کیا بعض واجبات اور مستحبات کا انجام دینا نماز کے بدل هوسکتے هیں؟

0 2

اس سوال کا جواب دینے سے پهلے، ایک نکته کی وضاحت کرنا ضروری لگتا هے اور وه یه هے که اسلام کے احکام اور دستورات اگرچه فوائد ونقصانات کی بنیاد پر هوتے هیں، لیکن انسان کی عقل اکیلے احکام کے فوائد و نقصانات کو درک کرنے کی تونائی نهیں رکھتی هے، بلکه اس سلسله میں وحی الٰهی اور فرمائشات معصومین (ع) ضروری هے ـ اسی لحاظ سے آپ کے سوال کے سلسله میں که: کیا حاجتمندوں اور بیماروں کی مدد کرنا اور مسجد تعمیر کرنا وغیره جیسے کام نماز نه پڑھنے کی تلافی کرسکتے هیں؟ همیں دیکھنا چاهئے که کیا قرآن مجید اور سنت میں اس سلسله میں کوئی دلیل پیدا کی جاسکتی هے یا نهیں؟ اس کے جواب کها جاسکتا هے : اگرچه فقه میں بعض واجبات اختیاری هیں، یعنی کسی کام کے بدلے میں کوئی دوسرا کام انجام دیا جاسکتا هے ـ مثال کے طور پر روزوں کے کفاره ادا کرنے میں انسان کو اختیار هے که ساٹھـ دن روزه رکھے یا ساٹھـ فقراء کو کھانا کھلائے یا ان میں سے هر ایک کو ایک سیر (750 گرام) طعام دیدے ـ[1] لیکن یومیه واجب نمازوں کے بارے میں، بعض روایات سے یوں استفاده هوتا هے که ان کی جگه پر کوئی چیز بدل قرار نهیں دی جاسکتی هے، بلکه تمام نیک اعمال کے قبول هونے کی شرط، نماز کا قبول هونا هے، جیسے که اس روایت میں فرمایاگیا هے :”اگر نماز قبول هوجائے تو دوسرے اعمال بھی قبول هوجائیں گے اور اگر نماز قبول نه هوئی تو دوسرے اعمال بھی قبول نهیں هوں گے”ـ[2]

بهر صورت جب هم نماز کے بدل میں سلسله میں کوئی دلیل نهیں رکھتے هیں تو هم اپنے گمان پر عمل نهیں کرسکتے هیں، اس صورت میں خدا کے حضور همارے لئے کوئی بهانه نهیں هوگا اگر کوئی شخض متعدد بیماریوں میں مبتلا هو اور ڈاکٹر نے هر بیماری کے لئے خاص دوائی تجویز کی هو تو بیمار ایک خاص دوائی (مثلاً دل کی بیماری کی دوا) کی جگه پر کوئی دوسری دوائی (مثلاً ضیابط کی دوائی) نهیں کھاسکتا هے ـ اس طرح مستحبات اور دوسری واجبات کو انجام دینے کی صورت میں کسی بنیادی اور اهم واجب، جیسے نماز سے غفلت نهیں کرسکتا هے اور اس کی جگه پر کسی اور کام کو انجام نهیں دے سکتا هے ـ

اگرچه بعض مستحب نمازوں کا ـــــ جیسے نماز شب اگر قضا هوجائے تو ـــــ صدقه دیکر اس کی تلافی کی جاسکتی هے ـ[3]


مزید  قرآن مجید کی آیات کیوں نزول کی ترتیب کے مطابق جمع نهیں کی گئی هیں؟

[1]  توضیح المسایل مراجع، ج2، ص928.

[2]  محدث نوری، مستدرک الوسائل، جلد 3، ص 25.

[3]  و یستحب قضاء النوافل الراتبة الیومیة استحبابا مؤکدا و قد روی: أن من یترکها تشاغلا بالدنیا لقی الله مستخفا متهاونا مضیعا لسنة رسول الله ص فإن عجز عن القضاء تصدق عن کل رکعتین بمد فإن عجز فعن کل أربع فإن عجز فعن صلاة اللیل بمد و عن صلاة النهار بمد فإن عجز فعن کل یوم بمد و القضاء أفضل من الصدقة. الروضة البهیة فی شرح اللمعة الدمشقیة (ط- القدیمة)، ج‏1، ص 109.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.