کیا بعض دعاؤں کا پڑھنا جیسے دعای عھد ، مقرره میزان سے کم یا زیاده ، کوئی خاص اثر رکھتا ھے؟

0 0

اسلامی شریعت میں ھر عمل اور کام کے دو پھلو ھیں اور اس عمل کے قبول ھونے کی شرط میں ان دو پھلوؤں کا خیال رکھنا ھے۔

۱۔ پھلے خود عمل ، صحیح اور پسندیده ھونا چاھئے جیسے دوسروں کی مدد کرنا ، دعا پڑھنا، وغیره۔

۲۔ دوسرے اس سالم اور صحیح عمل کو صحیح نیت سے انجام دینا۔ مثال کے طورپر اگر کوئی صرف خدا کی رضا کیلئے دُعا پڑھے۔ دوسروں  کی مدد کو صرف خدا کے فرمان کی اطاعت اور اسکی رضا کیلئے کرے، نھ کھ اپنی تعریف کیلئے۔ تو پھلے کو حسن فعلی اور دوسرے کو حسن فاعلی کھتےھیں اور اسے حسن نیت بھی کھتے ھیں اسلام میں نیت اور اس کے اثر کی اعمال کے قبول ھونے میں بھت تاکید کی گئی ھے پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم سے مروی ھے کھ فرمایا:”اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ھے” [1] معصوم اماموں علیھم السلام سے بھی متعدد روایات اس سلسلے میں وارد ھوئی ھیں، جن میں اعمال میں نیت کے اثر کو بیان کیا گیا ھے ۔ امام صادق علیھ السلام پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم سے نقل فرماتے ھیں کھ انھوں نے فرمایا: مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بھتر ھے” [2] مرحوم مجلسی اس روایت کی تفسیر میں حضرت امام باقر علیھ السلام سے روایت کرتے ھیں کھ فرمایا: اس کا سبب یھ ھے کھ مؤمن بھت سے نیک کاموں کا قصد کرتا ھے مگر  ان کو انجام دینے میں کامیاب نھیں ھوتا ھے” [3]

یعنی مومن کی نیت کی وسعت نیک اعمال کیلئے عمل کی وسعت سے زیاده ھے کبھی وه یھ قصد کرتا ھے کھ کسی خاص عمل کو انجام دے یا مثلا دعای عھد کو چالیس دن تک پڑھے [4] یا خاص مقدار میں مال فقراء کے درمیان تقسیم کرے۔ اس کے باوجود کھ وه اپنی موت کے وقت کو نھیں جانتا ھے اور نھ ھی حال حاضر میں اس کے پاس خیرات کرنے کیلئے اتنی رقم ھوتی ھے لیکن اگر وه اپنی نیت میں سچا ھو۔ تو خداوند اتنا ھی اجر اور ثواب، بغیر اس کے کھ وه عمل کو انجام دے اُسے عطا کرتا ھے کیوں کھ خداوندمتعال  وسعت عطا کرنے والا اور کریم ھے۔

امام صادق علیھ السلام فرماتے ھیں؛ فقیر بنده کھتا ھے کھ خدایا مجھے مال اور سرمایھ عطا کر، تا کھ میں احسان کروں اور فقراء کے درمیان تقسیم کروں خداوند چونکھ اس کی نیت کی صداقت کو جانتاھے اور جانتا ھے کھ وه سچ کھتا ھے اس کیلئے وھی اجر اور ثواب قرار دیتا ھے۔ کیوں کھ خداوند وسعت دینے والا اور کریم ھے” [5]

پس یھ بات مسلم ھے کھ اگر انسان ان دعاؤں کو پڑھنے کا قصد کرتا ھے پھر اگر چھ اس نے کچھه بھی نھیں پڑھا یا اسے تھوڑی مقدار میں پڑھا ھے اور مرجاتا ھے یا کسی اور کام کی وجه سے وه نھیں پڑھ سکتا ھے تو خداوند اسے اجر اور ثواب عطا کرتا ھے اور مسلم بات ھے کھ ان دعاؤں کا پڑھنا بھت ھی خوب ، پسندیده ، اجر اور ثواب کا باعث بنتا ھے۔ اگر چھ اس طرح کے افعال کو قاعدے کے مطابق انجام دینا بھتر ھے۔

ان ھی دعاؤں میں بھت ھی اھم اورپرمعنی دعا جس کو پڑھنے کی کافی تاکید کی گئی ھے۔ حضرت امام زمانھ(عج) کی دعای عھد ھے جو حضرت امام صادق علیھ السلام سے منقول ھے که: “جو مؤمن اس دعا کو چالیس صبحوں میں  پڑھے وه ھمارے حضرت قائم عجل اللھ تعالی فرجھ الشریف کے اصحاب میں ھوگا اور اگر ان کے ظھور سے پھلے اس دنیا سے رخصت ھوا تو اسے اپنی قبر سے نکال کر امام کی خدمت مین لایا جائے گا یھ دعا بھی اس قاعدے سے مستثنی نھیں ھے اور مذکوره احادیث کے مطابق اگر چالیس دن پڑھنے کی نیت رکھتا ھو اور کسی بھی وجه  سے پڑھنے میں کامیاب نھ ھوتو خداوند اسے اجر اور ثواب عطا کرے گا۔


مزید  جن افراد کی ماں سید ہے، وہ سید کیوں شمار نہیں ہوتے، جبکہ حضرت زہرا{ع} کے تمام فرزند سید ہیں؟ شکریہ۔

[1]  صحیح بخاری ، کتاب بدء الوحی ، ج ۱ صحیح مسلم ، ح ۱۹۰۷۔

[2]  اصول کافی ، ج ۳ ترجمھ مصطفوی ، ص ۱۳۳۔

[3]  ایضا

[4] مفاتیح الجنان ، دعای عھد ، بحار الانوار ج ۵۳، ص ۹۵ ، ۹۶، بحار الانوار ، ج ۹۱، ص ۴۱ اور ۴۲۔

[5]  اصول کافی ، ج ۳ ترجمھ مصطفوی ، ص ۱۳۳۔

تبصرے
Loading...