کیا ایک نا محرم کے سا ﺘﮭ صیغه (عقد) پڑھنے سے بهن بھائی کے عنوان سے محرم هو سکتی هیں ؟ اور کیا اس محرمیت کے ذریعه شادی کرنا ( ازدواج) ممکن هے ؟

0 0

اسلامی نقطه نظر کے مطابق ، بهن بھائی کے عنوان سے محرمیت کے لیئے کوئی (صیغه) عقد موجود نهیں هے ؛ محرمیت ایجاد کرنے کے لیئے جو صیغه عقد اسلام میں هے وه فقط ( صیغه) عقد ازدواج هے جس کی دوقسمیں هیں : دائمی ، موقت۔

اس عقد کی صحت کے ﮐﭽﮭ شرائط هیں منجمله لڑکی کے باپ یا ولی کے اجازت هے[1]

اگر آپ کا اراده شادی (ازدواج) کرنے کا هے تو اپنی مستقبل میں هونے والی بیوی سے آشنائی اور صحیح و سالم تعلقات کی خاطر اس (بیوی) کے باپ کی اجازت سے ایک معین مدت کے لیئے عقد موقت پڑھ سکتے هیں اور اس عقد کے ضمن میں ﮐﭽﮭ شرطیں لگاسکتے هیں ، مثال کے طور پر یه شرط رکھیں که عقد فقط محرمیت اور ایک دوسرے سے مزید آشنا هونے که غرض سے هے نه که میاں بیوی کے تعلقات کی غرض سے۔ اور اس معین کے ختم هونے کے بعد میلان کی صورت میں دائمی ازدواج(شادی) کے لیئے اقدام کر سکتے هیں



 [1]  ملاحظه هو توضیح المسائل مراجع، ج 2 ص 449 ، مسئله نمبر2276

مزید  کیا ممکن ہے، کہ کسی فرد کے اندر بعض ارواح داخل ہوجائیں؟ "دفاعی تابشوں" سے کیا مراد ہے؟
تبصرے
Loading...