کیا حضرت عمر نے جھوٹی حدیثیں گھڑ نے کی وجه سے ابوهریره کو ڈانٹا هے؟

0 0

اسلام سے قبل ابوهریره کی زندگی کے بارے میں کوئی اطلاع نهیں هے ، مگر یه که اس نے خود نقل کیا هے که بچپن سے هی ایک چهوٹی بلی کے ساتھـ کهیلتا تھا اور ایک یتیم اور فقیر شخص تھا اور بهوک سے بچنے کے لئے لوگوں کی خد مت کرتا تھا- دینوری نے اپنی کتاب ” المعارف” میں لکها هے که وه یمن کے “دوس “نامی ایک قبیله سے تعلق رکهتا تھا ، یتیمی کی حالت میں زندگی بسرکرتا تھا اور اس نے خالی هاتھـ مهاجرت کی ، تیس سال کی عمر میں مدینه آگیا اور تنگ دستی کی وجه سے صفه کی طرف راهی هوا چونکه فقیر مها جرین وهاں پر اکٹھا تھے[1]

خود ابو هریره نے اسلام اور پیغمبر اسلام (ص) پر ایمان لانے کی علت واضح طور پر پیٹ بهر نا اور فقر و تنگدستی سے نجات حاصل کر نا بیان کیا هے، نه کوئی اور وجه [2]– وه خود کهتا تھا که میں همیشه پیٹ بھر نے کی فکر میں هوا کرتا تھا ، یهاں تک که بعض صحابی ، جن کے گهر ، میں کهانا کهانے کے لئے جاتا تھا ، مجھـ سے فرار کرتے تھے – وه جعفر بن ابو طالب کو اس کی مهمان نوازی کر نے کی وجه سے رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے بعد تمام صحابیوں سے برتر جانتا تھا اور ان کے حق میں بهترین جملات بیان کئے هیں [3]

تعالبی نے اپنی کتاب ” ثمار القلوب ” میں لکها هے که ابوهریره معاویه کے ساتھـ کهانا کهاتا تها اور علی (ع) کے پیچهے نماز پڑهتا اور اس کام کی علت خود بیان کرتا تھا که معاویه کے هاں کهانا پر چرب اور مزه دار هے لیکن علی (ع) کے پیچھے نماز پڑهنا افضل هے[4]

لیکن کیا خلیفه دوم نے ، ابو هریره کو حدیث گهڑ نے کے الزام میں تازیانے لگائے هیں اور اسے حدیث نقل کر نے سے منع کیا هے ؟ اس سلسله میں کهنا چاهئے :

اس بات پر اتفاق نظر هے که ابوهریره صرف ایک سال اور نو ماه پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے همراه تھے، لیکن دوسرے اصحاب کی به نسبت آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم سے زیاده احادیث نقل کی هیں [5]

ابن حزم ، نے اس کی نقل کی گئی احادیث کی ایک تعداد کے بارے میں لکها هے : ” مسند بقیّ بن مخلد نے ابو هریره سے ٥٣٧٤احادیث نقل کی هیں اور بخاری نے اس سے ٤٤٦ احادیث نقل کی هیں [6]

جیسا که بخاری نے ابو هریره سے نقل کیا هے که خود اس نے کها هے: ” پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے اصحاب میں سے کسی ایک نے آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم سے اتنی احادیث نقل نهیں کی هیں ، جتنی میں نے نقل کی هیں مگر یه که عبدالله بن عمرو نے که وه احادیث کو لکهتے تھے اور میں نهیں لکهتا تھا-[7]

ابو هریره کے ذریعه بڑی تعداد میں روایتیں نقل کر نے پر عمر بن خطاب کو ڈر لگ گیا یهاں تک که اسی وجه سے اس کو کوڑے مارے اور کها : اے ابو هریره حد سے زیاده روایتیں نقل کرتے هو، مجهے ڈر لگتا هے که کهیں رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم پر جھوٹ اور افترا باندهو گے ، اس کے بعد اس کو انتباه کیا که اگر رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم سے روایتیں نقل کر نے کو ترک نه کرے تو اسے اپنے وطن لوٹا دے گا[8] – اسی وجه سے اس کی نقل کی گئی روایتیں زیاده تر حضرت عمر کی وفات کے بعد کے زمانه سے مر بوط هیں چونکه اس کے بعد وه کسی سے نهیں ڈرتا تھا[9]– ابو هریره خود کهتا تھا : میں آپ کے لئے ایسی احادیث نقل کر تا هوں که اگر عمر کے زمانه میں نقل کرتا تو وه مجهے تازیانه لگاتے[10]

زهری نے ابن سلمه سے نقل کیا هے که میں نے سنا که ابو هریره کهتا تھا:

“جب تک عمر اس دنیا سے چلے گئے ،میں نهیں کهه سکتا تھا که رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم نے یوں فر مایا هے- اگر عمر زنده هو تے تو کیا هم یه احادیث آپ کے لئے نقل کر سکتے تھے ؟ خدا کی قسم اس وقت بھی میں اپنی پیٹھـ پر پڑے عمر کے کوڑوں کو یاد کر کے گهبراتا هوں[11] –”

ابو هریره پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم سے اتنی روایتیں نقل کر نے کے سلسله میں ایک تو جیه بیان کرتا تھا اور کهتا تھا : ” جب کوئی روایت ، کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال نه کرے ، اس روایت کو پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم سے نسبت دینے میں کوئی مشکل نهیں هے –” اس نےاپنے اس خیالی اصول کے ذریعه پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے نسبت دی گئی اپنی احادیث کو شرعی حیثیت بخشی هے ، من جمله اس کی نقل کی گئی ایک حدیث هے جسے طبرانی نے ابو هریره سے اور اس نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا هے که : ” جب تک کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال نه کرو گے اور حق پر پهنچ گئے اس کو میری طرف نسبت دینے میں کوئی حرج نهیں هے –” اس کے علاوه نقل کیا هے که اس نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم سے سنا هے که آپ (ص) فر ماتے تھے : ” جو بهی کوئی ایسی حدیث نقل کرے جس میں خدا کی رضا هو، پس میں نے اسے کها هے اگر چه میں نے اسے نه کها هو”[12]

جبکه حقیقت یه هے که پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم سے جو چیز ثابت هے ، وه یه هے که آپ (ص) نے فر مایا هے : ” جو بھی کوئی ایسی حدیث مجھـ سے نقل کرے جسے میں نے نه کها هو اس کی جگه جهنم میں هے [13]–”

حضرت عمر نے چونکه حدیث نقل کر نے میں ابوهریره کی افراط کا مشاهده کیا تھا اس لئے انهوں نے تاکید کی تھی که مذ کوره حدیث کے بارے میں اس کو یعنی ابو هریره کو همیشه متوجه کرتے رهیں [14]

ابو هریره اور تدلیس ( فریب کاری )

تد لیس (فریب کاری) کے معنی یه هیں که کسی ایسے شخص سے کوئی چیز نقل کر نا ، جس کو نه دیکها هو اور اس سے نه سنا هو یا اپنے کسی هم عصر سے کوئی مطلب نقل کرنا  که اس نے وه مطلب نه کها هو اور نقل کر نے میں ایسا ظاهر کرے که اس سے وه مطلب سنا هے اور اس نے یه بات کهی هے [15]– واضح هے که تدلیس ( فریب کاری ) کی تمام قسمیں قابل مذمت اور حرام هیں اور اسے جھوٹ کا مترادف کها گیا هے[16]

حدیث کے ماهرین نے کها هے که اگر ثابت هو جائے که کسی نے ایک ایسی روایت تدلیس ( فریب کاری ) کے ذریعه نقل کی هے، تو اس شخص سے کوئی روایت قبول نهیں کر نی چاهئے اگر چه هم جانتے هوں که اس نے صرف ایک بار تدلیس ( فریب کاری ) سے کام لیا هے [17]– دینوری اور ابن کثیر نے ابن سعید کے بیٹے سے نقل کیا هے که وه کهتے تھے: ” خداوند متعال سے ڈریئے اور حدیث نقل نه کر نا ، خدا کی قسم میں ابو هریره کے پاس بیٹها تھا که اس نے رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم سے ایک روایت نقل کی اور ایک روایت کعبه احبار سے ، اس کے بعد جو لوگ همارے ساتھـ تھے ان میں سے بعض کو کها که میں رسول خدا صلی الله علیه ٶآله وسلم کی حدیث کو کعب سے نسبت دیتا هوں اور کعب کی حدیث کو رسول خدا (ص) سے نسبت دیتا هوں [18]–” علمائے حدیث نے متفقه طورپر کها هے که : ” ابوهریره ، عبادله ، معاویه اور انس نے کعب الاحبار یهودی سے روایتیں نقل کی هیں ، کعب الاحبار وه شخص هے جس نے مسلمانوں کو دهوکه دینے کے لئے بظاهر اسلام لایا تھا لیکن باطن میں یهودی تھا ، مذکوره افراد میں سے ابوهریره نے دوسروں کی به نسبت کعب الاحبار سے زیاده روایتیں نقل کی هیں اور اس پر اعتماد کیا هے [19]– حقیقت میں کعب الاحبار کی چالبازی ابو هریره پر مسلط هو چکی تھی اور وه دین اسلام میں خرافات اور توهمات داخل کرنا چاهتا تھا-کعب کے بارے میں بیان کئے گئے اقوال سے واضح هو تا هے که کعب کا اپنا ایک خاص طریقه کار تھا، ذهبی نے ” طبقات الحفاظ ” میں ابو هریره کے بارے میں لکها هے: ” کعب ابوهریره کے بارے میں کهتا تھا که میں نے کسی کو نهیں دیکها هے- جو تورات پڑهے بغیر اس کے بارے میں ابوهریره سے عالم تر هو[20]-” ذرا دیکهئے که اس جادو گر نے کیسے ابو هریره کو اپنے شیشے میں اتارا هے ، ابو هریره کیسے سمجھـ چکا تھا که که تورات میں کیا هے جبکه وه تورات کو نهیں پهچانتا تھا اور اگر پهچانتا بھی هو اسے پڑھـ نهیں سکتا تھا چونکه تورات عبرانی زبان میں تھی اور ابو هریره ، عربی لغت بهی نهیں جانتا تھا ، کیو نکه وه ان پڑھـ تھا[21]

بخاری نے ابو هریره سے نقل کیا هے که اهل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے هیں اور اسے اهل اسلام کے لئے عربی میں تفسیر کرتے هیں اور اگر میں عبرانی زبان جانتا تو میں بهی اس کے مفسرین میں شامل هوتا[22]

دینوری نے ابو هریره کے بارے میں لکها هے : ” چونکه ابو هریره نے کچھـ ایسی روایتیں نقل کی هیں که اس کے هم عصرساتهیوں اور اصحاب کبار میں سے کسی نے ان کو نقل نهیں کیا هے بلکه اس پر الزام لگاکر اس کی روایتوں سے انکار کیا هے اور کها هے که تم نے کیسے تنهائی میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے ان روایتوں کو سنا هے جبکه تم کبهی اکیلے آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی خدمت میں نهیں هوتے تھے[23]-“

دینوری کهتے هیں : “عائشه سختی سے اس (ابو هریره ) کا انکار کرتی تھیں[24] اور ابو هریره کو جهوٹ کا الزام لگانے والوں میں عمر ، عثمان اور علی (ع) وغیره تھے-“

ابو هریره نے رسول اکرم (ص) سے نقل کیا تها که ” عورت، حیوان اور گهر کے بارے میں طیره (بد شگونی ) صحیح هے- ” جب اس حدیث کو عائشه کے پاس نقل کیاگیا تو انهوں نے کها: ” قسم اس خدا کی جس نے قرآن مجید کو ابو القاسم (ص) پر نازل کیا هے ، جو کوئی اس حدیث کو پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے نسبت دیدے ، اس نے جهوٹ بولا هے ، بلکه پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے فر مایا هے: ” اهل جاهلیت کهتے تھے ، طیره (بد شگو نی ) حیوان ، عورت اور گهر میں هے –”

حضرت علی علیه السلام فر ماتے تهے : ” ابوهریره سب سے جهوٹا انسان هے –” اور ایک دوسری جگه پر فر مایا : ” رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم پر جهوٹ کی نسبت دینے والوں میں سب سے جهوٹا شخص ابوهریره تها- ” کهتے هیں که ایک دن ابوهریره نے کها : ” حدثنی خلیلی، میرے دوست نے میرے لئے حدیث نقل کی – ” حضرت علی علیه السلام نے فوراً اس کے جواب میں فر مایا : ” متی کان النبی خلیلک ، رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کب تیرے دوست تهے”[25] ؟ !

ابو جعفر اسکافی نقل کرتے هیں : ” معاویه نےصحابیوں اور تابعین کے ایک گروه کو اکسایا تاکه علی علیه السلام کے خلاف قبیح اور منفی احادیث گهڑلیں ، صحابیوں میں سے ابو هریره ، عمر بن عاص ، مغیرۃ بن شعبه اور تابعین میں سے عروۃ بن زبیر تھے جنهوں نے یه کام اپنے ذمه لیا [26]–”

اس سلسله میں ابو هریره کے بارے میں دو الگ کتا بیں تالیف کی گئی هیں :

١- ” ابو هریره “، تالیف سید شرف الدین عاملی – مذکوره سوال کے سلسله میں اس کتاب کے صفحه نمبر ١٣٦، ١٦٠ اور ١٨٦کی طرف رجوع کیا جاسکتا هے-

٢- ” شیخ المضیره ابو هریره ” تالیف ، محمود ابوریه مصری-


مزید  کیا عثمان کی کارکردگی کے بارے مین حضرت علی{ع} کی تعبیر اخلاق و ادب سے عاری نهیں هے؟

[1] – الشیخ محمود ابو ریه ، شیخ المضیره ابو هریره ، ص١٠٣; الشیخ محمود ابوریه ، اضواء علی السنۃ المحمدیۃ ، ص١٩٥; سید شرف الدین موسوی عاملی ،ابوهریره ،ص١٣٦-

[2] – ایضاً-

[3] – فتح الباری ،ج٧،ص٦٢-

[4] – ثعالبی ، ثمار القلوب فی المضاف والمنسوب ،ص ٨٧- ٧٦-

[5] – محمود ابوریه ، اضواء علی السنۃ المحمدیۃ ،ص٢٠٠-

[6] – الشیخ محمود ابو ریه ، شیخ المضیره ، ابو هریره ، ص١٢٠-

[7] – ابن حجر ، فتح الباری ، ج٢،ص١٦٧اس نے کها هے که ابوهریره نه حدیث لکهتاتها اور نه حافظ قرآن تھا)

[8] – صحیح بخاری ، ج٢، کتاب بدی الخلق ص ١٧١; مسلم بن حجاج نیشا بوری ، صحیح مسلم ، ج١،ص٣٤; ابن ابی الحدید معتزلی ، شرح نهج البلاغه ، ص٣٦٠; ذهبی ، سیر اعلام النبلاء ، ج٢، ص ٤٣٣و ٤٣٤; متقی هندی ، کنز العمال ، ج٥، ص٢٣٩ ;ح ٤٨٥٧;امام ابو جعفر اسکافی ، به نقل از شرح نهج الحمیدی ، ج١،ص٣٦٠-

[9] – ایضاً-

[10] – محمود ابو ریه ،اضواء علی السنۃ المحمدیۃ ،ص٢٠١-

[11] – ایضاً-

[12] – شاطبی ،الموا فقاتف ج٢،،ص٢٣-

[13] – محمود ابو ریه ،اضواء السنۃ المحمدیۃ ،ص٢٠٢-

[14] – سید شرف الدین موسوی عا ملی ،ابو هریره ،ص١٤٠-

[15] – شیخ احمد شاکر،شرح الفیۃ السیوطی ،ص٣٥-

[16] – ایضاً-

[17] – محمود ابو ریه اضواء علی السنۃ المحمدیۃ ،ص٢٠٢ و٢٠٣-

[18] – ابن کثیر ، البدایۃ والنهایۃ ،ج٨،ص١٠٩; ابن قتیبه دینوری ،تاویل مختلف الحدیث ،ص٥٠و ٤٨-

[19] – محمود ابو ریه اضواء علی السنۃ المحمدیۃ ،ص٢٠٧-

[20] – ذهبی طبقات الحفاظ ، به نقل از محمود ابوریه، اضواء علی السنۃ المحمدیۃ ،ص٢٠٧-

[21] – محمود ابو ریه اضواء علی السنۃ المحمدیۃ ،ص٢٠٧-

[22] – ایضاً-

[23] – دینوری تاویل مختلف الحدیث ،ص٥٠-

[24] – ایضاً ،ص٤٨-

[25] – اضواء علی السنۃ المحمدیۃ ،ص٢٠٤-

[26] – محمد عبده ،شرح نهج البلاغه ،ج١،ص٣٥٨-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.