کیا حکمت اور علم میں کوئی فرق هے؟

0 0

لغوی معنی: “حکمت” علم و عقل کے ذریعه حق و حقیقت تک پهنچنا هے[1]– یه لفظ ماده “حکم” سے هے اور روکنے اور منع کے معنی میں هے- اور اس کے پهلے معنی هیں حکم دینا جو ظلم کو روکنے کا سبب بن جاتا هے- حکمت کی خصوصیت یه هے که یه انسان سے جهالت اور نادانی کو دور کرتی هے[2]– لیکن “علم” دانست، دانش[3]، ادراک اور کسی چیز کی بنیاد یا حقیقت کو سمجھنے کے معنی میں هے[4]، اور “علم” بعض نتائج پر دلالت کرتا هے جو اشیاء میں پائے جاتے هیں اور ان کے ذریعه چیزوں کے درمیان تمیز اور تشخیص کی جا سکتی هے[5]

قرآن مجید میں علم و حکمت:

قرآن مجید میں لفظ “حکمت” بیس بار دهرایا گیا هے- حکمت کی وضاحت اور تفسیر میں مفسرین نے مختلف اقوال بیان کئے هیں، جن میں سے اهم حسب ذیل هیں:

۱۔ “حکمت” سے مراد نبوت هے[6]– چناچه آیه شریفه میں آیا هے: ” اور داود نے جالوت کو قتل کر دیا اور الله نے انهیں ملک اور حکمت {نبوت} عطا کر دی[7]-“

۲۔ اس سے مراد شرائع {حلال و حرام کا علم} هے[8]– اور آیه شریفه میں آیا هے: ” اور خداوند متعال اس کو کتاب و حکمت { حلال و حرام کا علم} اور توریت و انجیل کی تعلیم دے گا[9]-“

۳۔ بعض مفسرین کے نظریه کے مطابق حکمت سے مراد قرآن مجید کا علم اور ناسخ و منسوخ، محکم و متشابه، مقدم و موخر وغیره سے آگاهی هے[10]– آیه شریفه میں آیا هے که : “وه جس کو بھی چاهتا هے حکمت عطا کرتا هے اور جسے حکمت عطا کر دی جائے اسے گویا خیر کثیر عطا کر دیا اور اس بات کو صاحبان عقل کے علاوه کوئی نهیں سمجھتا[11]-“

۴۔ بعض مفسرین کے قول کے مطابق، اس سے مراد، قول و فعل کے میدان میں خدا کے پیغام کی حقیقت تک پهنچنا هے[12]

۵۔ اور بعض مفسرین نے کها هے: ” اس سے مراد دین کا وسیع علم هے[13]-“

۶۔ بعض مفسرین کے اعتقاد کے مطابق اس لفظ کا مفهوم دین کے بارے میں صحیح فهم و ادراک هے[14]

۷۔ بعض مفسرین کا یه اعتقاد هے که “حکمت” ایک ایسا علم هے جو نفع و فائده سے سرشار اور انسان ساز هے[15]

۸۔ آخر کار مرحوم علامه طبا طبائی فرماتے هیں: ” حکمت کے معنی، عملی صورت کا محکم و مستحکم هونا هے[16]– ایسا لگتا هے که یه معنی مذکوره نظریات کا جامع هے- حقیقت میں مذکوره اقوال اس معنی کے مصادیق هیں- کیونکه لفظ “محکمه”، “حکمت” اور اس جیسے الفاظ، استحکام کے معنی کی علامتیں هیں اور اس کے معنی مستحکم اور ناقابل زوال هونے کے هیں[17]– خداوند متعال نے قرآن مجید کا نام ” کتاب حکیم” رکھا هے، وه اس لئے که قرآن مجید بر وقت بات کرتا هے، اچھی بات کرتا هے اور اس کے ساتھه دلیل و برهان پیش کرتا هے- جس بات میں برهان نه هو وه مستحکم نهیں هوتی هے[18]– پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے نقل کیا گیا هے، که آپ {ص} نے فرمایا: ” خداوند متعال نے مجھے قرآن مجید کی شکل میں گراں قیمت نعمت عطا کی هے اور اس کے ذریعه مجھے حکمت بھی دی هے، اور جس گھر میں حکمت سے استفاده نه کیا جائے وه کھنڈر هے، اس لئے علم و دانش کو حاصل کرو، ایسا نه هو که نادانی اور لاعلمی کی حالت میں مر جاو[19]-“

لفظ “علم” قرآن مجید میں ۱۵۰ بار دهرایا گیا هے، لیکن اس کے مشتقات قرآن مجید میں بهت زیاده استعمال هوئے هیں- یه لفظ قرآن مجید میں بعض اوقات جاننے کے معنی میں آیا هے: ” قد علم کلّ اناس مشربھم [20]“، بعض اوقات اظهار اور وضاحت کے معنی میں آیا هے: ” ثم بعثنا ھم لنعلم ای الحزبین احصی لما لبثوا امداً[21]-” علامه طبا طبائی لنعلم ای الحربین کے ذیل میں فرماتے هیں، علم کا مراد فعلی هے اور یه کسی شئے کے خدا کے هاں خاص وجود میں ظهور اور حضور هے- اس معنی میں “علم” قرآن مجید میں زیاده استعمال هوا هے اور کبھی دلیل و حجت کے معنی میں بھی استعمال هوا هے[22]

مجموعی طور پر جب هم ان آیات کی جانچ پڑتال اور اس ماده اور اس کے مشتقات پر بحث کرتے هیں تو ایسا معلوم هوتا هے که تمام مخلوقات صاحب علم هیں- چناچه، علامه طبا طبائی آیه شریفه “واِن من شئی الاّ یسبّح بحمده والکن لا تفقھون تسبیحھم” کے ذیل میں فرماتے هیں که جمله: ” لیکن ان کی تسبیح کو نهیں سمجھتے هیں” اس بات کی بهترین دلیل هے، مخلوقات کی تسبیح سے مراد، علم اور زبان حال کی بنیاد پر تسبیح هے، کیونکه اگر مراد زبان حال مخلوقات اور وجود صانع پر ان کی دلالت هوتی تو اس کے کوئی معنی نهیں تھے، فرماتے هیں: “تم ان کی تسبیح کو نهیں سمجھتے هو[23]“- اس معنی کی دوسری آیات بھی دلالت کرتی هیں، جیسے : ” اس دن {زمین} اپنی خبریں بیان کرے گی ، که تمهارے پروردگار نے اسے اشاره {وحی} کیا هے[24]-” اسی طرح کچھه آیات انسانوں کے بدن کے اعضاء کی گواهی، خدا سے گفتگو کرنے، خدا کی طرف سے جواب دینے پر دلالت کرتی هیں- البته قابل توجه بات هے که علم کے مختلف مراتب هیں-

حکمت اور علم میں فرق:

ان دو الفاظ کے درمیان فرق کو بیان کرنے سے پهلے ضروری هے که هم جان لیں که حکمت و علم کی واجب الوجود {خدا} سے نسبت دی جاتی هے[25]– که قرآن مجید میں خداوند متعال کی توصیف کے طور پر بیانوے بار لفظ “حکیم” اور ایک سو چھپن بار لفظ “علیم” استعمال هوا هے- حکیم اور علیم ایک جهت سے خداوند متعال کی صفات هیں، کیونکه خدا کی حکمت، یعنی انتهائی استحکام و پائداری کے ساتھه اور فضولیات کے بغیر مخلوقات کو پیدا کرنا، خداوند متعال کے اس لامتناهی علم پر مبنی هے، جو خداوند متعال کی صفات ذات میں سے هے- اگرچه حکمت، صفت فعل بھی هے، کیونکه فعل بھی حکمت ، استحکام اور حق پر مبنی هے اور باطل سے پاک و منزه هے- بهرحال چونکه خداوند متعال کی ذاتی صفات اس کی عین ذات هیں، اس لئے ان دو کے درمیان کوئی فرق نهیں هے، مگر اعتبار کے لحاظ سے، کیونکه حکیم و علیم دونوں پروردگار عالم کی دانائی کی طرف اشاره هیں، لیکن “حکمت” ، عام طور پر عملی پهلو بیان کرتی هے- اور “علم” نظری پهلو بیان کرتا هے- به الفاظ دیگر ” علیم” خداوند متعال کی لامتناهی آگاهی کی خبر دیتا هے اور “حکیم” کی صفت ، جو حساب و مقصد کے لحاظ سے کائنات کو پیدا کرنے اور قرآن مجید کو نازل کرنے میں استعمال هوئی هے خداوند متعال کی لامتناهی آگاهی کی خبر دیتی هے[26]– بعض اوقات ان دو صفتوں کو ممکن الوجود صاحب عقل {انسان} سے نسبت دی جاتی هے، که انسان میں حکمت، مخلوقات کو پهچاننے اور نیک و پسندیده کام انجام دینے کے معنی میں استعمال هوتی هے[27]– به الفاظ دیگر، قدروں اور معیاروں کی معرفت، جس کے ذریعه انسان کو پهچان لے اور باطل کو هر صورت میں تشخیص دے حکمت هے اور یه وهی چیز هے ، جس کی بعض فلاسفه نے “کمال قوه نظریه” سے تعبیر کی هے[28]– لهذا، حکیم وه هے، جو اهل معرفت اور گهرے فهم اور عقل سلیم کا مالک هو- امام موسی بن جعفر علیه السلام نے هشام بن حکم سے فرمایا: “حکمت سے مراد فهم و عقل هے[29]-” نتیجه کے طور پر “حکمت” ادراک اور تشخیص کی ایک حالت اور خصوصیت هے جو علم پر مبنی هے، جس کی حقیقت خدا کے هاتھه میں هے- چناچه امام صادق علیه السلام نے فرمایا هے: ” خداوند متعال بذات خود علم هے جس میں جهالت کی کوئی گنجائش نهیں هے[30]– یه وهی حقیقت هے جو لقمان نے خداوند متعال سے حاصل کی تھی[31]– فلاسفه کی ایک جماعت کا یه اعتقاد هے که سوچ، مطالعه اور غور و فکر، علم و دانش کو پیدا نهیں کر سکتے هیں، بلکه انسانی روح کو معقولات قبول کرنے کے لئے آماده کرتے هیں اور جب انسان کی روح معقولات کو قبول کرنے کے لئے آماده هوتی هے تو خالق کائنات کا فیض انسان کی روح پر برستا هے[32]– اس کے بعد عمل کے مرحله میں انسان کے لئے ادراک و تشخیص کی حالت اور خصوصیت حاصل هوتی هے- پس به الفاظ دیگر انسان کا عمل علم کو قبول کرنے کے لئے روح کو آماده کرنے کا سبب بن جاتا هے اور علم کو قبول کرنا حق کو باطل سے متمیز کرنے اور معانی و مقاصد کا ادراک کرنے کے لئے انسان میں روحانی حالت پیدا کرنے کا مقدمه اور سبب بن جاتا هے-

آخری نکته:

جیسا که هم نے بیان کیا که، علم کے کئی مراتب هیں، هستی {باری تعالیٰ} کے عالی ترین مرتبه کے علاوه انسان ، اور غیر ذوی العقول مخلوقات بھی علم رکھتے هیں اور عالم هستی کی تمام مخلوقات اور علم کے درمیان ان کے وجودی تناسب اور ظرفیت کے مطابق نسبت پائی جاتی هے- اس کے برعکس حکمت، صرف ذوی العقول کی خصوصیت اور صفت هے-


مزید  مشارکت کسے کهتے هیں؟

[1] مفردات راغب، ماده “حکم”.

[2] معجم مقاییس اللغة، ماده “حکم”.

[3] قرشى، قاموس قرآن ،ج 5، ص 32، ماده “حکم”.

[4] مفردات راغب، ماده “حکم”.

[5] معجم مقاییس اللغة، ماده “علم”.

[6] مجمع البیان، 10 جلدى، انتشارات: مؤسسه الأعلمى للمطبوعات، تاریخ: 1415 ه ق: ج 2، ص 151.

[7] بقره، 251.

[8] مجمع البیان، ایضاً ، ص 298.

[9] آل عمران، 48.

[10] مجمع البیان، ایضاً ، ص 194.

[11] بقره، 269.

[12] مجمع البیان، ایضاً.

[13] ایضاً.

[14] ایضاً.

[15] ایضاً.

[16] علامه طباطبایى، محمد حسین، تفسیر المیزان، ترجمه موسوى همدانى، ناشر: بنیاد علمى و فکرى علامه طباطبایى، تاریخ 1363، ج 2، ص 351.

[17] جوادى آملى، عبداللَّه، قرآن در قرآن (تفسیر موضوعى) ، انتشارات اسوه، ج 1، ص 297.

[18] ایضاً.

[19] سیوطى، الدر المنثور، ج 1، ص 335.

[20] بقره، 6.

[21] کهف، 12.

[22] کھف،4 و 5.

[23] علامه طباطبایى، محمد حسین، تفسیر المیزان، ایضاً ، ج 17، ص 609.

[24] زلزال، 5.

[25] بقره، 27.

[26] مکارم شیرازى، تفسیر نمونه، ج 15، ص 399.

[27] مفردات راغب، ماده “حکم”.

[28] نمونه، ایضاً.

[29] نمونه، ایضاً ، ج 17، ص 37.

[30] عاملی، شیخ حر، الفصول المهمة فی اصول الائمة، ج 1، ص 228.

[31] لقمان، 12.

[32] نمونه، ایضاً، ج 16، ص 349.

تبصرے
Loading...