کونسی مسلمان عورت تھی ، جس نے سالوں سال، آیات قرآنی سے گفتگو کی ؟

0 0

معتبر روایات کے مطابق ، فضھ ، حضرت زھرا سلام اللھ علیھا کی کنیز اور وھب بن عبد اللھ کی ماں سے ، سالوں سال ( بیس سال سے زیاده تک ) اگر کوئی سوال کرتا تو وه جواب میں قرآنی آیات تلاوت کرکے جواب دیتی تھی۔ اس کا ایک نمونھ ھم کتاب بحار الانوار سے پیش کرتے ھیں۔

ابو القاسم قُشیری نے اپنی کتاب میں نقل کیا ھے کھ اس کا ایک رشتھ دار کھتا تھا کھ میں اکیلے صحرا میں جارھا تھا وھاں پر میں نے ایک اکیلی عورت کو پایا اور کھا تم کون ھو۔

عورت نے کھا:  آپ سلامی کا پیغام دیجئے پھر عنقریب سب کچھه معلوم ھوگا” [1]

میں نے ان کو سلام کیا اور کھا: یھاں پر کیا کرتی ھو ؟

عورت نے جواب دیا : ” جس کو خدا ھدایت کرتا ھے وه گمراه نھیں ھوتا ” [2]

میں نے کھا: تم جن ھو یا انسان ۔

عورت نے کھا: اے بنی آدم ،ھر نماز کے وقت اور ھر مسجد کے پاس  اپنی زینت اپنے ساتھه رکھو ” [3]

میں نے کھا: تم کھاں سے آئی ھو ؟

اس نے جواب دیا : ” بڑی دور سے ” [4]

میں نے کھا: کھاں جا رھی ھو ؟

اس نے جواب دیا:  لوگوںپر اللھ کیلئے اس گھر کا حج کرنا واجب ھے اگر اس کی استطاعت رکھتے ھوں۔” [5]

میں نے کھا: کتنے دن سے چل رھی ھو ؟

اس نے جواب دیا: ” ھم نے زمین اور آسمان کو چھه دن میں خلق کیا ” [6]

میں نے کھا: کیا کھانا کھانا چاھتی ھو ؟

جواب دیا: ھم نے ان کا ایسا  جسم نھیں بنایا جو کھانا نھ کھاتا ھو ” [7]

میں نے کھا: تیز آجاؤ لیکن جلدی مت کرو۔

جواب دیا:  اللھ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیاده تکلیف نھیں دیتا۔ [8]

میں نے کھا: کیا میں آپ کو پیچھے سوار کرلوں۔

جواب دیا: اگر آسمان اور زمین میں اللھ کے سوا کوئی اور خدا ھوتا تو وه فاسد ھوجاتے”[9]

میں اترا اور اس کو سوار کیا: اس نے کھا: خدا کا شکر ھے جس نے اس سواری کو ھمارے لئے مسخر کیا [10]

پس ھم قافلھ تک پھنچے میں نے کھا کیا قافلھ والوں مین تمھارا کوئی ھے؟

اس نے جواب دیا : اے داود ھم نے آپ کو زمین پر خلیفھ قرار دیا ۔ [11] اور محمد صرف خدا کے رسول ھیں ۔ [12] ای یحیی کتا ب کو لے لو ۔ [13] اے موسی میں تمھارا خدا ھوں [14]

پس میں نے ان چار نامون کو پکارا پھر چار جوان اس عورت کی طرف آئے میں نے کھا: ان کی تمھارے ساتھه کونسی نسبت ھے۔

جواب دیا : مال اور فرزند دنیاوی زندگی کی زینت ھیں [15]

پس جب جوان اس عورت کے پاس آئے ان سے  کھا؛ کھ بابا ، انھیں  نوکر رکھه لیجئے کھ آپ جسے بھی نوکر رکھنا چاھتے ، ان میں سب سے بھتر وھی ھوگا اور صاحب قوت بھی اور ایمان دار بھی ۔ [16]

پس انھوں نے مجھے کچھه دے دیا پھر عورت نے کھا: خداوند جس کیلئے چاھتا ھے اضافھ بھی کردیتا  ھے ۔ [17]

پس ان جوانوں نے اوربھی زیاده مجھے دیا : میں نے ان سے پوچھا یھ عورت کون ھے؟

انھوں نے کھا: یھ ھماری ماں فضھ ، حضرت زھراء کی کنیز ھے جو بیس سال سے صرف قرآن سے جواب دیتی ھے۔ [18]

البتھ جو کچھه روایات مین آیا ھے کھ ان کے فرزندوں نے کھا کھ یھ بیست سال سے قرآن کے ذریعے بات کرتی ھے یھ اس واقعھ کے ساتھه متناقض نھیں کھ بیس سال اور بھی وه بزرگ خاتوں زنده رھی ھوگی اور قرآن سے بات کرتی ھوگی ۔ البتھ یھ ایک اور تحقیق طلب مسئلھ ھے جس کیلئے یھ مقام نھیں ھے۔


مزید  کیا بدر و تبوک کے واقعه میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم ترک اولٰی یا ترک مصلحت کے مرتکب هوئے هیں ؟

[1]     سوره زخرف / ۸۹۔

[2]  سوره زمر / ۳۷۔

[3]  سوره اعراف / ۳۱۔

[4]  سوره قصص / ۴۴۔

[5]  سوره آل عمران / ۹۷۔

[6]  سوره ق / ۳۷۔

[7]  سوره انبیاء / ۸۔

[8] سوره بقره / ۲۸۶۔

[9]  سوره انبیاء ۔ 

   [10] سوره انبیا / ۲۲۔

[11]  سوره ص / ۲۶۔

[12]  سوره آل عمران / ۱۴۴۔

[13]  سوره مریم ، / ۱۲۔

[14]  سوره قصص/ ۳۰۔

[15]  سوره کھف / ۴۶۔

[16]  سوره قصص ۲۶۔

[17]  سوره بقره / ۲۶۱۔

[18]  بحار الانوار ج ۴۳۔ ص ۸۷۔ ابو القاسم القُشیری فی کتابھ قال بعضھم انقطعت فی البادیۃ عن القافلۃ فوجدت امراۃ فقلت لھا مں انت۔

 فقال و قل سلام فسوف تعلمون 

 فسلمت علیھا فقلت ما تصنعین ھاھنا۔

 قالت مں یھد اللھ   فلا مضل لھ۔

فقلت أ من الجن انت ام من الانس۔

قالت یا بنی آدم خذوا زینکم۔

 فقلت من این اقلبتَ

قالت: ینادون من مکان بعید۔

قلت : این تقصدین۔

قالت: وللھ علی الناس حج البیت ۔

فقلت متی انقطعت ۔

قالت و لقد خلقنا السموات و الارض۔۔ فی ستۃ ایام

 فقلت اتشتھین طعاما ۔

 فقالت و ما جعلناھم جسدا لایاکلون الطعام۔

 فاطعمتھا ، قلت ھرولی و لا تعجلی۔

 قالت لا یکلف اللھ نفسا الا وسعھا۔

فقلت : اردفک۔

 فقالت لو کان فیھما الھۃ الا اللھ لفسدتا۔

فنزلت فارکبتھا فقالت سبحان الذی سخرلنا ھذا۔

فلما ادرکنا القافلۃ قلت الک احد فیھا۔

 قالت یا داود اناجعلناک خلیفۃ فی الارض ، و ما محمد الا رسول یا یحی خذ الکتاب یا موسی انی انا اللھ۔ 

 قصحت بھذه الاسماء فاذا انا باربعۃ شباب متوجھین نحوھا فقلت من ھولاء منک۔ 

 قالت المال و البنون زینۃ الحیاۃ الدنیا۔

 فلما اتوھا قالت یا ابت استاجره ان خیرا مں استاجرت القوی الامین

 فکاقنی باشیاء فقالت و اللھ یضاعف لمن یشاء۔

 فزادوا علی فسالتھم عنھا۔

 فقالوا ھذه امتنا فضۃ جاریۃ الزھراء ، ما تکلمت منذ عشرین سنۃ الا بالقرآن۔

تبصرے
Loading...