کیا انگوٹھی کا دائیں ھاتھه میں پھننا ضروری ھے؟

0 0

انگوٹھی پھننا سنت موکده ھے۔ جس پر ھمیشھ رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم اور ائمھ اطھار علیھم السلام نے تاکید کی ھے اور انگوٹھی کی جنس اور اس کے نگینے، چھّلے ، نقشے اور اس کو رکھنے کے بارے میں بھی بھت سی روایات بیان ھوئی ھیں۔ مثال کے طور پر عقیق کے نگینے پر تاکید ھے اور اس کو برکت کا سبب اور بلاؤں سے دوری کا باعث بتایا گیا ھے۔ [1] انگوٹھی کے حلقھ کے متعلق چاندی کا ھونا، اور اس کے نقشھ کے بارے میں بعض اذکار اور بلند مضامین جیسے ” اللھ الملک” (بے شک خدا بادشاه ھے) [2] یا ” محمد نبی اللھ و علی ولی اللھ ” [3] کی سفارش کی گئی ھے۔ اسی طرح انگوٹھی کو دائیں ھاتھه میں پھننے کی سفارش کی گئی ھے اور شیعھ ھونے کی علامت قرار دی گئی ھے۔ حضرت امام موسی کاظم علیھ السلام سے ایک روایت نقل ھوئی ھے کھ ” ۔۔۔۔ حضرت علی دائیں ھاتھه میں انگوٹھی پھنتے تھے کیونکھ وه رسول اللھ صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم کے بعد اصحاب یمین کے امام تھے۔۔۔۔ نیز یھ شیعوں کی علامت ھے ۔۔۔۔۔”[4] یعنی دائیں ھاتھه میں انگوٹھی پھننا رسول اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم اور امیر المؤمنین علیھ السلام کی پیروی میں ھے۔ اس طرح کھ پیغمبر اکرم (ص) اور حضرت علی (ع) ، اصحاب یمین کے امام ھیں، اور ان کا دائیں ھاتھه میں انگوٹھی پھننا اسی حقیقت کو سمجھاتا ھے۔ اور شیعھ اپنے اماموں سے تمسک اور ان کی سیرت پر چلنے کے لئے اسی طریقھ کار کی پیروی کرتے ھیں۔

البتھ توجھ کرنی چاھئے کھ دائیں ھاتھه میں انگوٹھی پھننے کے سلسلے میں بیان شده  احکام اور فضائل سب مستحب ھیں۔ یعنی ان میں کسی طرح کا لزوم  نھیں ھے۔ اگرچھ بعض روایات میں مذکوره مطالب کے برخلاف اور بھی احکام جائز جانے گئے ھیں۔ مثال کے طور پر امام صادق علیھ السلام ایک روایت میں رسول اکرم صلی اللھ کی انگوٹھی کو نگینے کے بغیر بیان کرتے ھیں۔ اور فرماتے ھیں کھ ” آنحضور(ص) کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس میں نگینه نھیں تھا” [5] یا کس ھاتھه میں پھنتے تھے ایک روایت کے مطابق امام موسی کاظم علیھ السلام سے سوال کیا گیا که انگوٹھی کو دائیں ھاتھه میں پھنیں؟ فرمایا” چاھے دائیں ھاتھه میں چاھے بائیں ھاتھه میں” [6] پس اگر عرف کے مطابق ضروری ھو کھ شادی کے حلقھ کو بائیں ھاتھه میں پھنیں تو اس میں کوئی اشکال نھیں ھے ۔ لیکن خوب ھے کھ عقیق کی انگوٹھی کو دائیں ھاتھه میں پھنیں تا کھ شیعھ ھونے کی علامت اور دوسرے ثواب سے بھی بھره مند ھوجائیں ۔

البتھ توجھ رکھنی چاھئے کھ سونے کے زیورات پھننا من جملھ انگوٹھی مردوں کے لئے حرام ھے۔ [7]


مزید  میں ایک مسلمان طالب علم ھوں اور ملک سے باھر ھوں۔ میرا ایک دوست اور ھم جماعت عیسائی ھے اور مجھ سے اسلام کے بارے میں کچھ سوالات پوچھتا ھے۔ وه دعویٰ کرتا ھے که قرآن مجید انجیل کی نقل ھے اور اس میں کوئی نئی بات نھیں ھے۔ وه یه بھی دعویٰ کرتا ھے که پیغمبر اسلام {ص}کا کوئی معجزه نھیں تھا اور حضرت عیسیٰ سے پھلے تمام پیغمبر گناه کے مرتکب ھوئے ھیں، صرف حضرت عیسیٰ مرتکب گناه نھیں ھوئے ھیں۔ اس کے سوالات کا ایک منطقی جواب کیسے دیا جاسکتا ھے؟

[1]  وسائل الشیعھ ، ج ۵ ص ۹۱۔

[2]  ایضا : ص ۹۳۔

[3]  ایضا : ص ۹۱

[4]  ایضا ، ص ۸۲۔

[5]  ایضا ، ص ۷۷۔

[6]  ایضا، ص ۷۹۔

[7]  توضیح المسائل مراجع ، ج ۱ ص ۴۸۲۔

تبصرے
Loading...