کیا انسان میں برزخ اور قیامت کی نعمتوں اورعذ اب کو درک کر نے کی توانائی هے؟

0 0

مذکوره سوال کا تفصیلی جواب، مندرجه ذیل چند مطالب کے بیان سے واضح هوگا:

ادراک ومعرفت کی تعریف:

ادراک ومعرفت،بدیهی اور ناقابل تعریف مفاهیم میں سے هے ، اس د لیل سے که هم تمام چیزوں کو علم سے پهچانتے هیں – اگر هم علم وادراک کی علم سے تعریف کر نا چاهیں ، تو یه دو تعین کننده دور پرمشتمل هو گا اور اگر غیر علم سے علم وادراک کی تعریف کر نا چاهیں تو، ضروری هے که پهلے هم اس غیر علم کو جان لیں ، اس کے بعد علم کو اس کے توسط سے پهچان لیں ، یه تعریف بھی اسی تعین کننده دور کے مانند هے-

پس جو کچھـ معرفت یا علم کی تعریف میں کها جاتا هے، حقیقی تعریف نهیں هے، بلکه انتباهی تعریف هے – یعنی مخاطب کے ذهن میں جو مطلب موجود هے ، لیکن اس کے انتباه کا سبب نهیں هے، اس کو مشابه الفاظ اور  مساوی کلمات کے ذریعه اس کے ذهن میں ارتکاز شده معنی کو برجسته اور نمایاں صورت میں ظاهر کیا جائے- معرفت کے لئے بیان کی جانے والی لفظی تعریفوں میں یه بھی هے که شناخت ، یعنی حقیقت کی آگاهی یا حقیقت تک پهنچنے کی راه کو پیدا کر نا معرفت ھے [1]

چونکه حقائق کی معرفت اور ان تک پهنچنا ، مختلف وسائل سے انجام پاتا هے ، اور ان وسائل میں سے ایک عقل هے ، اس لئے هم حقیقت اور عقلی ادراک تک پهنچنے کے وسائل اور راهوں کی طرف ایک مختصر اشاره کرتے هیں-

معرفت حاصل کر نے کے طریقے:

معرفت حاصل کر نےکے لئے چار طریقے پائے جاتے هیں :

١لف) حس کاطریقه: یه راه عام لوگوں کے لئے کهلی هے-

ب) عقل کا طریقه: یه ایک ایسی راه هے، جسے طے کر نے کی طاقت صرف خاص لوگوں میں پائی جاتی هے-

ج) دل اور قلب کا طریقه (تهذ یب وتزکیه کا طریقه) یه راه عارفوں کے لئے کهلی هے –

د) کتاب منیر اور وحی الهی کا طریقه: یه راه انبیائے الهی سے مخصوص هے –[2]

معرفت شناسی کے مطابق، ” حسی معرفت” کا درجه، معرفت کے کمزور ترین مراحل میں سے ایک مرحله هے- البته افراد اور اصناف کے در میان ، بعض لوگوں کی معرفت دوسروں کی معرفت پر ترجیح رکهتی هے ، اسی لئے کها جاتا هے:” شنیدن کے بود مانند دیدن”[3] ” یعنی سننا ، کبھی دیکھنے کے مانند نهیں هو سکتا هے-” حسی معرفت سے بالاتر ” عقلی معرفت” هے جس سے  فلسفه، کلام اور دوسرے استدلالی علوم میں استفاده کیا جاتا هے – اس سے برتر معرفت کا مرحله “قلبی” معرفت هے، یه معرفت عرفان میں بیان کی جاتی هے – اور معرفت کے کمال کی چوٹی ” وحی پر مبنی معرفت” هے، جو علم شهودی اور معرفت حضوری کی قسم هے-[4]

عقلی معرفت: عقلی معرفت ثابت حقائق کے بارے میں مفهومی علم هے جو عالم فطرت کے متغیر اور متحرک امور پر بھی مشتمل هے – یه علم جو حسی علم سے بلند اور وسیع تر هے، اپنے معلوم کے مانند ، مستحکم اور پائیدار هے – علوم عقلی کے ذریعه ، علوم حصولی سے مربوط کلی مسائل کے بارے میں بهت سی راهوں کو طے کر کے گوناگون حقائق تک پهنچا جاسکتا هے ، لیکن اس قسم کے علوم، ایسے امور کا  ادراک کر نے میں عاجز اور بے بس هیں ، جو ثابت و مجرد اور عین وجود خارجی هیں اور تشخص عینی هیں اور یه کها جاسکتا هے: که جس طرح، حقائق عقلی کو سمجهنے میں حسی ادراک عاجز اور ناتوان هیں- [5]اسی طرح عقلی معرفت بھی اسرار الهی اور مشاهدات ربانی کے شهود کی معرفت حاصل کر نے میں عاجز و ناتوان هے –

جیسا که اشاره کیا گیا، علوم عقلی کے ذریعه علوم حصولی کے قلمرو میں کلی مسائل کو حاصل کیا جاسکتا هے ، که کلی مفاهیم کی پیدائش اور عقلی تفکر سے انسان اپنے باطن کو ظاهر سے مغایر برتر صورت میں پهچانتا هے ، وه کلی مفاهیم کو غیر مادی خصوصیات میں مشاهده کرتا هے- کلی مفاهیم، نه حقائق مکانی هیں اور نه امور زمانی،اور یه امر اس بات کی دلیل هے که کلیات کے لئے کسی صورت میں دماغ کے خلیوں اور اس کے مانند کهیں اور جگه نهیں هے – برتری کی معرفت جو انسان کی اشیاء کو معرفت کی طویل راه میں حاصل هوتی هے ، اسے فطری حقائق کی کلی معرفت کے علاوه تجرد نفس اور اس سے بالاتر ، بلند حقائق کی معرفت حاصل کر نے کی قدرت بخشتی هے،جو فطری اور نفسانی امور کا مبداء ومعاد هے – بو علی سینانےبهی” اشارات “کے آٹهویں باب میں معنوی معاد کو ثابت کر نے کے لئے روز مره زندگی کے مشاهدات کے روسے کوشش کی هے اور عقلی لذتوں کو ثابت کیا هے اور اس طرح انسان کی ابدی سعادت کو استنباط اور ثابت کیا هے-

لهذا عقلی معرفت کے قائل ایک مفکر کی نظر میں فطری دنیا ایک آیت اور علامت هے، جو نه صرف اسے اس پر حاکم ثابت وابدی قواعد سے استنباط کر نے کا قادر بناتی هے بلکه اسے انسان کے تجرد اور اس کے مبداء ومعاد سے بهی آشنا کراتی هے-

قلبی معرفت ، جو شهودی معرفت هے ، میں انسان اپنی آنکهوں سے کچھـ ایسے حقائق کا مشاهده کرتا هے اور اپنے کان سے ایسے کلمات سنتا هے ، جن کو دیکهنے اور سننے سے دوسرے محروم هیں – اس مرحله پر فائز افراد مختلف اشیاء کا مشاهده کر نے اور مختلف امور سے مواجه هو نے کے نتیجه میں گونا گون مناظر کا مشاهده کرتے هیں اور مختلف آوازوں کو سنتے هیں ، جن کے بارے میں کسی قسم کا شک وشبهه نهیں کیا جاسکتا هے-

معرفت کا متعلق:

معرفت کا متعلق، ایک کلی تقسیم میں تین حصوں پر مشتمل هے:

الف: عالم فطرت : یه وه عالم هے، جسے هم حس سے ادراک کرتے هیں-

ب: عالم مثال: وه عالم هے جو ماورائے فطرت مشاهده هوتا هے – اس عالم کی مخلوقات ایسے حقائق هیں جو مقدار اور اندازه پر مشتمل هیں ،لیکن مادی نهیں هیں- سچے خواب اور نیند کی حالت میں انسان کو مشاهده هو نے والے واقعات ، اس عالم کے نمونے اور مثالیں هیں، اگرچه یه عالم انسان کے ذهن وخیال سے جدا ایک حقیقی دنیا هے ، اور یه خواب و خیال نهیں هو سکتا هے-

ج: عالم عقل:عالم عقل و معقولات کی مخلوقات ، اجمالی حقائق هیں، بدون اس کے که ایک خاص اندازه ، مقداراور کسی مخصوص ماده سے مربوط هوں، یه تمام فطری و مثالی افراد پر مشتمل هیں اور ان سب پر اطلاق هو تے هیں – لیکن عالم مثا ل وعقل کے ثبوت کا طریقه انسان میں مرحله تخیل وتعقل کے ثابت هو نے کے بعد ممکن هے – اس بحث کی تفصیل بیان کر نے کی یهاں پر گنجائش نهیں هے-

قرآن مجید اور روایات کی روشنی میں حقائق کی معرفت کے سلسله میں عقل کے اعتبار کی حد:

قرآن مجید اور معصومین علیهم السلام کی روایتوں نے، بعض برتر معارف و حقائق کی شناخت

میں انسان کو ناتواںسمجھا هے، اسے نه صرف انسان کی سعادت کے لئے ناکافی نهیں جانتا هے،یهاں تک که ان تمام علوم کے فهم و ادراک کا فاقد جانتا هے ، جن کا انسان دنیوی زندگی کی تدبیر کے لئے محتاج هے – [6] اس لئے وحی اپنی تعلیمات کے ایک حصه میں انسان کی عقل کی نسبت تائیدی اور هدایتی کردار کی حامل هے اور دوسرے حصه میں کچھـ ایسے حقائق کا اظهار کرتی هے که عام انسان کی عقل و فهم کے لئے وحی کی پیروی کے بغیر ان تک رسائی کی کوئی راه نهیں هے ، جیسے برزخ و قیامت میں شریعت کے اقتصادی سیاسی اور عبادی احکام کے آثار کا ظاهر هو نا یا قیامت میں موجود مختلف مقامات کے مانند ، جن کے بارے میں قرآن مجید کی آیات و روایات خبر دیتی هیں-

مذکوره مطالب بیان کر نے سے یه حقیقت واضح هوجاتی هے که انسان کے عقلی و حسی ادراکات کو وحی اور دین نه صرف ان کا انکار نهیں کرتے هیں ، بلکه قیامت میں واقع هو نے والے حوادث کی غیبی خبر بھی دیتے هیں اور انسان کی عقل کے ان ضوابط ، حدود اور قواعد کی بھی خبر دیتے هیں جن کے تحت وه گامزن هوتا هے – اس کے ضمن میں عقلی علوم کو ثمر بخش بنانے کے لئے مکاشفات کے مفهوم کی اطلاعات فراهم کر کے الهی هدایت کے تحت عقلانی فیصلوں کے لئے امکانات فراهم کرتے هیں –

عقل کا دینی اعتبار اس امر کا سبب بن گیا هے که ادراک ومعرفت کے سلسله میں عقل ایک حجت الهی بن کر قابل احترام واعتبار قرار پائی هے-

نتیجه کے طور پر عقلی وضاحتیں اور واقعات بهی بعض دینی وضاحتوں کے عنوان سے قابل اعتبار قرار پائی هیں اور اس لحاظ سے دینی اظهارات، حتی جب غیب کی خبر دیتے هیں ، اگر چه ماورائے عقلانی حقائق پر مشتمل هوں ، هر گز عقل کے مخالف نهیں هیں اور عقل یا عقلی نتائج سے تضاد نهیں رکھتے هیں – [7]

تمام شیعه، مسلمان دانشور، عقل کو بعض معارف کی شناخت میں “معیار” بعض حقائق کی شناخت میں “مصباح و چراغ” اور بعض موارد میں “مفتاح وکلید”جانتے هیں –

عقل کی کلید هو نے کا مراد یه هے که: عقل جب” مصباح” کی صورت میں قوانین وقواعد وضوابط کی شناخت کے سلسله میں اپنافریضه انجام دیتی هے اور اپنی هستی کے افق پر احکام شریعت کوکلی مفاهیم کی صورت میں مجرد وثابت کر نے کے بعد شرح کی حدود میں مداخلت نهیں کرتی هے- مثلا احکام الهی کے انکشاف اور شناخت کے بعد ، عقل ان کے سلسله میں اسرار کی تحقیق کر نے کی توانائی نهیں رکهتی هے ، کیونکه ان احکام کے اسرار عالم غیب سے مربوط هیں اور عقلی استنباط کے دائره سے خارج هیں ، اور عقل ، عالم غیب کے بعض کلیات کے علاوه کچھـ نهیں جانتی هے-[8]

غیب وشهود کی معرفت کا معیار:  عالم هستی کی مخلوقات دوقسم کی هیں : محسوس اور نامحسوس، محسوس مخلوق کی شناخت کا معیار احساس وتجربه هے – تجربه اگر چه اپنے حدود میں معتبر اور قابل قدر هے، لیکن اس کا اعتبار عقل کے اعتبار کے طول میں هے نه اس کے عرض میں ، کیونکه تجربه کا مراد ، استقراء اور مکرر حس نهیں هے ، بلکه تجربه ، ایک ایسا مکرر حس هے جو ایک مخفی قیاس کی پناه میں مفید یقین هو تا هے ، اور هرقیاس همیشه، کبریائی کلی کا حامل هے ،جو(عادی یا مسلح) حس سے قابل ادراک نهیں هے اور عقلانی تفکر کے بغیر قابل سمجهـ نهیں هے – غیر محسوس اور غیب کے عالم کی دوقسمیں هیں: مطلق اور تناسبی – غیب وه مطلق هے جو وجود کے تمام مقامات پر اور عام لوگوں کے لئے پوشیده اور مخفی هے- غیب تناسبی وه هے که وجود کے بعض مواقع یا بعض افراد کے لئے غیب هے-

غیب مطلق، جیسے، خدا وند متعال کی ذات کی حقیقت، جو لامتناهی هے ،علم حصولی ومفهومی اور علم حضوری و شهودی قلبی سے قابل شناخت و معرفت نهیں هے، بلکه اس کے بارے میں صرف علم اجمالی اور اسی طرح اس پر فی الجمله اعتقاد، ممکن هےنه بالجمله-

لیکن غیب تناسبی ، جیسے، اسلاف کے بارے میں خبریں یا قیامت اور فرشتوں وغیره کے بارے میں معلومات، ان کی شناخت کا معیار عقلی بر هان اور قلبی مشاهدات هیں، اور قرآن مجید کی طرف سے تفکر و تعقل پر تا کید، اس لئے هے که شناخت کا پهلا معیار، عقل شمار هوتا هے – کیونکه اگر عقل حاکم هو جائے ، تو برتر شناخت یعنی وحی کو بهی قبول کرتی هے اور قلبی شهود کی بهی تائید کر تی هے اور ادراک حسی کی بهی هدایت کرتی هے- [9]

برزخ کے لغوی اور اصطلاحی معانی: “برزخ” دوچیزوں (ماده وروح) کے در میان حدفاصله، حائل اور واسطه کے معنی میں هے اور “عالم مثال” کو اس لئے عالم برزخ کهتے هیں که اجسام کثیفه(مادی) اور عالم ارواح مجرده کے درمیان حد فاصله هے اور دنیا وآخرت کے در میان حد فاصله هے- لفظ برزخ کو دو مواقع پر استعمال کیا جاسکتا هے : ایک عالم برزخ کے سلسله میں ایک ایسی جگه هے، جهاں بدن سے جدا هو نے کے بعد ارواح اس جگه میں منتقل هوتے هیں اور دوسرا ،ارواح مجرده اور اجسام کے در میان حد فاصله-[10]

کیا انسان عالم غیب کی شناخت کی توانائی رکهتا هے؟ اس سوال کے جواب میں کها جاسکتا هے که اگر شناخت اور ادراک کا مراد ، مفاهیم وتصورات ومسائل نظری کا ادراک عقلی هے، تواس قسم کا امر، معرفت کی شناسائی کی بحث میں ثابت شده اصول کے مطابق، ایک ممکن امر هے، یهاں پر اس کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نهیں هے – لیکن اگر ادراک کا مراد ،شهودی اور قلبی ادراک هو، تو یه ادراک بهی دوسرے جهات سے سلوک عملی کے اصولوں کی رعایت کرتے هوئے اور ان پر عمل کر نے کی صورت میں ممکن هے- اور انسان ایک ایسے مر حله میں داخل هو سکتا هے جهاں پر وه دوسرے عالم کے شهودی ادراک کی ظر فیت پیدا کرسکتا هے-

نظام هستی میں مختلف عالم هیں ، ان میں سے هر ایک کے الگ احکام هیں- عالموں کے در میانی تفاوت کے پیش نظر یه احکام ایک دوسرے سے فرق رکھتے هیں ، مثلا عالم ناسوت یا فطرت کے اپنے مخصوص احکام هیں اور عالم برزخ کے اپنے خاص احکام هیں اور عالم قیامت کے آثار اس سے مخصوص هیںان عالموں میں داخل هو نے اور ان کے بارے میں شهودی ادراک حاصل کر نے کے لئے انسان میں ایک قسم کی تبدیلی ایجاد هو نی چاهئےتاکه اس میں اس کی طرفیت اور صلاحیت پیدا کرسکے – اسی لئے انسان میں مرنے کے بعد ایک قسم کی تبدیلی ایجاد هوتی هے تاکه وه عالم برزخ میں داخل هوسکے –اس کے علاوه قرآن مجید کی آیات کے مطابق مجموع عالم میں ایک بنیادی تبدیلی آنی چاهئے تاکه عالم قیامت کے احکام وآثار کو ادراک اور قبول کر نے کی آمادگی پیدا هو سکے- اس لئے کها جاسکتا هے که انسان، عالم غیر مادی کو ادراک کر نے کی ظرفیت رکھتا هے ، لیکن اس شرط پر که تغیر و تبدل کے نتیجه میں یه قابلیت حاصل کر سکے- چنانچه بعض انسانوںکو ایک قسم کے اعمال وآداب انجام دینے اور سیر وسلوک کی وادی میں قدم رکهنے کے سبب اسی دنیا میں موت اور قیامت سے پهلے بلند تر عالم کے ادراک کی ظرفیت اور صلاحیت حاصل هو تی هے ، جس کے نتیجه میں ان پر بهت سے حقائق واضح هوتے هیں – جو تزکیه نفس اور تطهیر دل کی راه سے اپنے سفر کا آغاز کرتا هے ، وه کچھـ منازل اور مراتب طے کر کے بلند مقامات پر پهنچتا هے-

ایساشخص، پهلے مرحله میں عالم ملک کے اسرار سےآگاه هو نے کا مرتبه حاصل کرتا هے … اس سے بهی بلند تر مرتبه پر وه عالم جبروت اور عرش الهی کا مشاهده کر نے کی شائستگی اور قابلیت پیدا کرتا هے – یه وه مقام هے ، جس پر حارثه بن مالک جیسے افراد فائز هو چکے هیں ، جس نے پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے اس سوال کے جواب میں که، تم نے رات کو کس حالت میں صبح کی ؟ اس نے جواب میں کها: ” کانی انظر الی عرش الرحمن بارزا” گو یا که میں عرش خدا کا آشکار صورت میں مشاهده کر رها هوں-[11]

کیا انسان کی عقل عالم برزخ وقیامت اور ان کی نعمتوں اور عذاب کو ادراک کر نے کی توانائی رکهتی هے؟ اس کے جواب میں کهنا چاهئے : هستی کے بهت سے حقائق خاص کر وه حقائق جو عالم فطرت کے ماورا میں موجود هیں، همارے لئے مجهول هیں ، البته یه نه جاننا ، اکثر ان حقائق کی اصل کو عقل اور اور وحی نے اپنی جگه پر ثابت کیا هے اور هم اس کی نسبت آگاهی رکهتے هیں –لیکن ان کی حقیقت اور ماهیت کے بارے میں علم بهت محدود هے، مگر ایسے بهت کم لوگوں کے لئے جنهوں نے علمی سیر وسلوک سے اسی دنیا میں اس عالم کی طرف راه پیدا کی هے اور ان کا اجمالی علم ،تفصیلی علم میں تبدیل هوا هو، اوراس لئے برزخی بدن کی ماهیت اور … برزخ کی نعمت اور عذاب همارے لئے مکمل طور پر واضح نهیں هیں- اس کے باوجود آیات و روایات اور عقلی تجزیوں سے، بر زخی بدن کی کیفیت اور بر زخ و قیامت کی نعمتوں اور عذاب کے بارے میں بعض پس منظر پیش کئے جاسکتے هیں –[12] اگر هم عالم برزخ اور اس کے عذاب اور نعمتوں کا خاکه کهینچنا چاهیں تو هم انهیں خواب کی حالت میں حاصل هو نے والی لذتوں اور نعمتوں سے تشبیه دے سکتے هیں – انسان خواب کے عالم میں بعض کام انجام دیتا هے، چلتا هے، گفتگو کرتا هے ، غور فکر کرتا هے … اگر هم انسان کے ان کاموں کا مادی زندگی سے موازنه کریں، تو یه فاقد حقیقت هوں گے ، لیکن اگر موازنه سے صرف نظر کریں ، تو هیمیں کهنا چاهئے ، که یه کام خواب کی ظرفیت میں بذات خود ایک حقیقت هیں ، کیونکه خواب کی خوشی، آرام ، آلام اور درد بذات خود خلاف حقیقت نهیں هیں ، اور ممکن هے خواب میں رونما هو نے والے حالات انسان کے جسمانی بدن پر بهی اثر انداز هو سکیں ، اب اگر اس قسم کے خواب کی زندگی حقیقت میں تبدیل هو جائے ، تو اس کانام برزخی اور مثالی زندگی رکهنا چاهئے – وهاں پر ماده، عنصر ، مالکیول اور ایٹم کا وجود نهیں هے ، لیکن کائنات کی تمام مخلوقات کی صورتیں، ماده اور وزن کے بغیر موجود هیں، مثلا عالم تصور میں ، هم تمام دنیا اور چیزوں کا تصور کرسکتے هیں ،اور ان سب چیزوں کو اپنے سامنے حاضر کر سکتے هیں اور حقیقت میں هم آسمان وزمین اور دوست ورفیق کی ایک تصویر کا مشاهده کر سکتے هیں ، اب اگر جو کچھـ هم نے خواب یا تصور کے عالم میں مشاهده کیا ، ایک زیاده حقیقت کے ساتهـ واضح تر صورت میں تجلی کرے، تو همیں اس زندگی کا نام برزخی زندگی رکهنا چاهئے – اس لحاظ سے دانشور کهتے هیں که عالم برزخ میں ، ماده کے آثار، جیسے، گرمی ، سردی، شیرینی ، تلخی ، شاد مانی اور غم موجود هیں، اگرچه خود ماده موجود نهیں هے- وهاں پر کهانا، پینا، سننا، سنانا، ظاهر هونا اور دیکهنا موجود هے ، اگر چه وهاں پر دنیا کے مانند ماده کا وجود نهیں هے-[13]

جیسا که پهلے اشاره کیا گیا، قرآن مجید اور بعض روایات سے معلوم هوتا هے که انسان عالم آخرت میں منتقل هو نے کے بعد ایسی نعمتوں اور عذاب سے مواجه هو گا جو تصور سے بالاتر هیں اور ایمان کے در جات میں کفر و نفاق اور ظالم افراد کے مطابق فرق هوگا، جیسے:

“فلا تعلم نفس ما اخفی لهم من قراه اعین”[14] پس کسی نفس کو نهیں معلوم هے که اس کے لئے کیاکیا خنکی چشم کا سامان چھپا کر رکها گیا هے -” اس کے علاوه پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے ایک مفصل حدیث میں فر مایا هے:”… ومن صام من رجب اربعه عشر یوما اعطاه الله من الثواب مالا عین رات ولا اذن سمعت و لا خطر علی قلب بشر…”[15] چنانچه اس مضمون کا ایک حصه امام صادق علیه السلام کے کلام میں آیا هے که: …ومن تصدق بصدقه فی رجب ابتغاء وجه الله ، اکرمه الله یوم القیامه فی الجنه من الثواب بما لاعین رات ولااذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر” [16]

اس لئے خدا وند متعال اپنے فضل وکرم کی بنیاد پر مومنوں کو ایسی نعمتیں عطا کرے گا جو نه کسی کے قلب وعقل پر طاری هوئی هوں گیں-

امام خمینی (رح) بهشتی نعمتوں کی توصیف میں فر ماتے هیں : ” میں نے ایک اهل معرفت شخص رضوان الله علیه سے سنا هے که وه فر ماتے تھے : بهشت میں ، ایک شربت، سنی گئی تمام لذتیں مختلف قسموں میں (موسیقی اور ترانوں کی صورت میں) اور دیکهی گئی تمام لذتیں ( خوبصورت انداز اور رنگوں میں ) موجود هیں ، اور دوسرے حواس بهی اسی صورت میں هو ں گے ، حتی… ان لذتوں کا الگ الگ صورت میں ادراک کیا جائے گا- [17]

منابع و ماخذ:

١-امام خمینی (رحمه الله) ، تفسیر دعا ی سحر-

٢- جوادی آملی ، عبدالله ، تفسیر موضوعی قرآن کریم ، ج١٣-

٣- جوادی آملی، عبدالله ، شریعت درآینه ی معرفت-

٤- جوادی آملی ، عبدالله، شناخت شناسی در قرآن-

٥- جوادی آملی ، عبدالله ، عقل و ایمان و انسان شناسی-

٦- حرعاملی، (رحمه الله) ، وسائل الشیعه، ج٧-

٧- سبحانی، جعفر ، معاد انسان و جهان-

٨- سجادی ، سید جعفر، فر هنگ علوم فلسفی و کلامی، طبع١٣٥٧-

٩- شعرانی ، میرزا ابوالحسن ، نثر طوبی یا دایره المعارف لغات قرآن-

١٠- کاشفی، محمد رضا، خداشناسی وفر جام شناسی-

١١- مکارم شیرازی ، ناصر، تفسیر نمونه، ج١٤-


مزید  کیا، جس گھر میں کتا پالا جاتا هے، اس گھر میں رهنے والے کی عبادت و دعا خدا کی طرف سے قبول نهیں هوتی هے؟

[1] – جوادی آملی، عبدالله، تفسیر موضوعی قرآن کریم، ج١٣، ص ٨٨- ٧٨-

[2] – ایضا، ص٢١٦-

[3] – لیس الخبر کا لمعاینه صدوق، من لا یحضره الفقیه ، ج٤، ص٣٧٨، ح ٥٧٨٨-

[4] – جوادی آملی، عبدالله ، حیات عارفانه امام علی علیه السلام ، ص٢١-

[5] – شریعت در آئینه ی معرفت، ص١٧٩-١٧٨-

[6] عقل و ایمان و انسان شناسی ، ص١٦-

[7] – شریعت در آئینه ی معرفت، ص٣٦٨-

[8] – شریعت در آئینه ی معرفت، طبق نقل، عقل و ایمان و انسان شناسی ، ص١٨-

[9] – ملاحظه هو تسنیم، ج٢،ص١٧٣- ١٧١-

[10] – ملا حظه هو: سید جعفر سجادی، فرهنگ علوم فلسفی وکلامی، طبع ١٣٥٧، نثر طوبی یا دائره المعارف لغات قرآن-

[11] – جوادی آملی، عبدالله، شناخت شناسی، ص٤١٠- ٤٠٩-

[12] – محمد رضا کاشفی ، خداشناسی وفر جام شناسی، ص ١٠٠- ٩٨-

[13] – سبحانی، جعفر، معاد انسان وجهان، تفسیر نمونه ، ج١٤، ص٣٢١، کاشفی، محمد رضا، خدا شناسی وفر جام شناسی ، ص٩٤-

[14] – سجده، ١٧-

[15] – حر عالی، وسائیل الشیعه، ج٧، کتاب الصوم، ص٣٥٣-

[16] – حر عاملی ، وساقیل الشیعه، ، ج٧، کتاب الصوم،ص٣٥٤-، حدیث١٠-

[17] – امام خمینی ( رحمه الله) ، تفسیر دعای سحر،ص ٤٤-

تبصرے
Loading...