کیا ایک مسلمان کیلئے امریکی عدالت سے قانونی مدد لینا جائز ھے؟

0 0

180x480 Banner

حضرت آیۃ اللھ العظمی خامنھ ای (مد ظلھ العالی ) کے دفتر کا جواب:

اگر عورت کا حق حاصل کرنا ، غیر شرعی عدالت کی طرف رجوع کرنے پر موقوف ھو تو کوئی اشکال نھیں ھے ، خصوصا اگر رجوع نھ کرنا عورت کیلئے مشکلات اور پریشانی کا سبب بنے۔

حضرت آیۃ اللھ مکارم شیرازی ( مد ظلھ العالی) کے دفتر کا جواب:

اگراپنا حق طلب کرنے کیلئے کوئی اور چاره نھیں ھے اور وه عدالت کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ھے تو کوئی اشکال نھیں ھے۔

حضرت آیۃ اللھ بھجت ( مد ظلھ العالی) کے دفتر کا جواب

اگر شرعی حق ھے اور اپنا حق حاصل کرنا اسی پر منحصر ھے تو کوئی اشکال نھیں ھے ۔

حضرت آیۃ اللھ فاضل لنکرانی کے دفتر کا جواب:

جایز نھیں ھے مگر اس صورت مین کھ اپنا حق واپس لینا اس کے بغیر ممکن نھ ھو ۔

پس غیر اسلامی حکومت میں عدالت کی طرف رجوع کرنا اور ان سے مدد حاصل کرنا چائز نھیں ھے مگر یھ کھ اپنا حق طلب کرنا صرف اس پر موقوف ھو اور کوئی دوسرا راستھ موجود نھ ھو۔ اور یھ واضح ھے کھ وه چیز لینا جس پر  انسان کا حق نھ ھو وه اس کا استحقاق نھیں رکھتا ، حتی کھ حکومت اسلامی اورعادل حکومت میں بھی لینا صحیح نھیں ھے اورجائز نھیں ھے۔

120x240 Banner - 2

مزید  سلام علیکم۔ میں 21سالہ لڑکی ہوں، چھ مہینے پہلے میرے ایک ہم کار نے میرے بارے میں خواستگاری کی ہے، جس کی عمر بھی 21 سال ہے۔ اس مدت میں اس کے گھر والے خواستگاری کے لئے راضی نہیں ہوئے اور ان کی دلیل خود ان کا لڑکا تھا۔ کہتے ہیں کہ وہ بیکار ہے۔ تھوڑا سا تند اخلاق ہے، معلوم ہوتا ہے کہ میرے ساتھ شدید محبت رکھتا ہے۔ کام کرنے کے مخالف ہے۔ اس کے ساتھ میری مشکل یہ ہے کہ میرے خاندان کے افراد خاص کر لڑکوں سے بیزار ہے اگر میں ان میں سے کسی کے ساتھ بات کروں تو انتہائی غضبناک ہوتا ہے اور مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ حتی کہ میں اپنے ماموں کے ساتھ بھی شوخی مذاق نہ کروں۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا یہ شخص کسی مشکل سے دوچار ہے؟

300x250 Banner

تبصرے
Loading...