کیا شیطان کے بچے هیں اور وه بھی لعنتی و ملعون هیں ؟

0 0

شیطان کے ﻜﭽﻬ بچے هیں جو اس کی مدد کرتے هیں اور بهت هی کم کے سوا تقریباً سارے بچے اس کے راسته پر چل رهے هیں اور اسی کی طرح لعنتی و ملعون هیں ، جیسے وه شیطان که جو حضرت رسول اعظم(صل الله علیه و آله وسلم) کے همراه پیدا هوا اور آپ نے اسے مسلمان بنایا ۔

تفصیلی جواب:

شیطان بھی انسانوں کی طرح بچے والا هے اور یه مطلب قرآن مجید اور اهلبیت (علیهم السلام) کی روایات میں بیان هوا هے ارشاد هوتا هے که : ((کیا تم همارے بجائے شیطان اور اس کے بچے کو دوست بناتے هو جبکه تمھیں معلوم هے که وه تمهارے دشمن هیں۔۔۔))[1]

علامه مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار کے باب(( السماء و العالم)) میں لکھتے هیں که:

(( روایت میں هے که خداوند عالم نے ابلیس سے کها : میں آدم کو کوئی بچه نهیں دوں گا مگر یه که اسی جیسا تمھیں بھی دوں گا ، اور هر انسان کا همزاد ایک شیطان هے ))[2]

شیطان کے بچے خود شیطان کی طرح نسل انسانی کے گمراه کرنے کےلیئے پیدا کیئے گئے هیں اوراسی(شیطان) کے راسته پر چلتے هیں لهذا یقیناً شیطان پر لعنت انھیں بھی شامل هے ، هاں البته اس وقت تک جب تک وه شیطان کے راسته پر هیں که تقریباً سارے هی ایسے هیں سواے ﻜﭽﻬ گنے چنے افراد کے جو مسلمان هوگئے هیں[3]۔

آخر میں ﻜﭽﻬ سودمند نکتے ﺴﻤﺠﻬ میں آتے هیں :

1. قرآن مجید کی آیات سے یه نتیجه نکلتا هے که شیطان کے قبیله[4] اور اس کی ذریت[5] کی ولایت ، جن کا قرآن مجید میں نام لیا گیا هے ، جزئی طور پر هے مثال کے طور پر ان میں سے ایک کو بعض لوگوں پرولایت و تصرف حاصل هے لیکن بعض دوسرے افراد پر نهیں حاصل هے یا بعض اعمال میں حاصل هے اور بعض اعمال میں نهیں حاصل هے ، یا یه که اصلاً حقیقی ولایت حاصل نهیں هے بلکه ان کی ولایت اصلاً شیطان (ابلیس) کی مدد کے دائره میں هے جو انسان سے سرزد هونے والے جمله برے اعمال کی جڑهے [6] ۔

2. اصل شیطان( ابلیس ) جناتوں میں سے هے [7] قرآن مجید میں ایک جگه شیطان کے لیئے ذریت قرار دینے[8] اور دوسری جگه ان کی طرف موت[9] کی نسبت دینے سے یه سمجھا جا سکتا هے که جناتوں میں بھی نسلوں کا سلسله جاری هے اس لیئے که هر ، جاندار چیز کے لیئے ذریت اور موت کا مقصد یهی هے که ان کی نسلیں بھی هوں فقط یه سوال جواب کے بغیر ره جاتا هے که کیا جناتوں کی نسلی سلسله بھی انسانوں اور دوسرے جانوروں کی طرح مباشرت کے ذریعه انجام پاتا هے یا کسی اور طریقه سے ؟ قرآنی آیات سے ﻜﭽﻬ بھی نهیں سمجھا جاسکتا [10] ۔


مزید  علامه شعرانى سے منسوب یه شعر پڑھا جاتا هے که:شاهان همه به خاک فکندند تاجها زیب نیزه شد سر شاه جهان عشق. بظاهر یه شعر کتاب " دمع السجود" (ترجمه نفس المهموم) میں آیا هے­ کیا یه انتساب صحیح هے؟

[1]  “افتتخذونه و ذریته اولیاء من دونی و ھم لکم عدو۔ ۔ ۔”(سوره کهف/50 )

[2]  ترجمه کتاب السماء و العالم ، ص 243

[3]  همان ، ص 254

[4]  “انه یراکم ھو وقبیله من حیث لا ترونھم انّا جعلنا الشیاطین اولیاء للذین لا یومنون “( سوره اعراف /27)

[5]  سوره کهف /50

[6] ترجمه المیزان ، ج 12 ، ص 63

[7]  “فسجدوا الّا ابلیس کان من الجن ” (سوره کهف/50 )

[8]  سوره کهف /50

[9]  “قد خلت من قبلھم من الجن و الانس “(سوره احقاف/18 )

[10]  ترجمه المیزان ، ج 12 ، ص 226

تبصرے
Loading...