کیا عورت کو ملنے والی وراثت پر اسے حج پر جانا واجب هے، حتی اگر اس کا شوهر بھی نه هو اور خاندان میں کوئی سرپرست بھی نه هو؟

0 0

حج دین کے ارکان اور اس کی ضروریات میں سے ایک هے، حج کے واجب هونے کے اقرار کے باوجود ترک کرنا گناه کبیره هے اور انکار کی صورت میں اسے ترک کرنا کفر کا سبب بنتا هے ـ

شیخ کلینی نے معتبر ذرائع سے حضرت امام صادق علیه السلام سے روایت نقل کی هے که حضرت (ع) نے فرمایا: “جو شخص اس دنیا سے چلا جائے اور اس نے حجۃ الاسلام بجا نه لایا هو، بغیر اس کے کوئی ضروری حاجت پیش آئی هو یا بیمار هونے کی وجه سے اسے انجام نه دے سکا هو، یا یه کی کسی بادشاه نے اسے حج پر جانے سے روکا، اس قسم کا انسان مرنے کے وقت، اس دنیا سے یهودی یا عیسائی چلا جائے گا ـ”[1]

مندرجه ذیل شرائط کی بنا پر مکلف پر حج واجت هوتا هے:

1ـ بلوغ (لڑکوں کے لئے تکلیف کی عمر 15 سال قمری مکمل اور لڑکیوں کے لئے 9سال قمری مکمل هے)

2ـ عقل

3ـ آزاد هونا

4ـ مال، بدن کی سلامتی، توانائی، راسته کا کھلا اور آزاد هونے اور وقت میں گنجائش اور اس کی کفایت کے لحاظ سے استطاعت رکھنا ـ مالی استطاعت میں کوئی فرق نهیں هے که یه مال وراثت میں ملا هو یا کسی اور ذریعه سےـ استطاعت کے تمام شرائط پورے هونے پر، حج اس پر واجب هوتا هے ـ

اس لئے اگر عورت کے لئے وراثت میں ملے مال کو حج پر صرف کرنے سے اس کی زندگی مشکل سے دوچار نه هوجائے، تو اس پر حج واجت هوتا هے ـ[2]


مزید  : "۔۔۔ جس کے بعد بجلی نے تم کو لے ڈالا اور تم دیکھتے ہی رہ گئے ( کہ کسی طرح ناقابل رویت خدا بنی اسرائیل کے لئے قابل رویت ہوتا ہے اور جسمیت پیدا کرتا ہے، جو خدا قابل تغیر ہو، وہ خدا نہیں ہوسکتا ہے)

[1]  من لایحضره الفقیھ، ج 2، ص 447: کافی، ج 4، ص 269.

[2]  مناسک محشی، مقدمھ، مسالھ شماره 46.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.