کیا عورتیں مردوں کے لئے کھیتی کے مانند هیں ؟

0 0

“عورتیں آپ کى کھیتى هیں ” والے جمله کے معنى یه هیں که عورتوں کى انسانى معاشره سے نسبت کى ویسى هى حیثیت هے جیسى کھیتى کى انسانى معاشروں کے ساتھـ هوتى هے ـ جس طرح اگر کھیتى نه هو تو بیج بالکل نابود هو کر ره جاتے هیں اور انسان کى زندگى اور اس کى بقاء کے لئے کوئى غذا باقى نهیں رهتى هے ـ اسی طرح اگر عورتیں نه هوں انسان باقى نهیں ره سکتا هے اور اس کى نسل منقطع هوتى سکتی هے،[1] حقیقت میں قرآن مجید انسانى معاشره میں عورت کے وجود کى اهمیت کو بیان کرنا چاهتا هے که عورتیں صرف مردوں کى جنسى خواشهات کو پورا کرنے کا وسیله نهیں هیں، بلکه انسانی زندگى کو بچانے کا ایک وسیله هیں ـ[2] پس یه آیت مرد اور عورت کے درمیان گهرے رابطه کو بیان کرتى هے، اور جس طرح بیج بغیر کھیتى بے فائده هے اسى طرح کھیتى کے بغیر بیج بھى بیهوده هے ـ

کها جاتا هے که: اس آیت سے یه معنى بھى سمجھے جاسکتے هیں که اپنى بیویوں کى طرف هر جهت اور هر کیفیت سے توجه کیجئے جن کا ان سے استفاده کئے جانے کى توقع هے ـ

انس و بے تکلفى، بیوى هونے، ازدواج اور مبارشرت و نزدیکى کے لحاظ سے ، گھر کى مدیریت اور داخلى زندگى کو نظم و انتظام بخشنے کے لحاظ سے ـ اولاد کى تربیت اور فرزندوں کى زندگى کو تحفظ بخشنے کے لحاظ سے، آرام و سکون مهیا کرنے کے لحاظ سے، مسرت و سرور اور بهتر عیش حاصل کرنے کے لئے اور داخلى زندگى کى ضرورت کو پورا کرنے کے سلسله میں مدد حاصل کرنا وغیره ..

پس کھیتى کو زراعت سے مخصوص کرنا اور لفظ ” انى ” کو محل و مکا ن کا مراد لینا اور لفظ ” اتیان ” سے ازدواجى زندگى اور مقاربت کا مراد لینا آیه کریمه کے مدلول کے بر خلاف هے ـ[3]


مزید  مہربانی کرکے معراج کے بارے میں وضاحت فرمائیے کہ اولاً: معراج کیا ہے؟ ثانیاً: کیا حضرت محمد مصطفی {ص} کے علاوہ دوسرے انبیاء {ع} بھی معراج پر گئے ہیں؟ امام صادق {ع} سے نقل کی گئی ایک روایت میں آیا ہے کہ: پیغمبر اکرم {ص} تقریباً ۱۲۰ مرتبہ معراج پر گئے ہیں- مہربانی کرکے پیغمبر اسلام {ص} کے معراج پر تشریف لے جانے کے دفعات کے بارے میں اختلافات اور معراج پر تشریف لے جانے کے زمانہ کے بارے میں وضاحت فرمائیے؟ اس کے علاوہ جب پیغمبر اسلام {ص} معراج پر گئے، تو آپ {ص} نے وہاں پر کیا دیکھا؟ اور آپ {ص} کے معراج سے واپسی کی کیفیت کیا تھی؟ اور واپسی کے بعد آپ {ص} نے کونسا کام انجام دیا؟

[1]  المیزان، ترجمھ، ج 2، ص 317.

[2]  تفسیر نمونھ ، ج 141، 2.

[3]  مصطفوى، حسن تفسیر روشن ج 3 ص 156 مرکذ نشر کتاب.

تبصرے
Loading...