کیا شادی کے بارے میں استخاره کیا جا سکتا ھے۔

0 0

۱۔ شادی اور گھریلو زندگی کی تشکیل کی تاریخ ، انسانی تاریخ سے جڑی ھوئی ھے اور یھ مسئلھ حضرت آدم اور حضرت حوا علیھما السلام سے لے کر آج تک بالکل انسانی زندگی کا سب سے اھم مسئلھ اور انسانی سماج کا اصلی رکن مانا جاتا ھے۔ شادی بیاه کا بندھن بھی انسانی زندگی کا اھم موڑ ھے اور ان مسائل میں سے ایک مسئلھ ھے، جو عام طور مورد بحث اور پریشان کن بنا رھتا ھے مسئلھ ھے۔ اس کے بارے میں ھر ایک الھی دین نے کسی نھ کسی طرح اظھار خیال کیا ھے،اور انسانوں کو شرائط اور قوانین سے آگاه کیا ھے۔اسلام نے بھی خدا کے آخری دین کے عنوان سے انسان اور اسکی ضروریات پر عمیق نظر اور حقیقت پسندی کے ساتھه اس مسئلے کے بارے میں خاص نقطه نظر بیان کیا ھے۔ اسلام کے معارف اور اسکی تعلیمات کے مطابق یھ نتیجھ نکلتا ھے کھ اسلام کی نظر میں شادی بیاه اور نکاح خدا کے نزدیک سب سے محبوب چیز ھے۔ [1]

۲۔ شادی کے مسئلھ میں اسلام کی نظر میں اپنی جوڑی کو منتخب کرنے کا اھم معیار اس کا دین اور حسن خُلق ھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم نے اس سلسلے میں فرمایا ھے: که اگر کوئی شخص آپ کے پاس رشتھ مانگنے کیلئے آئے تو جس کا دین اور آپ کی تمھاری پسند کے مطابق ھو ، اسے رشتھ دیجئے  ورنھ زمین پر بڑا فتنھ اور تباھی پھیل جائے گی۔ [2]

۳۔ عقل ایک بھت بڑی نعمت ھے جو خدا نے انسان کو عطا کی ھے ، انسان عقل کی شمع سے زندگی کی اندھیری راھوں کو آسانی کے ساتھه طے کرسکتا ھے اور اس کے مشکلات اور خطرات سے سلامتی کے ساتھه گزر سکتا ھے ، قرآن مجید میں عقلیت ( عقل آرائی ) اور عقل سےفائده حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ھے ، اور قرآن کی نظر میں ، سب سے برے موجودات وه ھیں جن کے کام عقل کے مطابق نھیں ھے۔ [3]

اس سے بڑھ کریھ بات کھ، انبیاء علیھم السلام کے مبعوث ھونے کا اھم سبب لوگوں کی عقول کو کشاده کرنا اور ارتقاء دینا ھے[4] عقل پر تکیھ کرنا، اور اس روشن چراغ کو کام میں لانا انتی ھی اھمیت رکھتا ھے کھ شریعت مقدس میں احکام کے استنباط کا ایک سرچشمھ قرار دیا گیا ھے۔ [5]

۴۔ دینی تعلیمات میں ان عوامل پر بھت تاکید کی گئی ھے ، جو عقلی فیصلوں میں دخیل ھیں۔ اور عقل کو حقیقت تک پھنچنے میں اور فکر کو شفاف کرنے میں مددگار ھیں۔ ان ھی عوامل میں سے اھم عامل ” مشورت” ھے۔ مشورت جو ایک گروه کے افکار ھیں، بھت سی ایسے مشکلات کو حل کرتی ھے جس کو ایک انفرادی عقل حل کرنے پر قادر نھیں۔ مشورت کے ذریعے ایک انفرادی عقل کے نقائص کی بھت حد تک تلافی ھوئی ھے ، اور ڈھیر سارے تجربات اور اطلاعات جنھیں دوسرے لوگوں نے بھت مدت میں حاصل کیا ھے ، آسانی سے انسان کے ھاتھه آتے ھیں۔

۵۔ بھت بار ایسا ھوا ھے کھ انسان فکر کرنے اور مشورت کرنے کے بعد بھی اپنے شک اور تردد پر برقرار رھتا ھے، اس مقام پر عقل اور شریعت یھ حکم کرتی ھے کھ دوسرے طریقے کی مشورت کریں ، یھ مشورت  نا محدود عقل کے ساتھه ھے ، جو عقل عالم خلقت کے مسائل سے مطلق آگاھی رکھتی ھے۔ جو بندوں کی نیکی اور برائی سے آگاه ھے، اور سب کی خیر اور صلاح چاھتی ھے۔ اس کے ساتھه مشورت کرنے کو اسلامی ثقافت میں ” استخاره ” کھتے ھیں۔ استخاره یعنی دو امر کے درمیان بھترین کو پانا ، بھترین کو چاھنا ، خیر کی طلب کرنا اور نیکی اور خوبی کی تلاش کرنا۔ اس لئے استخاره کرنے والے فرد کی روحانی اور باطنی حالت جتنی پاک ھو استخاره پر اطمینان کا درجھ بھی بڑھ جاتا ھے۔

استخاره کے دو معنی ھیں: ایک استخاره کا حقیقی مطلب ، جو کھ روایات اور احادیث میں زیاده ذکر ھوا ھے۔ وه خدا سے خیر طلب کرنا[6] ھے۔ اس طرح کا استخاره واقع میں دعا کی ایک قسم میں سے ھے۔ یھ استخاره جو مطلق استخاره ھے ، شک اور تردد کی صورت کیلئے مخصوص نھیں ھے۔ بلکھ یھ خداوند متعال سے طلب مدد اور اپنے سارے کاموں کو اُسی کے سپرد کرنا ھے اسی لئے حضرت امام صادق علیھ السلام نے فرمایا: کھ خداوند متعال نے فرمایا ” من شفاء عبدی ان یعمل الاعمال و لا یستخیرنی” برے بندے کی بڑی بدبختی یھ ھے کھ اپنے کاموں کومجھه سے استخاره کئے بغیر انجام دے۔

بھت ساری روایات کے مطابق اس طرح کا استخاره حیرت اور شک کو دور کرنے کیلئے نھیں ھے ،بلکھ ھر مرحلے میں ایک اچھا اور راه کشا کام ھے۔

استخاره کے دوسرے معنی ھیں ، خدا سے خیرطلب کرنا۔ اس قسم کا استخاره حیرت اور شک سے نکلنے کیلئے کیا جاتا ھے۔ یھ استخاره شک اور تردد کے مواقع پر میں کیا جاتا ھے۔

بھرحال اگر استخاره نماز کے بعد ، طھارت ، دعا اور حضور قلب کے ساتھه ھو، تو بھت بھتر ھے کیوں کھ ائمھ اطھار علیھم السلام نے استخاره کے آداب میں اسی طرح حکم فرمایاھے۔ [7]

۶۔ استخاره کی مقام یعنی ، کھاں پر استخاره کرنا چاھئے ، ھمارے دینی تعلیمات میں اس سلسلے میں تین نظریات موجود ھیں۔

الف ) پھلا نظریھ یھ ھے کھ کسی مسئلھ میں بغیر کسی غور و فکر کے نتیجے کو صرف استخاره پر ڈال دیں اور استخاره کی جانب پناه لیں۔

ب ) دوسرا نظریھ جو عقل پسند اور سرے سے ھی استخاره کے مخالف ھیں۔

ج ) تیسرا نظریھ ، عقل کے مقام کا اعتراف کرتے ھوئے ، اور مشورت کی اھمیت کو بھی مد نظر رکھه کر ، استخاره کو اس طرح بیان کرتے ھیں که جو بعینه ، عقل اور فکر کے مطابق ھے ، اس نظریھ کے مطابق استخاره کرنے میں کوئی بھی دینی رکاوٹ موجود نھیں ھے کیونکھ استخاره کے ذریعے صرف شک کے مواقع  پر  ایک طرح کا انتخاب عمل میں لایا جاتاھے ، اسی طرح استخاره نھ کسی حلال کو حرام ، اور نھ ھی غیر واجب کو واجب کرتا ھے اور نھ ھی خدا کے احکام میں کسی حکم کو تبدیل کرتاھے ، بلکھ صرف یھ بات بیان کرتا ھے کھ استخاره کرنے والے کی خیر کس کام کو انجام دینے میں اور کس کام کو ترک کرنے میں ھے اور اس طرح اسے شک کی حالت سے نجات دیتا ھے ، لیکن یھ بات کھ کام کے انجام یا ترک کرنے کا اثر آئنده کیا ھوگا اور کون سے واقعات رونما ھوں گے یھ بات استخاره کی حدود سے باھر ھے۔

۷۔ یھ جو شیراز کے مشھور شاعر حافظ نے فرمایا ھے ” نیک کام میں استخاره کی ضرورت نھیں ، بھت ھی مناسب بات ھے ، اور شادی کرنے کے سلسلے میں جو کھ جو ایک نیک اور سنت موکده ھے اس میں استخاره کی ضرورت نھیں ، لیکن کسی خاص موقع پر یا آپ کو داماد کے طور پر انتخاب کرنے میں ، لڑکی والوں کو ، کسی بھی دلیل کے پیش نظر ، شک اور تردد ھواور اپنی لڑکی کی خیر اور صلاح کو وه اس شادی کے نھ کرنے میں دیکھتے ھوں یا شاید استخاره ، آپ کی شادی کے سلسلے میں ان کی مخالفت کا اصلی سبب نھ ھو ، بلکھ یھ صرف ایک بھانھ ھو تا کھ آپ اس شادی سے صرفِ نظر کریں ۔

اسلامی تعلیمات میں شادی کے سلسلے میں جس چیز کے لئے بھت تاکید کی گئی ھے وه لڑکی اور لڑکے کا “ھم کفو” ھونا ھے۔ یعنی لڑکا شادی کرنے کیلئے اس لڑکی کا انتخاب کرے جو گھریلو، فکری ، مالی اور ثقافتی لحاظ سے اس کے ساتھه ایک ھی سطح پر ھو ؟

بھتر ھی ھے کھ لڑکا اور لڑکی ایک ھی سطح کے ھوں تا کھ خدا نخواستھ آئنده وه مشکل میں نه پڑجائیں۔

آپ کو چاھئے کھ اس شادی کےلئے ان کی مخالفت کے اصلی سبب کی چانچ کریں، اور یھ تصور کریں، کھ شاید آپ انکے آئیڈیل داماد نھیں ھیں۔ انکی نظر میں ایک پسندیده اور آئیڈئل داماد کے معیار اور شرائط پر آپ نھیں اترتے۔ اگر آپ واقعی یھ سوچتے ھیں کھ مورد نظر لڑکی آئنده آپ کی آئیڈئل بیوی ھوسکتی ھے، تو پھر آپ کوشش کریں کھ ان کے معیار اور شرائط جو آپ کی توانائی میں ھے اپنے اندر پید اکریں ، تاکھ انشاء اللھ اپنے آئیڈئل تک پھنچ جائیں۔

آپ عزیز القدر بھائی کو ھم یھ نصیحت کرتے ھیں کھ شادی کے اھم مسئلے میں اور آجکل کے ماحول میں جو گھروںمیں صورت حال حاکم ھے ، اس کے پش نظر آپ زیاده گھرائی سے  کوشس کریں کھ اس فرد کو اپنی آئنده زندگی کیلئے منتخب کریں کھ آپ کا دین اور آپ کے اخلاق اس کے لئے اھم ھوں اور وه آئنده زندگی کی مشکلات اور سختیوں کو قابو میں رکھے۔ اور آپ کے  ساتھه رھنے کی عاشق ھو۔


مزید  قرآن مجید کی بعض آیات میں مسلمانوں سے کفار اور مشرکین کو بخش دینے کی سفارش کی گئی ہے، لیکن دوسری آیات میں ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیا یہ ایک قسم کا تعارض نہیں ہے؟

[1]   ” ما بنی فی الاسلام بناء احب الی الھ عز و جل و اعز مں التزویج ” ، ” مستدرک الوسائل” ، ج ۲۔ ص ۵۳۱

[2]  ” اذا جائکم من ترضون خلقھ ، ودینھ فزوجوه ان لا تفعلوه تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر” وسائل الشیعھ ، ج ۱۴۔ ص ۵۱۔

[3] سوره انفاق / ۲۲

[4] نھج البلاغھ، خ ۱۔

[5] ” کل ما حکم بھ العقل حکم بھ الشرع و کل ما حکم بھ الشرع حکم بھ العقل ” ، جو حکم شرع دیتی ھے عقل بھی وھی حکم کرتی ھے اور جو حکم عقل دیتی ھے شرع بھی وھی حکم دیتی ھےَ

[6]  فرھنگ معین و منتھی الارب ، ” لفظ” استخاره۔

[7] بحار الانوار ج ۹۱ ، ص ۲۲۲، وسائل الشیعھ ، باب استخاره۔

تبصرے
Loading...