کریڈٹ کارڈوں کے ذریعے اجناس کے خریدنے کا کیا حکم ھے۔

0 0

آپکا سوال حضرت آیۃ اللھ العظمی سید علی خامنھ ای کے دفتر کو ارسال کیا گیا ھے اور اس کے جواب کا متن آپ کی خدمت میں ارسال کیا جائے گا۔

رقم  کی وه مقدار جو اکونٹ میں موجود ھے اور استعمال کرنے کی صورت مین اسے نکالا جاتا ھے اس میں کوئی اشکال نھیں۔

لیکن وه رقم جو اکونٹ میں موجود نھ ھونے کی صورت میں آپ کو دی جاتی ھے اگر قرض کی صورت میں ھے اور اس پر سود بھی چڑھتا ھے تو  اصلی رقم صحیح لیکن اسے سے زائد رقم ربا اور حرام ھے۔

مزید  کچھ مدت پہلے میں نے ایک لڑکی سے عارضی عقد {متعہ} پڑھنا طے کیا۔ اس نے مجھے وکیل قرار دیا تاکہ مین اس کی عدم موجودگی میں صیغہ پڑھوں۔ لیکن مہر کی مقدار کے بارے میں اس کا تصور غلط تھا، لیکن ہم میں سے کوئی یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ کیا ہمارا عقد صحیح ہے اور کیا مجھے وہی مہر ادا کرنا چاہئیے جو پڑھا گیا؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.