کیا انسان کو اپنے دینی بھائی کے بارے میں جس کے ساتھ کسی وجه سے لڑائی جگھڑا اور توتو میں میں ھوئی ھے۔ ایسی باتیں کرنے کا حق ھے جو اس کے لئے اذیت کا سبب بنیں اور کیا اس کے ساتھ غصه اور ناراضگی کو جاری رکھنا جائز ھے، جب که اس کے اس دینی بھائی نے معذرت خواھی بھی کی ھو؟

0 0


سائٹ کے کوڈ
fa4234


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
13159

کیا انسان کو اپنے دینی بھائی کے بارے میں جس کے ساتھ کسی وجه سے لڑائی جگھڑا اور توتو میں میں ھوئی ھے۔ ایسی باتیں کرنے کا حق ھے جو اس کے لئے اذیت کا سبب بنیں اور کیا اس کے ساتھ غصه اور ناراضگی کو جاری رکھنا جائز ھے، جب که اس کے اس دینی بھائی نے معذرت خواھی بھی کی ھو؟

کیا دو با ایمان دوستوں کے درمیان طویل مدت تک ناراضگی، کینه اور جدائی خاص کر رمضان المبارک میں جاری رکھنا جائز ھے؟ حتی که اگر ان میں سے ایک خطا کار بھی ھو لیکن وه اپنی خطا پر پشیمان ھو۔ کیا دوسرا فریق۔۔ ایک مومن شخص ھونے کے باوجود۔۔ حق رکھتا ھے که صلح نه کرے اور اپنے نا پسند اعمال کے ذریعه اپنے دوست کو ردعمل کا اظھار کرنے پر مجبور کرے؟ جب که اس کا دوست کسی قسم کے رد عمل کا مظاھره نھیں کرتا ھے اور اس کے نا پسند برتاﺅ کے مقابلے میں خاموش رھتا ھے۔ کیا ایک مسلمان اور مومن شخص کے لئے ایسا برتاﺅ کرنا شائسته ھے؟!

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

مزید  اگر فرش کا ایک حصه نجس هو، تو کیا پورے فرش پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج هے؟ یا صرف اس نجس حصه پر؟ اگر کسی لباس میں خون لگا هو اور اسے دھونے کے بعد خون کا رنگ باقی رهے تو کیا اس میں نماز پڑھی جا سکتی هے؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.