کیا حضرت آیۃ اللھ سیستانی کی نظر میں قریشی عورتیں حیض کے مسئلھ میں دوسروں کے ساتھه فرق کرتی ھیں؟

0 0

[1]  توضیح المسائل مراجع ، مسالھ ۴۳۵ ، ص ۲۵۳۔

[2]  جیسے قرآن مجید کے الفاظ کو چھونا اور خدا کے نام گرامی ، جس زبان میں بھی ھو اور احتیاط واجب کی بنا پر انبیاء اور ائمھ معصومیں علیھم السلام کے مبارک نام بھی اسی میں شامل ھیں ۲۔ اس سوره کا پڑھنا جس میں سجده کی آیت ھے اور جنھیں اصطلاح میں “سور العزائم” کھتے ھیں ۔ ۳۔ مسجد الحرام اور مسجد النبوی میں داخل ھونا اگرچھ ایک طرف داخل اور دوسری طرف خارج ھوجانے ۔ ۴۔ مساجد میں قیام کرنا لیکن ایک اگر دروازے سے اندر جائے اور دوسرے دروازے سے باھر نکلے تو اس میں کوئی اشکال نھیں ، احتیاط واجب یھ ھے کھ ائمھ معصومین علیھم السلام کے حرم میں بھی توقف نھ کرے ۔

۵۔ کسی چیز کو مسجد میں رکھنا یا اٹھانا ، ۶ جماع اور بیوی کے ساتھه ھم بستری کرنا ۔ 

 البتھ جو عبادتیں طھارت ” وضو ، غسل ، تیمم ” کے ساتھه مشروط ھیں حائض پر حرام ھیں جیسے نماز ، روزه ، طواف ، نماز میت کے علاوه ، جسے حائض عورت انجام دے سکتی ھے ، لیکن اس خاص مورد میں اسے مستحاضھ عورت کے مطابق عمل کرنا چاھئے۔ ۔ العروۃ الوثقیٰ ج ۱ فی احکام الحائض، ایضا ، فی غایات الوضو، توضیح المسائل مراجع ، ج ۱ مسالھ ۳۵۵، العروۃ الوثقی ج ۱ آداب صلاۃ المیت۔

[3]  توضیح المسائل مراجع ، ج ۱ مسئلھ ۴۴۲، العروۃ الوثقی ، ج ۱ آداب صلاۃ المیت۔

[4]  مثال کے طورپر نماز پڑھنا ، حضرت آیۃ اللھ سیستانی فرماتے ھیں: اگر استحاضھ قلیلھ ھو یعنی خون روئی کے اندر نھ گیا ھو ، تو خون دیکھنے کی صورت میں ھر نماز کیلئے وضو کرے اور روئی کو تبدیل کرنا یا پاک کرنا واجب نھیں ھے مثال کے طورپر نماز ظھر کیلئے وضو کرے اور دوباره خون دیکھنے پر نماز عصر کیلئے دوباره وضو کرے۔  

 اگر مستحاضھ متوسطھ ھے یعنی خون روئی کے اندر چلا جائے اسے چاھئے کھ وضو کرے اور غسل بھی انجام دے یعنی ھر نماز سے پھلے مستحاضھ قلیلھ کے مطابق عمل کرے اور ھر شب و روز میں نماز صبح سے پھلے اور اس نماز جس کو ادار کرنے سے پھلے ، پھلی مرتبھ خون دیکھا ھے غسل کرے ، اور احتیاط واجب کی بنا پر پھلے غسل کرے پھر وضو کرے لیکن اگر مستحاضھ کثیره وضو کرنا چاھتی ھے اسے چاھئے غسل سے پھلے وضو کرے۔

 اور اگر استحاضھ کثیره ھو یعنی خون سے پوری روئی بھر گئی ھے اور اس رومال تک جسے عورتیں عام طورپر خون نھ پھیلنے سے روکنے کیلئے استعمال کرتی ھیں ، بھی خون پھنچ گیا ھے ، تو احتیاط واجب کی بنا پر ھر نماز کیلئے روئی اور رومال کو تبدیل کریں یا اس کو دھولیں اور ایک غسل صبح کی نماز کیلئے اور ایک غسل ظھر اور عصر کیلئے اور مغرب و عشا کیلئے ایک غسل انجام دے اور ظھر اور عضر اور مغرب و عشا کے درمیان زیاده فاصلھ نھ رکھیں اور اگر فاصلھ رکھا تو عصر اور عشاء کیلئے دوباره غسل کریں یھ سب اس وقت ھے جب خون روئی سے رومال تک جاری رھے لیکن اگر خون کا پھنچنا فاصلھ کے ساتھه ھو کھ اس میں عورت ایک نماز یا اسے سے زیاده پڑه سکتی ھے تو احتیاط واجب یھ ھے کھ جب خون روئی سے رومال تک پھنچے تو روئی اور رومال کو تبدیل کرے یا دھولے اور غسل کرے پس اگر مثال کے طورپر عورت نے غسل کیا اور نماز ظھر کو پڑھا لیکن نماز عصر سے پھلے یا اس کے درمیان دوباره خون روئی سے رومال تک پھنچا تو اسے چاھئے کھ نماز عصر کیلئے بھی غسل کرے لیکن اگر فاصلھ اس مقدار میں ھے کھ عورت اس کسے درمیان دو نمازیں پڑھه سکتی ھے مثال کے طورپر نماز مغرب اور عشاء کو اس سے پھلے کھ خون دوباره رومال تک پھنچ جائے پڑھ لے تو اس نماز کیلئے ضروری نھیں ھے کھ دوباره غسل کرے اور ھر صورت میں استحاضھ کثیره میں غسل وضو سے کفایت کرتا ھے۔ ،

 رجوع کریں ، توضیح المسال مراجع ، ج ۱ مسئلھ ، ۳۹۴، ۳۹۶، العروۃ الوثقی ، ج ! فی الاستحاضھ ، مسالھ ج۱ اور ۲، مزید آگاھی کیلئے کھ کس طرح باقی عبادات کو انجام دیا جاسکتا ھے معظم لھ کے رسالھ کی جانب رجوع کریں۔

مزید  مالکی یا حنفی مذاهب میں کیا مشکل هے؟
تبصرے
Loading...