کیا ایک مسلمان کیلئے امریکی عدالت سے قانونی مدد لینا جائز ھے؟

0 0

حضرت آیۃ اللھ العظمی خامنھ ای (مد ظلھ العالی ) کے دفتر کا جواب:

اگر عورت کا حق حاصل کرنا ، غیر شرعی عدالت کی طرف رجوع کرنے پر موقوف ھو تو کوئی اشکال نھیں ھے ، خصوصا اگر رجوع نھ کرنا عورت کیلئے مشکلات اور پریشانی کا سبب بنے۔

حضرت آیۃ اللھ مکارم شیرازی ( مد ظلھ العالی) کے دفتر کا جواب:

اگراپنا حق طلب کرنے کیلئے کوئی اور چاره نھیں ھے اور وه عدالت کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ھے تو کوئی اشکال نھیں ھے۔

حضرت آیۃ اللھ بھجت ( مد ظلھ العالی) کے دفتر کا جواب

اگر شرعی حق ھے اور اپنا حق حاصل کرنا اسی پر منحصر ھے تو کوئی اشکال نھیں ھے ۔

حضرت آیۃ اللھ فاضل لنکرانی کے دفتر کا جواب:

جایز نھیں ھے مگر اس صورت مین کھ اپنا حق واپس لینا اس کے بغیر ممکن نھ ھو ۔

پس غیر اسلامی حکومت میں عدالت کی طرف رجوع کرنا اور ان سے مدد حاصل کرنا چائز نھیں ھے مگر یھ کھ اپنا حق طلب کرنا صرف اس پر موقوف ھو اور کوئی دوسرا راستھ موجود نھ ھو۔ اور یھ واضح ھے کھ وه چیز لینا جس پر  انسان کا حق نھ ھو وه اس کا استحقاق نھیں رکھتا ، حتی کھ حکومت اسلامی اورعادل حکومت میں بھی لینا صحیح نھیں ھے اورجائز نھیں ھے۔

مزید  کیا آیت اللہ بہجت کی نظر میں غیر پیشہ ورانہ باکسنگ (گھونسہ بازی) جائز ہے؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.