کیا غذاؤں میں نجس مواد پک جانے سے استحالھ پاکر وه پاک ھوجاتا ھے۔

0 0

استحالھ مطھرات میں سے ایک ھے۔ اور اس کے معنی یھ ھیں کھ “نجس چیز کی حقیقت اس طرح بدل جائے اور وه پاک چیز میں تبدیل ھوجائے جیسے نجس لکڑی جل جانے کے بعد راکھه ھوجائے ، یا کتا نمکزار میں ڈوب کر نمک بن جائے لیکن اگر اس کی حقیقت تبدیل نھ ھوجائے جیسے گندم آٹا بنے اور اس سے روٹی بنائی جائے تو وه پاک نھیں ھوتی [1]

بعض مراجع تقلید کے بیان کے مطابق اگر عین نجس اس طرح تبدیل ھوجائے کھ اس کا سابقھ نام ختم ھو کر دوسرے نام سے پکارا جائے تو وه چیز پاک ھوتی ھے اور اسے ” استحالھ ” کھتے ھیں۔ جیسے کھ کتا نمک زار کے اندر چلا جائے اور نمک میں تبدیل ھوجائے اسی طرح اگر کوئی نجس چیز کلی طورپر تبدیل ھوجائے جیسے کھ نجس لکڑی کو جلا کر راکھه بنایا جائے یا پانی بھاپ میں تبدیل ھوجائے   لیکن اگر اس کی حالت (صنعت ) تبدیل نه ھوجائے جیسے کھ نجس گندم آٹا بن جائے تو وه پاک نھین ھوتا [2]

دوسرے الفاظ میں اگر بسکٹ میں نجس مواد یا کسی اور خوراک میں، پک جانے سے یا کسی اور غذا میں بدل جانے سے اس میں کیمیائی تبدیلی آجائے تو اس کا نام استحالھ ھے اور وه پاک ھوجائے گا۔

بھرحال اگر انسان کس جگھ شک کرے کھ استحالھ ھوگیا ھے یا نھیں۔ نجاست پر حکم کیا جائے گا یعنی کسی نجس چیز جس کا ھمیں علم نھیں کھ استحالھ ھوگیا ھے یا نھیں وه نجس ھے۔[3]


مزید  عبیدالله بن زیاد اور ابن مرجانه ایک هی فرد هونے کے باوجود کیوں "واو" عطف سے، عطف هوا هے؟

[1]  توضیح المسائل ( المحشی للاما الخمینی ) ج ۱ ص ۱۲۰ مسئلھ ۱۹۵۔

[2]  ایضا آیۃ اللھ العظمی مکارم شیرازی۔

[3]  ایضا ، مسالھ ۱۹۷۔

تبصرے
Loading...