کیا ایک نامحرم شخص کے ساتھه ازدواج کرنے کے لیے دعا اور توسل کرنا جائز هے؟


سائٹ کے کوڈ
fa2677


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
9232

کیا ایک نامحرم شخص کے ساتھه ازدواج کرنے کے لیے دعا اور توسل کرنا جائز هے؟

میں ۱۸ یا ۱۹ ساله ایک لڑکی هوں، یونیورسٹی میں پڑھه رهی هوں، ایک لڑکے کو پسند کرتی هوں اور اس کی عاشق هو گئی هوں- لیکن اس کے ساتھه رابطه برقرار کرنے کی غرض سے کوئی بُری نیت نهیں رکھتی هوں بلکه میرا قصد و اراده خیر هے- اگر میں نماز کے دوران اس کے لیے دعا کروں اور اس کو حاصل کرنے کے لیے نماز، دعا اور توسل کروں یا کوئی اور کام ، جیسے نذر انجام دوں، تو کیا خدا اس پر مجھه سے راضی هوگا؟ اور کیا یه ممکن هے که اگر اس میں خدا کی مصلحت هو تو اس کے ذریعه میری آرزو پوری هوگی ؟ اگر کبھی میری نظر اس لڑکے کی آنکھوں پر پڑتی هے تو نامحرم هونے کے باوجود اگر میری نیت بری نه هو تو اس کا کیا حکم هے؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.