کیا جس عورت نے پانچ مھینے سے نفقھ نھیں لیا ھے، اپنے آپ کو مطلَّقھ ( جس کو طلاق دی گئی ھو) جان سکتی ھے ؟ اگر اس کا جواب مثبت ھے تو اس کی “عِدّت” کب سے شروع ھوتی ھے؟

0 0

اسلام میں طلاق کا اختیار مرد( شوھر) کو حاصل ھے۔ [1] پس عورت اپنے آپ کو خود ھی طلاق نھیں دے سکتی ھے۔ مرد کی طرف سے نفقھ نھ دینا ، عورت کو یھ اختیار نھیں دیتا کھ وه اپنے آپ کو طلاق دے، نتیجھ کے طورپر عده کے رکھنے کا مسئلھ اور اس کے شروع ھونے کی بحث پیش ھی نھیں آتے گی۔

ھاں عورت حاکم شرع [2] کی طرف رجوع  کرسکتی ھے اور اپنا مسئلھ ( مرد کی طرف سے نفقھ کا نھ دینا اور بیوی کو چھوڑ کر جانا) ان کے پاس پیش کرسکتی ھے۔ اور نفقھ کی ادائیگی اور طلاق کا تقاضا کر سکتی ھے ، تا کھ حاکم شرع شوھر کو نفقھ دینے پر مجبور کرے ، یا ضرورت پڑنے پر غائبانه طلاق پڑھ دے۔

بھر حال جب شوھر شرعی عذر کے بغیر نفقھ نھ دے ، تو حاکم شرع عورت کو طلاق دلا  سکتا ھے اس طرح  اطلاق پڑھنے کے بعد عدّت کی مدت شروع ھوگی۔

خوش قسمتی سے آج کل ذرائع ابلاغ جیسے ٹلیفون ، ای میل، فیکس، کی سھولیات ھونے سے مسلمان عورت ، دنیا کے کسی کونے سے بھی اپنے مشکلات کو آسانی سے حل کرسکتی ھے۔

حضرت آیۃ اللھ مکارم شیرازی ( مد ظلھ العالی) کے دفتر کی جانب سے جواب:

اگر شوھر شرعی عذر کے بغیر نفقھ دینا ترک کرے تو حاکم شرع اسے طلاق دے سکتا ھے عده،  صیغه کے جاری ھونے کے بعد شروع ھوگا۔

حضرت آیۃ اللھ فاضل لنکرانی کے دفتر کی جانب سے جواب:

نھیں، بلکھ اسے عدالت کی طرف رجوع کرنا چا ھئے۔  عده بھی اس وقت سے شروع ھوتا جب طلاق دی جاتی ھے۔

حضرت آیۃ اللھ بھجت ( مد ظلھ العالی) کے دفتر کی جانب سے جواب:

نھیں۔ وه ایسا نھیں کرسکتی ھے بلکھ اسے شوھر سے طلاق کی درخواست کرنا ھے تا کھ شوھر اگر چاھے طلاق دے دے۔


مزید  کیا شیعوں کا یہ اعتقاد ہے کہ خلیفہ دوم عمر بن خطاب خنثی تھے؟

[1]  تحریر الوسیلۃ ، کتاب الطلاق، ص ۷۶۳، مسائل ، ۱،۲ اور ۳۔

[2]  حاکم شرع سے مراد ، جامع الشرائط فقیھ ھے۔

تبصرے
Loading...