کیا شیعوں کے نزدیک بارهویں امام کی غیبت کا مسئله, پورے نظریه امامت کو زیر سوال قرار نهیں دیتا هے؟

0 0

مذکوره سوال بعض اجمال و ابهامات پر مشتمل هے اور سوال کر نے والے نے مشخص نهیں کیا هے که مام عصرعجل الله تعالی فرجه الشریف کی غیبت، امامت کے نظریه کے کس پهلو سے اختلاف رکھتی هے؟ اس لئے ضروری هے که پهلے هم امام کے فرائض پر الگ سے بحث کریں اور اس کے بعد غیبت کے ساتھـ ان کے ٹکراؤ یا موافقت کا سبب بیان کریں-

امامت، وهی نبوت کے سلسله کا جاری رهنا هے [1] اور امام ایک نبی کی تمام خصوصیات کا حامل هو تا هے ، صرف وحی اور آیات کا نازل هو نا منقطع هو جاتا هے – پس امام بھی پیغمبر کے مانند درج ذیل تین بنیادی فرائض [2] رکھتا هے:

١- الهی حکومت تشکیل دینے کا اقدام اور لوگوں کو ظالم حکام کے تسلط سے رهائی بخشنا-

٢- اسلامی معارف کو بیان کر کے لوگوں تک پهنچاناـ

٣- الهی صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی هدایت کر نا ـ

مذکوره تین مطالب ، امام کے اهم ترین فرائض هیں – لیکن اگر معاشره کے غیر منظم اور تتر بتر هو ئے حالات یا امت اسلامیه کی سستی کے پیش نظر امام کے لئے امام اور امت دونوں سے متعلق بعض فرائض کو انجام دینا ممکن نه هو ، تو اس میں امام کا کو ئی قصور اور کوتاهی نهیں هے اور مسلم هے که یه امر امامت کے فلسفه کے ساتھـ  اختلاف نهیں رکھتا هے-

انقلاب اور حکو مت جیسے مسائل ایک اجتماعی سرگرمی  هے ، جس کے لئے مناسب ماحول کی ضرورت هوتی هے – اگر هم یه کهیں که رهبر کا یه فرض هے که وه هر حالت میں ، اگر چه مسلمانوں کی مصلحت میں بھی نه هو ، انقلاب کر کے حکومت کو اپنے هاتـھـ میں لینا چاهئے ، تو یه ایک مبالغه هوگا، کیونکه هم اچھی طرح سے جانتے هیں که پیغمبر اسلام صلی اللی علیه وآله وسلم هجرت سے پهلے اور مکه مکر مه میں ، حتی معاشره کے اس وقت کے حالات کے مطابق اسلام کے ظاهری احکام کو نافذ کر نے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نه کر سکے ، انقلاب اور حکومت کی تشکیل کی بات هی نهیں ! اس چیز نے رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کے دامن کو سستی یا کوتاهی سے هر گز داغدار نهیں کیا ، بلکه اس سے حکو مت اسلامی کو قبول کر نے کے سلسله میں اس زمانه کے نامناسب حالات کی عکاسی هوتی هے –

یه مطلب صرف پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے زمانه سے مخصوص نهیں تھا، بلکه هم دیکھتے هیں که لوگوں کی حق فراموشی اور دین سے منه موڑ نا ، امام علی علیه السلام کے آخری ایام میں ایک مختصر مدت کےعلاوه دوسرے ائمه اطهارعلیهم السلام کے زمانه میں بھی سامنے آیا هے، جو ان کے لئے حکومت اسلامی تشکیل دینے میں رکاوٹ کا سبب بناهےـ اور یه امرفلسفه امامت کو کسی قسم کا نقصان نهیں پهنچا سکتا هے-

غیبت کبری کے زمانه میں بھی، مذکوره بیان کے پیش نظر یه مطلب امام کی ذمه داری سے کوئی اختلاف نهیں رکھتا هے – بنیادی طور پر جب احکام الهی کو اسلامی حکو مت کی صورت میں نافذ کر نے کا امکان مهیا هو جائے، تو، وه دن، غیبت کے خاتمه کا دن هو گا- شاید کها جاسکتا هے که بارهویں امام(عج)[3] کی سب سے بڑی پهچان عدل الهی پر مبنی ان کی وسیع اور عالم گیر حکومت هے- پس امام کی غیبت ، اسلامی حکومت تشکیل دینے کی جهت سے امامت کے فلسفه کے مخالف نهیں هوسکتی هے-

لیکن امام کے فرائض کا دوسرا پهلو:

چونکه صدر اسلام میں ، پیغمبر اسلام (ص) کے لئے ممکن نهیں تھا که آپ ذاتی طور پر هر جگه جاکر تمام قبائل اور لوگوں کے مختلف طبقوں سے ملاقات کریں، اس لئے آپ(ص) دین کے امور میں آگاه افراد اور حافظان قرآن کو دینی معارف بیان کر نے کے لئے مختلف علاقوں میں بھیجتے تھےـ[4] یه پیغمبر اسلام (ص) کی ایک سنت حسنه اور نیک یاد گار هے جو الهی معارف کی اشاعت کا ایک معقول طریقه  هے –

بارهویں امام(عج) بھی غیبت صغری میں اس روش سے استفاده کرتے تھے اور اپنے خاص نائبوں کو متعین  کر کے لوگوں کی علمی اور دینی مرجعیت کی ضرورت کو پورا کرتے تھے ـ یه طریقه غیبت صغری کے بعد بھی جاری رها ، لیکن اس کی صورت بدل گئی ، یعنی امام عصر(عج) نے اس عنوان کے شرئط کے حامل نائبوں کو عام نائبوں کی صورت میں مقرر  کیا اور لوگوں کو نئے مسائل اورواقعات رونما هو نے کی صورت میں  لوگوں کو ان کی طرف رجوع کر نے کا حکم دیدیا-[5]

یه مسئله یهیں پر ختم نهیں هوتا هے، کیونکه ممکن هے کوئی ایسا مسئله پیش آئے که امام کے یه نائبین ، اس مسئله کو حل کر نے میں کامیاب نه هو پائیں اور ان کا جواب دینے کی طاقت نه رکھتے هو ں – ایسے حالات میں امام عصر (عج)، زمانه کے لائق اور شائسته افراد کی مدد کرتے هیں یا دوسرے طریقوں سے هدایت کی راه دکھاتے هیں – اس سلسله میں فقه اسلامی پر اجماع[6] کے نظریه یا حضرت (عج) کے دیدار سے شرفیاب هونے والوں سے متعلق کتا بوں پر ایک مختصر نظر ڈالنا کافی هے-

تیسری صورت میں، غیبت کے فلسفه و نظریه امامت سے عدم منافات بھی مذکوره مطلب کے مانند هے – اس لئے اس کو دوباره بیان کر کے مزید تفصیل پیش کر نے کی ضرورت نهیں هے-

مذکوره مطالب کے علاوه درجه ذیل دو نکات کی طرف قارئین کرام کی توجه مبذول کرانا ضروری هے :

١لف) امام کی غیبت، ان کی جسمانی غیبت نهیں هے ، کیونکه هم جانتے هیں که وه بھی معا شره کے دوسرے افراد کے مانند ایک عادی زندگی بسر کر رهے هیں ، البته ان کی عمر شریف خدا کے اذن سے طولانی هے اور ان کی عمر کا طولانی هو نا بھی عقلی اور حیاتی قواعد کے خلاف نهیں هے – پس جب هم کهتے هیں که بارهویں امام کی غیبت،ان کی عنوانی غیبت مراد هے، تویعنی حضرت(ع) اپنے ظهور کے زمانه تک ، خود کو دنیا کے شیعوں کے امام اور پیشوا کے طور پر متعارف نهیں کریں گے-

ب)فلسفه امامت کے بارے میں جو مطالب بیان کئے گئے ، وه امام کے فرائض سے مخصوص تھے- لیکن بعض ایسے مسائل بھی هیں ، جن کا هم امام میں مشاهده کر تے هیں ، نه که فریضه کے طورپر، بلکه یه وهی بعد رحمانی اور الطاف الهی هیں جو امام کے سبب سے هم پر نازل هوتے هیں – اور ، نمونه کے طورپر حسب ذیل هیں:

١)عالم کی جان: اهل بیت اطهار (ع)کی فر مائشات کے مطابق ، امام عالم کی جان [7] اور زمین وآسمان کی گردش کے مدار هیں ـ اس سلسله میں روایتوں میں امام کے بارے میں آیا هے: ” اگر زمین امام کے وجود سے خالی هو تو بیشک وه اپنے باشندوں کو نگل لے گی-“[8]

٢) امام فیض الهی کا واسطه اور لوگوں پر برکات الهی نازل هو نے کی راه هے –اس لحاظ سے ائمه معصومین(ع) کی روایتوں اور زیارتوں میں آیا هے که: ” آپ کی وجه سے آسمان پانی برساتا هے اور زمین آپ کے سبب سے درختوں کو پرورش کرتی هے اور درخت آپ کے لئے پھل دیتے هیں- “[9]

٣) نفوس میں اثر ڈالنا [10] اور شیطان کے توسط سے بندوں کو گمراهی وضلالت کی طرف لے جانے سے بچانا: یه وهی چیز هے جس کا هم محرم ، صفر و… کے مقدس ایام اور مهینوں میں مشاهده کرتے هیں –

جوکچھـ کها گیا ، یه سب امام غایب کے فوائد کا ایک خلاصه هے که حضرت رسول اکرم(ص) کی فر مائش کے مطابق ” بادلوں کے پیچھے سورج[11] کے مانند ان کے وجود سے لوگ، بهره مند هو رهے هیں-“

البته پیغمبر اسلام (ص) کی اس ارشاد میں فراوان نکات مضمر هیں، ان کے بارے میں معلومات حاصل کر نے کے سلسله میں اس موضوع پر لکھی گئی تفصیلی[12] کتابوں کا مطالعه کیا جاسکتا هے-[13]

منابع و ماخذ:

١- مصباح یزدی ، محمد تقی، آموزش عقائد-

٢- طباطبائی ، سید محمد حسین، شیعه در اسلام –

٣- طبری ، محمد بن حریر ، دلائل الآما مه –

٤- سبحانی ، جعفر ، فراز ها ی از تاریخ پیامبر اسلام ـ

٥- شیخ حر عاملی ، وسائل الشیعه-

٦- مظفر، محمد رضا، اصول الفقه –

٧- مهدی، پیشوائی، سیره یپیشوایان ـ

٨- کلینی ، اصول کافی ـ

٩- ابن قولویه قمی ، کامل الزیارات –

١٠- خرازی ، سید محسن ، بدایه المعارف الالهیه-

١١- مجلسی ، محمد باقر، بحار الانوار ـ

١٢- قزوینی ، سید محمد کاظم ، امام مهدی از ولادت تا ظهور ، ترجمه، کرمی ، علی ، حسینی، سید محمد ـ


مزید  کیا ایران میں یهودی بھی رهتے هیں؟ ان کی آبادی کتنی هے اور ان کی شرح کیا هے؟ ایران کی حکومت ان کے ساتھ کیسا برتاو کرتی هے؟`

[1]  مصباح ، محمد تقی، آموزش عقائد ، ص ٣٠٦ـ

[2]  طبا طبا ئی ، محمد حسین، شیعه در اسلام ، ص ١٧٦ـ

[3]  الطبری ، محمد بن حریر ، دلائل الامامھ ، ص٢٤٠-

[4]  سبحانی، جعفر، فراز های از تاریخ پیا مبر اسلام، ص٣٠٧ـ

[5]  شیخ حر عاملی، وسائل شیعه، ج١٨،ص١٠١-

[6]  مظفر ، محمد رضا ، اصول الفقه ، ص٣٥٨ـ

[7]  پیشوائی ، مهدی، سیره ی، پیشوایان، ص٧١٩-

[8]  کلینی، اصول ، ج١،ص١٧٩

[9]  ابن قولو یه قمی، کامل الزیارت ، زیارت دوم ـ

[10]  خرازی ، سید محسن، بدایه المعارف الالهیه، ج٢، ص١٥٣ـ

[11]  مجلسی، محمد باقر ، بحار الانوار، ج٥٢، ص٩٣-

[12]  قزوینی ، سید محمد کاظم ، ترجمه، کرم، علی ، حسینی، سید محمد، امام مهدی از

لادت تاظهور، ص٣٣٥ـ

[13]  مزید آگاهی کے لئے ملاحظه هو: اشاره: “شیعه نظریه کے مطابق امام مهدی” سوال نمبر 2287 (2463)، “عصر غیبت میں امام کے وجود کے فائدے” سوال نمبر ٦٥٤، ” امام کی طولانی عمر کا فلسفه” سوال نمبر ٢٢١-

تبصرے
Loading...