کیا انسان خلیفۃ اللھ ھے یا خلیفه رب۔

0 0

مذکوره سوال کوھم اس طرح واضح کرتے ھیں:

حضرت آدم کس کے خلیفھ تھے۔ اور انسان کس کا خلیفھ ھے؟ کیونکھ جو خلیفھ ، جانشیں ھوتا ھے ۔ وه اپنے مستخلف ( جس کا جانشین ھوتا ھے) کی طرف سے اس کے کاموں اور وظائف کا ذمھ دار اور اس کے صفات سے متصف ھوتا ھے ۔ خدا نے کس حد تک انسان کو اپنے افعال اور صفات سے متصف ھونے کی صلاحیت عطا کی ھے اور انسان کس حد تک پیرو خدا بن سکتا ھے۔

انسان[1] کس کا خلیفھ ھے؟

قرآن مجید کے سوره بقره کی آیات نمبر ۳۰ اور ۳۱ کے مطابق انسان خلیفھ اللھ ھے۔

توضیح: آیھ شریفھ میں ” انی جاعل فی الارض خلیفۃ ۔۔۔” کی ضمیر متکلم وحده سے سمجھا جاتا ھے کھ متکلم ” خداوند” نے اپنے لئے “جانشین ” منتخب کیا ھے نھ کھ غیر کے لئے۔ اور بعد والی آیت[2] ( آیھ شریفھ ۳۱) میں اس انتخاب کا راز اور انسان کو خلیفھ کے طور پر منتخب کرنے کو ” سب اسماء الھی کی تعلیم” بیان کی ھے اور ” و علم آدم الاسماء کلھا” فرمایا ھے ۔

دوسرے الفاظ میں یھ کھیں کھ خدا نے پھلی آیت میں انسان کو اپنا خلیفھ اور دوسری آیھ شریفھ میں اپنے جانشین کی طاقت ، اور عطا شده خلافت کی وسعت کو بیان کیا ھے ۔ چونکھ خداوند متعال کی حقیقت اسکے اسماء میں روشن ھے ، ان دو مطالب کی وضاحت ، (یعنی اسماء اور انسان کو ان کی تعلیم ) سے روشن ھوتا ھے کھ انسان کس کا خلفیھ ھے؟ اور وه کس حد تک خدائی کاموں کو انجام دے سکتا ھے ، اور وه کتنے اوصاف الھی کا حامل اور انھیں اپنے اندر ظاھر کر سکتا ھے۔

اسماء سے مراد

“اسم” ، “نشانھ” کے معنی میں ھے، لفظی اسم ، ذھنی مفاھیم کے نشان اور مدلول ھے۔ ذھنی مفاھیم عینی حقائق کے نام اور عینی حقائق غیب اور شھود (ظاھر و باطن ) کو شامل ھو کر اپنے حقائق کے اسم اور اسکی نشانیاں قرار پاتے ھیں۔ اب دیکھنا یھ ھے کھ اس آیھ شریفھ میں جو اسماء الھی انسان کو تعلیم کئے گئے ھیں۔ ان اسماء کی کونسی اقسام میں سے ھیں، الفاظ مراد ھیں یا ذھنی مفاھیم یا عینی حقائق؟

آدم کا مسجود ملائکھ قرار پانے کیلئے صرف اسماء کی تعلیم ھی کافی نھیں۔ کیونکھ الفاظ سے آگاھی کا کمال، دل کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ھیں اور ملائکھ کو دل کے مقاصد کو جاننے کیلئے الفاظ اور لغات کی ضرورت نھیں ھے بلکھ وه الفاظ کے بغیر ھی دلوں کے مقاصد کو دریافت کرسکتےھیں” [3]

اسی طرح ذھنی مفاھیم اور حقائق کا صوری ادراک ،ملائکھ کی شان سے نیچے ھے۔ کیونکھ ان کا عالم کے بعض حقائق سے رابطھ ھے نه کھ یھ رابطھ صرف ان حقائق کے مفاھیم سے ۔ یعنی ان حقایق کا ادراک حضوری ھے نھ کھ حصولی۔ البتھ عالم کے سب حقائق ان کیلئے مشھود نھیں لھذا انسان کیلئے سجده کرنے کی دلیل صرف حقایق کے مفاھیم سے اس کی آگاھی نھیں ھوسکتی ۔

اس لئے ایک طرف اسماء سے مراد وھی حقائق ھیں اور دوسری طرف عالم کے سب عینی حقائق کا علم ھے۔ جن کو سمجھنے اور حامل ھونے کیلئے فرشتے قاصر تھے اور فرشتوں میں ان اسماء کی بلندیوں تک پرواز کرنے کی طاقت نھیں تھی۔ اور بعد والی آیات کے مطابق ” اسماء” سے مراد ” عالم غیب کے حقایق” ھیں ، کیونکھ آیت نمبر ۳۳ میں ارشاد کیا ھے ” الم اقل لکم انی اعلم غیب السموات و الارض ” [4] بعض مفسرین کرام   کی تفسیر کے مطابق کھ سوره بقره کی آیات ۳۰ سے ۳۳ کا سیاق و سباق یھ ھے کھ اس ” غیب” سے مراد ” ان اسماء،جن کی تعلیم عطا ھوئی ھے اور آیھ شریفھ انی اعلم ما لا تعلمون[5] میں مذکور مسائل کے علاوه کچھه نھیں ھے”۔ یعنی میں نے وه چیزیں جن کو آپ نھیں جانتے ھیں اور وه صرف میرے علم کے دائرے تک ھی محدود ھیں انسان کو عطا کی ۔۔۔ پس اسماء غیبی وه حقائق ھیں جو فرشتوں کی فھم سے بھت بلند ھیں۔ فرشتے ، جو خود عالم ماده سے بالاتر اور غیب کے بعض اسرار اور مراتب کے حامل ھیں۔ اور وه حقایق عالیھ ھیں جن سے عالم کے سب حقایق زندگی لیتے ھیں جو غیب اور شھود کو شامل ھیں۔[6]

تعلیم کے معنی

بیان شده مطالب کو مد نظر رکھه کر کھ “بغیر کسی واسطے کے حضرت آدم کا اسماء کو دریافت کرنا” [7] سے واضح ھوتا ھے کھ تعلیم سے مراد:

اولاً: اسماء کے شھودی اور حضوری علم کا عطا کرنا نھ کھ صرف ان کے مفاھیم سے آگاھی۔

ثانیاً: علم لدنی اورخداوند متعال سے بغیر کسی واسطے کے تعلیم حاصل کرنا ھے۔ اور چونکھ علم کا مطلب حامل ھونا ھے چاھے کسی چیز کے مفھوم اور صورت کا حامل ھونا، یا خود اس چیز کی حقیقت  کا حامل ھونا ھے۔ تعلیم الھی کی یھ دو خصوصیتیں (شھودی اور لدنی) جو بیان ھوئیں ان کا مطلب یھ ھے کھ خداوند متعال نے حضرت آدم اور انسان کو اسماء حسنی کی حقیقیت عینی اور( اسماء کے گزشتھ معنی کے مطابق ) اپنے اسماء کی پوری نشانیاں عطا کی ھیں ۔

پس مذکوره  مطالب کو مد نظر رکھتے ھوئے آیھ شریفھ پورے اسماء کی تعلیم پر دلالت کرتی ھے، اور جو اسم سب اسماء پر مشتمل ھے اور سب اسماء اس سے روشنی  پاتے ھیں وه اسم “اللھ” ھے ، نتیجھ یھ نکلا کھ انسان خلیفھ اللھ ھے نھ کھ خلیفھ رب۔ کیونکھ رب اسماء الھی اور اسم ” اللھ” کا ایک جلوه ھے اور حقیقت میں انسان خدا کا مظھر تام ھے ، اور اوصاف الھی کا جلوه گر اور ما سوی اللھ پر سب خدائی کاموں کا ذمھ دار ھے۔

مزید معلومات کیلئے رجوع کریں:

۱۔ تفسر المیزان ، ذیل آیات ۳۰ تا ۳۴۔

۲۔ تفسیر تسنیم ، آیۃ اللھ جوادی آملی، ج ۳ ص ۱۷ ۔۔ ۳۲۱


مزید  خدائی ںظام میں انسانی بلندی کا نمونہ کیا ہے۔

[1]  اس آیت کے دیگر تفسیری دلائل سے یھ بات واضح ھوتی ھے کھ خلافت صرف حضرت آدم علیھ السلام کیلئے مخصوص نھیں تھی بلکھ سب انسانوں میں یھ حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ھے، اس لئے ھم نے کلی طور پر بحث میں انسان کا ذکر کیا ھے نھ کھ حضرت آدم علیھ السلام کا ، مزید معلومات کیلئے ملاحظھ ھو ” تفسیر تسنیم ” آیۃ اللھ جوادی آملی ، ج ۲ ص ۴۱ اور ۲۹۳۔ اور “عنواں” مصداق خلیفۃ اللھ از دیدگاه قران ، سوال ۱۹۸۱ ( سائٹ نمبر ، ۲۰۲۳)

[2]  “و علم آدم الاسماء کلھا چم عرضھم علی الملائکۃ فقال انبئونی باسماء ھؤلاء ان کنتم صادقیں۔”

[3]  المیزان ، ج۱ ص ۱۱۶ ، ۱۱۷۔

[4]  کیا میں نے تم سے نھیں کھا کھ میں آسمان اور زمین کے غیب کو جانتا ھوں ۔

[5]  میں وه جانتا ھوں جو تم نھیں جانتے۔

[6] “تفسیر تسنیم” ج ۳ ص ۱۶۹۔

[7] لفظ “علم” آیھ شریفھ ۳۱ میں ملائکھ کے واسطے کی نفی کرتا ھے۔

تبصرے
Loading...