کیا شب قدر متعدد ھیں ؟ اور کیا دن بھی شب قدرکا حصھ ھے ؟

0 0

جواب دینے سے پھلے سوال کا ایک جائزه لینے کی ضرورت ھے تا کھ واضح ھوجائے کھ سوال میں ذکر کئے گئے تعدد سے محترم سوال کرنے والے کا کیا مراد ھے؟

پھلا احتمال:

کیا اس سے مراد یھ ھے کھ رمضان المبارک کے آخری عشره میں معین کی گئیں شبیں یعنی ۱۹، ۲۱ ، اور ۲۳ ، شب قدر ھیں چونکھ ان کے مخصوص اعمال ھیں ، یا شب قدر ان شبون میں سے صرف ایک شب ھے؟

دوسرا احتمال :

یا سوال کرنے والے محترم کی تعدد سے یھ مراد ھے کھ وه جاننا چاھتا ھے کھ کیا شب قدر صرف ایک بار تھی اور وه بھی رسول خدا صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم کی حیات میں یا یھ کھ متعدد صورت میں تکرار ھوئی ھے ؟ اور اگر تعدد کا مسئلھ صحیح ھے تو کیا شب قدر کا یھ تعدد خود آنحضرت صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے زمانھ میں واقع ھوتا تھا یا آپ کی زندگی کے بعد بھی واقع ھوتا ھے؟

تیسرا احتمال :

یا تعدد سے مراد یھ ھے کھ پوری دنیا میں مسلمان نشین شھروں میں اختلاف افق اور ان شھروں میں قمری مهینوں میں اختلاف کے پیش نظر وجودمیں آنے کا تعدد ھے ، جیسا کھ ایک ملک میں مثال کے طور پر رمضان المبارک کی پھلی تاریخ سھ شنبھ ( منگلوار ) کو ھے اور دوسرے ملک میں رمضان المبارک کی پھلی تاریخ دوسرے دن یعنی چھارشنبھ ( بدھوار ) ھے جس کے نتیجھ میں اس مھینھ کے آخری عشره کی شبوں میں بھی اختلاف پیدا ھوتا ھے اس طرح پھلے ملک کے باشندوں کے لئے ۲۳ ویں شب دوسرے ملک کے باشندوں کی بھ نسبت ایک شب پھلے ھوگی۔ لھذا شب قدر سال میں ایک معین رات نھیں ھوسکتی ھے اس قاعده سے ھر ایک کے لئے اپنی ایک جدا شب قدرھوگی اور اس طرح شب قدر متعدد ھوجاتی ھیں۔

پھلے احتمال کا جواب یھ ھے کھ قرآن مجید کی نص کے مطابق شب قدر رمضان المبارک کے مھینھ میں ھے [1] اور ایک شب سے زیاده بھی نھیں ھے ، کیونکھ ارشاد باری تعالی ھے : ” انا انزلناه فی لیلۃ القدر ” [2] ھم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ھے ، نھ کھ شبھائے قدر میں ۔ لیکن کچھه وجوھات [3] کے سبب یھ شب ھمارے لئے معین نھیں ھوئی ھے اور کھا گیا ھے کھ ۱۹ اور ۔۔۔۔ شبوں میں سے ایک شب ، شب قدر ھے اور ان تمام شبوں کے دوران شب بیداری کرنا تا کھ شب قدر کی فضیلت کا ادراک کرسکو ۔[4] اگر روایتوں میں تین شب مشخص ھوئی ھیں [5] تو صرف اس لئے کھ خداکے بندوںکے لئے کام آسان کیا جائے۔

دوسرے احتمال کا جواب یھ ھے کھ قرآن مجید اور اھل بیت علیھم السام کے مطابق شب قدر حضرت رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے زمانھ میں تھی اور بدستور باقی ھے۔آیھ شریفھ :” تتنزل الملائکۃ و الروح فیھا باذن ربھم من کل امر”[6]

سے ملائکھ و روح کےنزول کا استمرار (ھمیشھ کے لئے ھونا ) معلوم ھوتا ھے۔ کیونکھ اس میں ” تنزل” (جو حقیقت میں “تتنزل” تھا) صیغھ مضارع استعمال ھوا ھے[7] ۔

اسی طرح سوره دخان کی آیت نمبر ۶ میں شب قدر کے بارے میں آیا ھے : ” فیھا یفرق کل امر حکیم امرا من عندنا انا کنا مرسلین” اس میں بھی صیغھ مضارع ” یفرق” استعمال ھوا ھے جو کھ عربی میں فعل کے استمرار کی علامت ھے۔

اھل بیت علیھم السلام سے منقول روایتیں بھی اس موضوع پر تاکید کرتی ھیں۔

امام جواد علیھ السلام فرماتے ھیں: ” علی علیھ السلام نے ابن عباس سے فرمایا:” شب قدر ھر سال ھے اور اس شب میں سال بھر کے امور نازل ھوتے ھیں” [8]

ابو ذر غفاری (رض) نے پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا تو آنحضرت صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم نے جواب میں فرمایا: یھ شب قیامت کے دن تک باقی ھے ” [9]

اھل سنت مفسرین بھی اسی کے قائل ھں کھ شب قدر بدستور باقی ھے [10]

لیکن تیسرے احتمال کے بارے میں کھنا چاھئے کھ : جواب پیش کرنے سے پھلے تمھید کے طورپر یھ کھنے کی ضرورت ھے کھ : اسلامی ثقافت میں ، بے نظیر خصوصیات کے پیش نظر ، شب قدر کی بھت زیاده اھمیت ھے اور اس شب میں بیدار رھنے کی تاکید پر بھت سی روایتیں نقل کی گئی ھیں۔ من جملھ سید ابن طاؤس نے اپنی کتاب ” اقبال” میں درج کیا ھے کھ حضرت رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم نے حضرت موسی علیھ السلام سے نقل کرکے فرمایا:

” خداوندا! میں تیرا تقرب چاھتا ھوں، ارشاد ھوا، میرا تقرب اس کے لئے ھے جو شب قدر میں بیدار رھے ، عرض کی : خداوندا ! تیری رحمت چاھتا ھوں ، ارشاد ھوا: میری رحمت اس کے لئے ھے جو شب قدر میں فقراء پر رحم کرے ، عرض کی : خداوندا ! میں نجات چاھتا ھوں ، آگ سے نجات چاھتاھوں ، ارشاد ھوا: یھ اس کے لئے ھے جو شب قدر میں استغفار کرے ، عرض کی : خداوندا! تیری رضا چھاتا ھوں ، ارشاد ھوا؛ میری خوشنودی اس کے لئے ھے ، جو شب قدر میں دو رکعت نماز پڑھے ۔ [11]

نزول قرآن ، نزول ملائکھ اور ولی خدا پر روح القدس کا نزول اور اسی طرح اس شب کی عبادت کی فضیلت ھزار ماه [12]سے افضل ھونا اور تدبیر و تقدیر امور اور واقعات شب قدر کی خصوصیت میںسے ھیں۔ [13]

لیکن سوال یھ ھے کھ مختلف شھروں میں اختلاف افق کے پیش نظر ، کیا یھ تمام خصوصیات افق میں اختلاف رکھنے والے شھروں کے تمام باشندوں کے لئے بار بار ھوتی ھیں ؟ جو کچھه قرآن مجید کی نص اور بظاھر روایات سے معلوم ھوتا ھے وه یھ ھے کھ شب قدر ایک شب سے زیاده نھیں ھے اور ولی خدا اور امام معصوم علیھ السلام سے مربوط خصوصیات سب ایک ھی شب میں واقع ھوتی ھیں ، یعنی امام پر ملائکھ کا نزول ، امور کی تقدیر ، حوادث و معیشت کی تقدیر ، ایک خاص شب میں معین ھوتی ھیں۔

خالق کائنات کا ارشاد ھے: ” تنزل الملائکۃ و الروح فیھا” [14]

ملائکھ و روح اس شب میں نازل ھوتے ھیں اور اسی شب میں قرآن مجید نازل ھوا ھے : ” انا انزلناه فی لیلۃ القدر ” [15]

یا روایت میں آیا ھے کھ : ” اس شب میں ایک سال کے امور نازل ھوتے ھیں ” [16]

لیکن شب قدر کے بارے میں بیان کی گئی تمام فضیلتوں کو پانے کے لحاظ سے ، فریضه پر عمل کرنا فائده مند ھوسکتا ھے [17] ، یعنی اگر دلیل سے ثابت ھوجائے کھ رمضان المبارک کی پهلی تاریخ کس دن ھے ، تو شب قدر بھی مشخص ھوجائے اور یقینا اس شب کے اعمال ، عبادات اور شب بیداری بغیر اجر و ثواب کے نھیں ھوں گے اور امید ھے انسان کو حقیقی شب قدر کا اجر و ثواب ملے گا، اگر چھ وه شب حقیقی  شب قدر بھی نھ ھو [18]

البتھ رمضان المبارک کے آخری عشره میں شب بیداری اور عبادات کی سفارش کی گئی ھے اور شائد یھ اسلامی سنت اس وجھ سے ھو کھ ھمیں شب قدر کو ادراک رکنے کا اطمینان حاصل ھوجائے۔

کیا روز قدر بھی شب قدر کے مانند شان و منزلت رکھتا ھے ؟ اس کے جواب میں کھنا چاھئے کھ اگر چھ ولی اللھ ( علیھ السلام ) پر نزول ملائکھ جیسے واقعات شب قدر میں ھی انجام پاتے ھیں ، لیکن قدر و فضیلت کے لحاظ سے روز قدر بھی شب قدر کے مانند ھے۔ [19]

مرحوم شیخ عباس قمی ( رح) رمضان المبارک کی ۲۳ ویں شب کے اعمال کے سلسلھ میں فرماتے ھیں : ” اس شب کے دن کا بھی احترام کرنا چاھئے اور اس دن عبادت ، تلاوت اور دعا میں گزارنا چاھئے ، کیونکھ قابل اعتبار احادیث میں آیا ھے کھ روز قدر بھی فضیلت کے لحاظ سے شب قدر کے مانند ھے۔ [20]


مزید  کیا اهل سنت کی کتابوں میں کوئی ایسا مطلب پایا جاتا ھے جو حضرت فاطمه زهراء [س] کی شهادت کی دلیل پیش کرتا ھو؟ بمهربانی منبع کے ذکر کے ساتھ مطالب کو میرے لئے ارسال فرمائیے۔ شکریه۔

[1]  ان دو آیتوں : ” شھر رمضان الذی انزل فیھ القرآن ” اور ” انا انزلناه فی لیلۃ القدر ” کو ایک ساتھه رکھنے سے بھی اس مطلب کا استفاده ھوتا ھے۔

[2]   سوره قدر / ۱

[3]   کھا گیا ھےَ خداوند متعال نے چند چیزون کو چند چیزون میں مخفی کیا ھے : شب قدر کو شبوں میں ، قیامت کے وقت کو اوقات میں ، اسم اعظم کو اسماء میں ، دعا قبول ھونے کے وقت کو مختلف اوقات میں ، اللھ کی خوشنودی کو تمام عبادتوں میں اور اولیائے الھی کو اپنے تمام بندوں میں پوشیده رکھا ھے ، تا کھ لوگ تمام شبوں کا احترام کرکے تمام اوقات میں گناھوں سے پرھیز کریں ، تمام انسانوں کا احترام کریں اور تمام عبادتوں مین اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

 [4]  شائد اسی وجھ سے پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم اور ائمھ معصومین علیھم السلام ماه مبارک رمضان کی آخری دس شبوں کے دوران شب بیداری اور عبادت مین مشغول رھتے تھے، البتھ ممکن ھے کھ کھا جائے کھ : پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم اور ائمھ اطھار علیھم السلام شب قدر سے آگاه تھے ، اس لئے رمضان المبارک کے آخری دس شبوں میں ان کی شب بیداری و عبادت کی دلیل اور راز کچھه اور ھوسکتا ھے اور ممکن ھے کھ ان کا یھ عمل دوسروں کو تعلیم دینے کے ئے ھو تا کھ لوگ اس احتیاطی عمل کو معصومین علیھم السلام سے سیکھه لیں۔

[5]   سفیان بن سمط نے امام صادق علیھ السلام کی خدمت میں عرض کی: ” جن شبوں میں شب قدر کا ھونا ممکن ھے ، کون ھیں ؟ حضرت (ع) نے فرمایا: ۱۹، ۱۲ ، ۲۳، دھقان ، اکبر ، تفسیر نسیم ، ص ۴۶۵، قم ، انتشارات حرم ، طبع ۸۳۔   

 [6]  سوره قدر / ۴

[7] تفسیر نمونھ ، ج ۲۷ ، ص ۱۸۵۔

[8]   تفسیر کنز الدقائق ، محمد قمی مشھدی ، ج ۱۴، ص ۳۵۹ ، وزارت ارشاد۔

[9]  ایضاً

[10]  تفسیر کبیر ، فخر رازی، ج ۳۲، ص ۲۹ ، دار الاحیاء بیروت۔

[11]   آداب الصلوۃ ، امام خمینی ، ص ۳۳۳، چاپ چھارم ، موسسھ تنظیم و نشر آثار امام خمینی ( رح)۔

[12]   تفسیر المیزان ، سید محمد حسین ، طباطبائی ،

[13]  مزید تفصیلات کے لئے ملاحظھ ھو : احکام القرآن ، ابن عربی ، ج ۴، ص ۱۹۶۱ ، دار المعرفه۔

[14]  سوره قدر / ۴۔

[15]  سوره قدر / ۱۔

[16]  تفسیر کنز الدقائق ، ج ۱۴، ص ۳۵۹۔

[17]  البتھ تیسرے احتمال کے لئے ایک اور جواب دیا گیا ھے ۔ مثلا ً ، تفسیر نمونھ ج ۲۷ ص ۱۹۳ ، میں لکھا ھے : شب وھی زیمین کے نصف کره کا سایھ ھے جو دوسرے نصف کره پر پڑتا ھے اور ھم جانتے ھیں کھ یھ سایھ زمین کی گردش کے ساتھه حرکت مین ھے۔ اور اس کا ایک پورا دوره ۲۴ گھنٹے میں مکمل ھوتا ھے۔ اس بنا پر ممکن ھے کھ شب قدر ، زمین کے گرد شب کا ایک مکمل دوره ھو، یعنی چوبیس گھنٹے کی مدت میں تاریکی زمین کے تمام حصون کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ھے، وھی شب قدر ھے ، جس کا آغاز ایک نقطھ سے شروع ھوتا ھے اور دوسرے نقطھ پر ختم ھوتا ھے (غور کیجئے ) ، اس بنا پر افق کے تعدد کی وجھ سے شب قدر کا تعدد موقوف ھوتا ھے۔

[18]  سنتوں کے ادلھ کے باب تسامح مین ایک روایت نقل کی گئی ھے جو حسب ذیل ھے: ھشام بن سالم ، ابی عبداللھ ( امام جعفر علیھ السلام ) سے نقل کرتے ھیں کھ حضرت (ع) نے فرمایا: اگر کوئی شخص سن لے کھ ، فلان عمل اور کام ایک خاص زمانھ مین انجام دینا ثواب ھے اور وه اس پر عمل کرے اور بعد میں معلوم ھوجائے کھ ایسا نھیں تھا اور جو روایت اس تک پھنچی ھے وه صحیح نھیں تھی ، تو بھی خداوند متعال وه ثواب اسے عطا کرتا ھے ، اگرچھ اس کا عمل حقیقت مین اس ثواب کا مستحق نھیں تھا۔ القواعد ، سید محمد کاظم مصطفوی ، جامعھ مدرسین ، ص ۹۶۔

[19] “لیلۃ القدر فی کل سنۃ و یومھا مثل لیلتھا” ” شب قدر ھر سال ھے اور روز قدر کی قدر و قیمت بھی شب قدر کے مانند ھے ، شیخ طوسی ، تھذیب الاحکام ، تفسیر نسیم رحمت سے منقول ، ص ۴۷۳، جو کجھه تھذیب مین درج ھے ، یقیناً وه شیخ طوسی کا ذاتی استنباط نھیں ھے اور انھوں نے اسے معصوم سے نقل کیا ھے۔

[20] مفاتیح الجنان ، ص ۳۸۹، چاپ انتشارت لقمان۔

تبصرے
Loading...