کیا جن هوٹلوں(رسٹورینٹ) میں شراب یا سور کا گوشت ملتا هے یا وه موسسه (ادارے ) کو اسرائیل کی مدد کررهے هیں کام کرنا حرام هے ؟

0 0

مقام معظم رهبری آیت الله خامنه ای (مدظله) نےاس سوال کے جواب میں ، که کیاسور کے گوشت کی پیکنگ کرنے والے کارخانه ، نائٹ کلب یا فساد کے مراکز میں کام کرنا جائز هے ؟ اس کی آمدنی کا کیا حکم هے ؟ فرماتے هیں :

حرام کاموں سے کمائی کرنا جیسے سور کا گوشت بیچنا ، شراب بیچنا ، نائٹ کلبوں کا بنانا یا ان کی  دﻴﻜﻬ بھال کرنا اور قمار بازی ، فسادو فحشا و شراب خواری کے مراکز قائم کرنا اور ان کی دﻴﻜﻬ بھال و غیره جائز نهیں هے اور اس کی کمائی حرام هے اور انسان اس سے حاصل هونے والی اجرت کا مالک نهیں هوگا[1]

سوال کے دوسرے حصه سے متعلق امام خمینی (ره) کا جواب حسب ذیل هے :

سوال: یهودیوں کے اداروں و موسسوں میں اگر معلوم هو که یه اسرائیل کی مدد کرتے هیں تومسلمانوں کا ان اداروں میں خدمت (نوکری) کرنا جائز هے یا نهیں ؟

اور اگر معلوم نه هوکه اسرائیل کی مدد کرتے هیں تو روزانه مزدوری پر کام کرنا کیسا هے ؟

جواب:

نوکری جائز نهیں هے ، اس کی تنخواه اور اجرت حرام هے ، اور شک کی صورت میں ان اداروں میں داخل نه هوں [2] ۔



[1]  توضیھ المسائل (المحشی للأمام الخمینی (ره) ) ج 2 ، ص956 : اجوبۃ الاستفتاءات(بالفارسیۃ)،ص239 ، س1088 ، نیز ملاحضه هو: سوال 1095 ،ص 242 ، سوال 1096 ، ص 243 ۔

[2]  توجیح المسائل (المحشی للأمام الخمینی (ره) ) ج 2 ، ص813 ۔

مزید  بهائیت کے بارے میں ، ان کے افکار غلط هو نے کی دلیل ، ان کےنجس هونے کے اسباب اور سادگی میں ان کے عقائد کو قبول کر نے والے کی حالت کے بارے میں کچھـ وضاحت فر مائیے-
تبصرے
Loading...