نهیں هوگا ـ”[6]

یهاں پر هم، پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم اور ائمه اطهار علیهم السلام کی طرف سے قدروں کو اهمیت دینے اور فریب و دھوکه دهی سے پرهیز کرنے کی تاکید کے چند نمونے پیش کرتے هیں :

1ـ عبدالله بن ابی سرح کے مقابله میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کا رد عمل:

مشهور هے که عبد الله بن ابی سرح مسمان تھا اور ایک ایسے کام کا مرتکب هوا جس کے سبب وه مرتد هوا اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے اس کا خون بهانا جائز قرار دیا، وه عثمان کا دودھ شریک بھائی تھا، اس لئے عثمان نے پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کی خدمت میں آکر مداخلت کرکے اسے معاف کرانا چاها ـ عثمان اپنے اس بھائی کے همراه پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی خدمت میں حاضر هوئے اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے مخاطب هوکر کها : یه شخص (عبد الله بن سعد) میرا دودھ کا شریک بھائی هے ـ اس کی ماں نے میرے حق میں مهربانی کی هے، جب هم بچے تھے، تو همیں اپنی آغوش میں لیتی تھیں اور ….. انھیں میرے واسطے بخش دنیا اور اس کا خون بهانے سے درگزر کرنا، پیغمبر (ص) نے عثمان کے سامنے منه موڑ لیا ـ عثمان نےدوسری جانب جاکر آنحضرت (ص) سے مخاطب هو کر پھر وهی جملات دهرائے ـ پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے پھر عثمان سے منه موڑ لیا تاکه کوئی اٹھـ کر حکم خدا پر عمل کرے اور عبدالله بن سعد کا سر تن سے جدا کرے پیغمبر (ص) نے جب دیکھا که کوئی اٹھـ کر حکم خدا کو جاری نهیں کررها هے اور ادھر سے عثمان بھی مسلسل آنحضرت (ص) کے سر مبارک کو بوسه دیتے هوئے کهتے هیں : یا رسول الله (ص) میرے ماں باپ آپ پر قربان هوجایئں اس کے مسلمان هونے کی بیعت کو قبول فرما، تو حضرت نے اس کی بیعت قبول کی ـ

ابن ابی الحدید، واقدی سے نقل کرتے هوئے کهتے هیں: اس ماجرا کے بعد رسول الله (ص) نے مسلمانوں سے فرمایا: آپ لوگوں کے لئے کونسی چیز رکاوٹ بنی، تاکه اپنی جگه سے اٹھـ کر اس مرتد کو قتل کر ڈالتے ؟ عباد بن[7] بشر نے کها: یا رسول الله قسم اس خدا کی جس نے آپ (ص) کو حق پر مبعوث فرمایا هے، میں هر طرف سے آپ (ص) کی جانب آتا تھا تاکه شائد آپ (ص) ارشاره فرماتے اور میں اس کا سر تن سے جدا کرتا، پیغمبر (ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: &quotم اشاره کے ذریعه کسی کو قتل نهیں کرتے هیں” یا یوں فرمایا: “پیغمبر کے لئے آنکھوں کی خیانت مناسب نهیں هے “[8] واضح هے که پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے حتی ان حالات میں بھی اس طریقه کار سے پرهیز کی جو آپ کے مقاصد اور قدروں کے خلاف تھا ـ

2ـ عمروعاص کے مقابل میں حضرت علی (ع) کا ردعمل: اس مسئله کا ایک اور نمونه یه هےکه جنگ صفین میں جب عمروعاص کپڑے اتار کر ننگا هوا تو حضرت علی (ع) اس کو قتل کرنے سے منصرف هوئے ـ علامه مجلسی (رح) اس سلسله میں “بحارالانوار” میں یوں نقل کرتے هیں : “…. عمروعاص بھاگنے کی حالت میں تھا، علی علیه السلام اس کا پیچها کرتے هوئے اس کے نزدیک پهنچے اور ایک ضرب لگائی جو اس کی زره پر لگ گئی اور وه پشت کی طرف زمین پر گر پڑا اور جب اس نے دیکھا که اس کی جان خطره میں هے تو اس نےکپڑے اتار دئے اور عریان هوگیا، اس حالت میں امام علی علیه السلام نے شرم و حیا کی وجه سے منه موڑ لیا اور اسے قتل کرنے سے منصرف هوگئے ـ امام (ع) نے معاویه کو مقابله کی دعوت دی، لیکن وه علی(ع) سے مقابله کرنے کے لئے آماده نهیں هوا، بسربن ارطاۃ حضرت (ع) سے مقابله کرنے کے لئے میدان میں آگیا، علی (ع) نے اس پر ایسی کاری ضرب لگادی که وه بھی پشت کے بل زمین پر گر گیا اور اس نے بھی عمروعاص کے مانند کپڑے اتار کر اپنے کو عریان کیا، علی (ع) اس کو بھی قتل کرنے سے منصرف هوگئے اور اس کے بعد فرمایا: اے شام والو! افسوس هو تم پر که نامردی کے ذریعه اپنی جان بچانا جاهتے هو، بیشک اس نامردی کے طریقه کو عمروعاص نے تمھیں سکھایا هے “[9]

مختصر یه که فلم، سنگیت وغیره کے ذریعه دین اور پیغمبر (ص) کی سیرت کی تبلیغ کرنا اگر حرام کام انجام دینے کا سبب بنے جیسے مرد اور عورتیں مخلوط هوجائیں یا غنا اور حرام موسیقی سے استفاده کیا جائے، تو اس صورت میں جائز نهیں هے،[10] لیکن اگر اس طرح هو که حرام شرعی کا سبب نه هو تو اس طریقه سےاستفاده کرنے میں کوئی حرج نهیں هے ـ اسلامی جمهوریه کا تجربه اس سلسله میں بهترین نمونه هے ـ اس بنا پر صیحح نهیں هے که انسان دینی، شرعی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرکے ان هی قدروں کی ترویج و تبلیغ کرے، کیا عفت کی ترویج کرنا عفت و پاکی کو پامال کرکے صیحح هے؟ کیا اخلاقی برایئوں کا مرتکب هو کر اخلاقی فضائل کی ترویج کرنا صیحح هے؟

اس بنا پر، مذکوره بیانات سے واضح هوگیا که اس راه میں قانون وضابطه صرف موجوده وسائل پر منحصر نهیں هوتا هے، بلکه ان وسائل کا احکام شرع کے مطابق هونا معیار هے اور واضح هے که تبلیغ کے صیحح راستے بهت زیاده هیں ـ


مزید  کیا حضرت زهرا{ع} کو اذیت و آزار پهنچانا اس امر کا سبب بنا هے که انهوں نے وصیت کی که ان کی تجهیز و تکفین ، تشیع اور تدفین رات کی اندھیری میں انجام پائے اور لوگوں کو اطلاع بھی نه کی جائے؟

[1]  لیون تروتسکی، الثورة و الحیاة الیومیه،ص13، چاپ 1979.

[2]  کلیم صدیقی، الحرکة الاسلامیه ، ص 47.

[3]  الثقافة السیاسیة الاسلامیة “فرهنگ علوم سیاسی اسلامی”، ص 12.

[4]  سوره صاد، 26.

[5]  اس مطلب کو مسلم نے نقل کیا هے ـ

[6]  کافی، ج 1، ص 59، ح 19.

[7]  بعض نے کها هے که یه شخص ربا بشیر تھا، اس کے علاوه نقل کیا گیا هے که وه شخص عمربن خطاب تھے

[8]  ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغة، ج 18، ص 13.

[9]  بحار الانوار، ج 32، ص 585 – 586.

[10]  مزید آگاهی کے لئے مندرجه ذیل عناوین ملاحظه هوں:

1ـ فطرت و حرمت موسیقی، سؤال 1078 (سایٹ: 1256)

2ـ راه شناسایی موسیقی حلال از حرام، سؤال 499 (سایٹ: 540).

3ـ دلایل حرمت و حلیت موسیقی، سؤال 388 (سایٹ: 401).

4ـ “شنیدن موسیقی”، سؤال 1595 (سایٹ: 1590).

5ـ ملاکهای تشخیص موسیقی حلال و حرام در غرب، سؤال 1690 (سایٹ: 1859).

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.