کیا انسان زمیں پر موجود مخلوقات کی به نسبت اشرف المخلوقات هے یا تمام هستی اور کائنات کی مخلوقات کی به نسبت ؟ کیا انسان سے بھی شریف تر مخلوق کے خلق کئے جانے کا امکان هے؟

0 0

جواب کے واضح هو نے کے لئے چند نکات کی طرف توجه کرنا ضروری هے :

١- اگر چه انسان ظاهری علوم کے ذریعه تمام قسم کی مخلوقات پر احاطه نهیں رکھتا هے، لیکن اولیائے الهی کی وحی اور غیبی اخبار کے ذریعه مختلف قسم کی مخلوقات ، ان کی حالت اور خلقت کے درجه کے بارے میں معلو مات حاصل کئے جاسکتے هیں – نمونه کے طور پر مندرجه ذیل روایت پر توجه فرمایئے :

عبدالله بن سنان کهتے هیں که میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیه السلام ) سے پوچھا : ملائکه برتر هیں یا فرزندان آدم (ع) ؟ حضرت (ع) نے جواب میں حضرت امیرالمٶ منین علی بن ابیطالب کا قول بیان فر مایا :” خداوند متعال نے ملائکه میں شهوت کے بغیر عقل قرار دی هے اور حیوانوں میں عقل کے بغیر شهوت قراردی هے اور انسان میں عقل وشهوت دونوں چیزیں ایک ساتھـ قرار دی هیں – لهذا اگر انسان کی عقل نے اس کی شهوت پر غلبه پایا وه ملائکه سے برتر هے اور اگر شهوت نے عقل پر غلبه حاصل کیا تو وه حیوان سے بدتر هے – [1]

٢- همارے عقیده کے مطابق جو کچھـ خلقت سے متعلق تمام ایات و روایات سے معلوم هوتا هے ، انسان زمین وآسمان کی تمام مخلوقات پر برتری رکھتا هے- یه ان خصوصیات کے پیش نظر هے جن کا انسان مالک هے- ذیل میں هم ان کی طرف اشاره کرتے هیں :

الف : انسان کی سب سے پهلی اور اهم خصوصیات ، اس کا روح الهی کا مالک هونا هے اور یه خصوصیات صرف انسان سے مخصوص هے- اس سلسله میں ارشاد الهی هے: ” پھر جب (خلقت کو) مکمل کر لوں اور اس میں اپنی روح حیات پھونک دوں — [2]

ب : انسان کے سامنے ملائکه کا سجده کر نا : ارشاد هوتا هے: ” اور یاد کرو وه موقع جب هم نے ملائکه سے کها که آدم کے لئے سجده کرو تو ابلیس کے علاوه سب نے سجده کیا – [3]

ج : زمین پر خداوند متعال کی خلافت کا عهده انسان کی دوسری خصوصیت هے جس نے اسے عالم هستی من جمله ملائکه ، جنات —جیسی دوسری مخلوقات برتری بخشی هے: ” — اس وقت کو یاد کرو جب تمھارے پروردگار نے ملائکه سے کها که میں زمین میں اپنا خلیفه بنانے والاهوں— [4]

د- انسان کی خصوصیات میں سے ایک اور خصوصیت یه هے که وه تخلیق کا اصلی مقصد هے- حقیقت میں دوسری مخلوقات کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا هے تاکه وه ان سے استفاده کرے : ” اور اسی نے تمهارے لئے زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو مسخر کردیا هے— [5]” – ” اے آدم کے بیٹے! میں نے مخلوقات کو تیرے لئے خلق کیا هے اور تجھے اپنے لئے” [6]– یه شاید اس لئے هے که انسان میں وه طاقت هے که پست ترین عالم یعنی عالم ناسوت و طبیعت سے سفر کر کے رشد و کمال کے عالی ترین مقام یعنی فنا فی الله تک پهنچ جائے اور یه خصوصیات صرف انسان کو حاصل هیں-

٥- خلقت کے سرچشمه اور هستی کے جوهر ، حضرت محمد مصطفے صلی الله علیه وآله وسلم کی ذات اقدس کا وجود ، انسان کے تمام مخلوقات من جمله فرشتوں ، جنات — کے مقابل میں اشرف المخلوقات هو نے کی بهترین دلیل هے-

مذکوره تشریح کے پیش نظر واضح هوا که انسان تمام عالم هستی میں اشرف المخلوقات هے-

” انسان سے شریف تر مخلوق کی تخلیق اگر چه ذاتی طور پر نا ممکن نهیں هے ، لیکن بعید هے-

اس کے علاوه خداوند متعال سوره بقره میں آدم کی تخلیق کی علت بیان کرتے هوئے ملائکه کے ساتھـ اپنی گفتگو کے دوران فر ماتا هے : ” اذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ [7]” ” اس وقت کو یاد کرو جب تمهارے پرور دگار نے ملائکه سے کها که میں زمین میں اپنا خلیفه بنانے والا هوں —“

عربی زبان میں لفظ “خلیفه” ” الامام الذی لیس فوقه امام ” کے معنی میں آیا هے ، یعنی ایک ایسا پیشوا جس کے اوپر کوئی اور نه هو [8]– چونکه اس معنی کے پیش نظر اور یه جانتے هوئے که خداوند متعال کسی لفظ کو بیهوده اور معانی و مفاهیم کو مد نظر رکھے بغیر استعمال نهیں کرتا هے، اس لئے هم اس نتیجه پر پهنچتے هیں که خداوند متعال نے انسان کو اس لقب سے نواز تے هوئے ، اس کی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو جو کچھـ موجود هے اور جو کچھ- پیدا هوگا، ان سب پر برتر قرار دیا هے- اگر خداوند متعال انسان سے شریف تر کسی مخلوق کو پیدا کرے تو اس کا لازمه یه هوگا که انسان اس مقام ( خلیفۃ الله) سے معزول هو جائے –

اس کے علاوه حضرت محمد مصطفے صلی الله علیه وآله وسلم اور معصومین علیهم السلام کا وجود، جو مخلوقات وهستی کی خلقت کے سبب هیں اور کمال کے مقام پر پهنچے هیں اور ان میں انسانی قابلتیں فعلیت کی حدتک پهنچی هیں ،اس کے پیش نظر خدا کی طرف سے انسان سے شریفتر مخلوق کو خلق کر نا بعید نظر آتا هے-


مزید  الکحل کی ایک قسم ، اتهانال هے ، کیا یه پاک هےاور اس کا پینا حلال هے؟

[1] – وسائل الشیعه ، ج١٥ ،ص٢٠٩-

[2] – سوره حجر، ٢٩-

[3] – سوره بقره ، ٣٤-

[4] – ایضاً ،٣٠-

[5] – سوره جا ثیه ،١٣-

[6] – علم الیقین ءج١ ص٣٨١-

[7] – سوره بقره ،٣٠-

[8] – المنجد فی اللغۃ و الاعلام ،ص١٩٢، ماده خلف-

تبصرے
Loading...