کیا انسان کے لیئے خدا کی معرفت ممکن هے ؟ کس حد تک اور اس معرفت کی قدر و منزلت کیا هے ؟

0 0

180x480 Banner

اس سوال کا جواب پانے کے لیئے اسباب معرفت کا جاننا ضروری هے اور وه اسباب حواس و عقل اور قلب هیں ۔

ظاهری حواس ،صرف ظاهری عارضی اشیاء سے تعلق رکھتے هیں ان کے باطن میں ان کا رسوخ نهیں هے اور یه حواس ظاهر انسان کو وسیع اور کثیر تعداد میں معارف کا ذخیره دینے کے باوجود زمان و مکان کے لحاظ سے محدود هیں ۔

عقل ، ایک مخصوص طاقت هے جس کا بنیادی عمل کلّی مفاهیم کا ادراک هے اس اعتبار سے اس کی قدر و منزلت اور اس کا اثر زیاده هے من جمله اس کا کام استدلال کرنا هے۔ لیکن اسباب معرفت ان دو امور پر منحصر نهیں هیں بلکه انسان اپنے دل اور قلب کے ذریعه بھی بلند معارف کو حاصل کر سکتا هے اور جو ﮐﮀﮭ دوسرے افراد استدلال کے ذریعه حاصل کرتے هیں وه خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لیئےاسی راه کو اپنا تے هیں ۔1

دوسرے لفظ میں ایک کلی تقسیم بندی کے لحاظ سے یوں کها جائے که معرفت حصولی هےیا حضوری هے اور شهودی هے۔

حصولی معرفت ، فلسفی اور عقلی دلیلوں پر غور و فکر کے ساﺘﮭ ذهنی مفاهیم کے ذریعه حاصل هوتی هے ۔

حضوری معرفت ، وه معرفت هے جو معنی ،مفهوم اور ذهنی صورت کے واسطے کے بغیر حاصل هوتی هے اور اسکی معلوم حقیقت ادراک کرنے والے کے نزدیک حاضر رهتی هے ۔ حضوری معرفت ،عرفانی شهودی معرفت کی طرح هے جس میں شئے کی ظاهری حقیقت شهود سے حاصل هوتی هے ۔

البته حصولی (عقلی) معرفت میں حسی اور تجربی مقدمات سے بھی فائده اٹھایا جا سکتا هے مثلا خدا کی نشانیوں یا نظام خلقت میں غور و فکر کے ذریعه عام دلیلیں قائم کرکے خدا کی معرفت حاصل کی جاتی هے لیکن جهاں پرانسان مزید معرفت کا خواهاں هے وهاں اس کے لیئے خالص مقدمات سے مدد لینا ضروری هے ۔

بهر حال ایک یه که: انسان کو یه توجه رکھنا چاهیئے که وه علمی و سأ ینسی تحقیقات اور صرف تجرباتی علوم کے نتائج کے ذریعه خدا کو ثابت یا اس کا انکار نهیں کرسکتا 2 کیونکه فیزیکی اور ادراکی هاﺘﮭ اتنا کوتاه هے که مافوق طبیعت تک اسکی رسائی ممکن نهیں هے پس حسی معرفت راه گشا نهیں هے بلکه اس کو مقدمات استدلال کی بھی ضرورت هے ۔

دوسرے: اگرچه اسلامی عبارتوں میں آسمانی نشانیوں 3 کے مطالعه کی تاکید کی گئی هے اور دوسری طرف استدلال کی وجه سے یه روش عقلی معرفت میں شمار هوتی هے لیکن اس بات سے غافل نهیں رهنا چاهیئے که تمام مخلوقات و آثار خلقت اور الٰهی حکمت کے مطالعه سے صرف اتنا معلوم هوتا هے که ایک طاقت وراور عاقل و حکیم هستی موجود هے جو اس دنیا کے نظام کو چلارهی هے لیکن وه کس صفت کی حامل هے؟ قائم بذات هے یا اس کے علاوه بھی ﮐﭽﮭ اور هے و غیره یه اس روش سے معلوم نهیں هوتا هے ۔

حضوری معرفت تین طرح سے ممکن هے :

۱۔ معلول کا حضوری علم ۔

۲۔ کسی شئی کے ذریعه اس کی ذات کا حضوری علم ۔

۳۔ معلول کے ذریعه علت کا حضوری علم ۔

خدا کی جانب موجودات کی حضوری علم ،پهلی دو قسموں میں سے نهیں هے بلکه تیسری قسم میں سے هے اور انسان کم مقدار، اور محدود هے اس لیئے وه خدا کو درک کرنے سے محدود هے اس کے باوجود که خدا کی ذات مقدس سب سے قریب هے لیکن دوسرے اپنے نقص و قصور کے مطابق اس سے نزدیک اور دوری کے سلسلے میں مختلف مراتب رکھتے هیں ۔

محقق طوسی (رحمۃ الله علیه) نے معرفت کے مراتب میں ایک بهترین مثال پیش کی هے که معرفت خدا کے مراتب آگ کی معرفت کے مانند هے که آگ کے باره میں علم کا سب سے نچلا مرتبه آگ کے اوصاف کا کسی سے سننا هے ، دوسرا مرتبه دھویں کے ذریعه آگ کا علم ،تیسرا مرتبه آگ کا نور اور اس کی حرارت کا احساس اور آخری مرتبه آگ میں جلنا اور خاک هوجانا هے4 ۔

جس بات کا ذکر یهان پر ضروری هے وه هے که متعَّلق کی معرفت کی بحث میں ، کبھی وجود خدا کے اثبات ک بات هے اور کبھی اس کے اوصاف کے بارے میں گفتگو هے اور دونوں صورتوں میں انسان غور و فکرودل کے ذریعه بھی جستجو کر سکتا هے ، علم حصولی کے ذریعه ﺴﻤﺠﮭ سکتا هے اور حضوری علم کے ذریعه دﯿﮐﮭ سکتا هے ۔ پهلی جستجو کو “برهان” اور دوسری کو “عرفان” کهتے هیں البته جو روش فلسفی برهان میں رائج هے وه عرفان کی گرانقدر تعلیمات میں نهیں هے ۔

بهر حال چاهے راه عقل ، اور چاهے راه دل کے ذریعه هو ان تینوں روشوں میں خدا کی کسی حد تک معرفت حاصل کی جاسکتی هے ۔ دوسرے لفظوں میں یه کها جائے که غورو فکر کرنے والا یا سالک اپنی سیر میں جو مسافت طے کررها هے اور اپنے مقصد کی جانب پهنچنا چاهتا هے ان تین حالتوں سے خالی نهیں هے۔

۱۔ راه طے کرنے والا(سالک)راه (مسلک) اور مقصد (مسلوک الیه) که یه ایک دوسرے سے الگ هیں مثال کے طور پر انسان عالم خلقت کی تنطیم و تربیت کا مشاهده اور مطالعه کرتا هے اوریه که سب کسی بے نیاز کے نیازمند هیں اور دنیاکا ایک آغاز هے ۔

جسے مقصد تک پهچنا هے ،نیز قرآن مجید کی آیتیں لوگوں کو اس راستے کی جانب دعوت دیتی هیں 5 ۔

۲۔ راه طے کرنے والا۔عین راه هے مثال کے طور پر وه انسان جو عالم باطن کا مطالعه کرتا هے که میں کون هوں ؟کهاں سے آیا هوں ؟ اور کیون میرے ارادے اور خواهش میرے اختیار نهیں هیں ؟ میں کیوں ایسے گوشه دل کو قابو نهیں رﮐﮭ سکتا که حتّی کوئی خیال بھی میری اجازت کے بغیر پرواز نه کرے ۔۔۔؟ وه اس راه سے خدا تک پهونچ سکتا هے ۔

حضرت علی علیه السلام اس راستے کی اسطرح رهنمائی کرتے هیں : میں نے پروردگار کو محکم ارادوں کو ٹوٹنے ، مشکل گر هوں کے کھلنے اور فیصلوں کے بدل جانے سے پهچانا هے 6 (( البته اس بهترین قول کو حضرت علی علیه السلام نے اس طرح فرمایا هے : عُرِفتُ الله سُبحانهُ بفسخ العزائم َ و حل العقود و نقض الهمم؛ هم نے پروردگار کو ارادوں کے ٹوٹ جانے ،نیتوں کے بدل جانے اور همتون کے پست هونے سے پهچانا هے ))

اور مولا ئے کائنات علیه السلام نے فرمایا هے مَن عَرَف نفسهُ فقَد عَرَف ربّهُ 7 جس نے اپنے نفس کو پهچان لیا اس نے اپنے رب کو پهچان لیا ۔ اسی طرح قرآن مجید میںذکر هوا هے که اے ایمان لانے والو اپنی جانوں کی گذرگاه پر سیر کرو اور یه تمهارا فرض هے که اپنےآپ کو پهچانو، اور اس کے راستے سے جدا نه هو8 ۔ یه راه پهلی راه سے زیاده عمیق اور سودمند هے ۔

۳۔ راه عین مقصد هے یعنی وه سالک عارف یاغور وفکر کرنے والا انسان اپنے مقصد پر غور کرکے مقصود و مراد کو پا لیتا هے ۔

یه راه بهت زیاده عمیق راه هے کیونکه انسان آفاتی اور انفسی سیر کے مرحلے سے گذر کر فقط شاهد کے بارے میں غور و فکر کرتا هے اور سمجھتا هے که یه شاهد خدا هے جیسا که فرمایا هے “کیا یه کافی نهیں هے که تمهارا پروردگار هر شئے کا گواه اور شاهد هے9 “۔ اول وه مشهود پهچانا جاتا هے اس کے بعد دوسرے اور یه بیکران دنیا، کیونکه وه خود نورالسماوات و الارض هے ،آسمانون اور زمین کا نور هے اور خدا کی ذات اپنے آپ پر بهترین گواه و شاهد هے وه بھی اس قدر که اس کی معرفت کے لیئے کسی دوسرے واسطے کی ضرورت هی نهیں هے 1 ۔ لهذا اپنے پیغمبر سے فرماتا هے هم نے تم سے پرده اٹھا دیا هے اپنے آپ اور اپنی حقیقت سے نهیں 11۔

۴۔ امام حسین علیه السلام نے دعائے عرفه میں اسی تیسری راه کی جانب متوجه کیا هے اور فرمایا هے که:” پروردگار کیا تیرے سوا بھی کوئی ظهور رکھتا هے جو تجھے ظاهر کرنے والا هو اور تو ظهور نه رکھتا هوکه وه دوسرا تجھے ظاهر کرے ؟ اور تو کب غائب تھا جو تیرے لیئے دلیل کی ضرورت هو اور تو کب دور تھا که یه آثار اور مخلوقات هم کو ﺘﺠﮭ سے نزدیک کریں 21 ۔

دوری نکرده ای که شوم طالب حضور

غائب نگشته ای که هویدا کنم تو را

ترجمه: پروردگار تو نے ﻤﺠﮭ سے دوری اختیار نهیں کی جو میں تیرے حضور کا طا لب رهوں تو کبھی غائب نهیں رها جو میں ﺘﺠﮭکو ظاهر اور آشکار کروں ۔

وه آنکھیں نابینا هیں جو تجھے نهیں دیکھتی هیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے خدا تجھی سے تیرا وصا ل چاهتا هوں اور تیرے وجود سے هی ﺘﺠﮭ پر دلیل طلب کرتا هوں”۔

ان بیانات سے یه ظاهر هوتا هے که خدا سالک انسان کے لیئے زمین و آسمان ،درخت اور پتّوں سے زیاده روشن هے۔ امام جعفر صادق علیه السلام نے اس مسئله کو اس طرح بیان فرمایا هے : جو ظاهر هے وه ظاهر هے اس لیئے اپنے آ پ کو پهچانیں پھر اس کے صفات کو۔ لیکن غائب صفت کی معرفت اسکی ذات پر مقدم هے ۔۔۔ جس طرح یوسف کے بھائیوں نے خود یوسف کے بارے میں غور و فکر کی اور ان کو پا لیا (قالوا انَّک لانتَ یوسف) انھوں نے کها تم یوسف هو ؟نهیں یوسف تمهیں هو! یعنی خود مخاطب کے بارے میں غور و فکر کیا اور یه نتیجه نکالا که وه یوسف علیه السلام هیں 31 ۔ انھوں نے دوسروں سے یوسف کے بارے میں دریافت نهیں کیا ۔ ۔ ۔

ان بیانات سے استفاده کرتے هوئے یه استدلال کیا جاتا هے که امکانی موجودات وه حقائق هیں جن کا واجب سے مکمل رابطه و واسطه هے ورنه یه لازم آئے گا که یه اپنی ذات میں بے نیاز هوں ،نتیجه میں ان کی ذات میں وجوب پایا جائے گااور اس کا باطل هونا واضح هے ۔ لهذا وه اپنی تمام هستی میں ذات واجب سے وابسته هیں اور یه محال هے که کوئی رابطه مربوط الیه کے بغیر تصور کیا جائے یعنی معلول کا مستقل ادراک محال هے ۔

لهذا ادراک میں آنے والی هر شئے چاهے مادّیات سے مالامال هو وه اپنے وجود میں مبدأ(ذات خدا) سے مکمل رابطه رکھتی هے اور اس کا ادراک واجب کے ادراک کے همراه هے41

البته علم دو طرح کا هوتا هے بسیط علم(خالص علم) اور مرکب علم جس طرح سے جهالت کی دو قسمیں هیں ۔ بسیط علم سے مراد کسی چیز کا خالص علم هے اور یه علم کسی دوسری معرفت کے بغیر حاصل هوتا هے ۔ اور مرکب علم وه هے جو کسی دوسرے علم سے واسطه رکھتا هے یعنی انسان یه جان لے که وه جانتا هے ۔ هم کو اس بات کا پورا یقین هے که خدا کی معرفت هر انسان کو حاصل هے جس کے پاس فهم و ادراک هے چاهے وه ادراک حصولی هو یا حضوری اور اس بات سے قطع نظر که یه ادراک کس چیز سے متعلق هے ،یه اک ضروری اور حتمی امر هے یعنی انسان جس وقت حصولی یا حضوری علم کے ذریعه کسی چیز کا ادراک کرتا هے تو بهر حال وه واجب کے ادراک تک پهنچ جاتا هے 51 ۔

معروفٌ عندَ کل جاهل 61 وه هر جاهل کے نزدیک معروف هے حتّی شک کرنے والا اپنے شک سے پهلے خدا کو دیکھا هے کیونکه اس کے شک کی علّت خدا هے اور اس کا شک بھی خدا سے ربط تکھتا هے۔ جی هاں بعض حضرات کو علم کا علم نهیں هے وه اس ضروری ادراک سے غافل هیں اگر حضرت علی علیه السلام فرماتے هیں هم نے کسی چیز کا مشاهده نهیں کیا مگر اس سے پهلے خدا کو دیکھا 71 یا دوسری جگه فرماتے هیں میں نے جس خدا کو نهیں دیکھا اس کی عبادت نهیں کرتا هو81 یه اس لیئے هے که حضرت علی علیه السلام علم کا علم رکھتے هیں ،اور حضرت علیه السلام اس حقیقت تک پهونچنے هیں که” فأینما تولوافثمّ وجهُ الله “91 تم جس طرف بھی رخ کرو وهیں خدا موجود هے اور اس وجه (چهره) کو بغیر صاحب وجه کے نهیں دیکھا جا سکتا هے ۔ وه عارف سے جو اپنی ارادی موت کے ساﺘﮭ هی یه مشاهده کرتا هے که خدا کے سوا هر شئے پوشیده هے صرف خالق کائنات آشکار هے اسی لیئے حضرت فرماتے هیں” لو کَشَفَ الغِطاءِ ما زدَدتُ یقینا ً”

120x240 Banner - 2

مزید  اگر هم نهیں جانتے هیں که مسجد کا کونسا قالین نجس هوا هے، تو اسے کیسے پاک کیا جائے؟

300x250 Banner

تبصرے
Loading...