کائنات کو تشکیل دینے والا ابتدائی ماده کیا ھے؟ اس سلسلھ میں قرآن مجید اور روایات کا نظریھ کیا ھے؟

0 1

انسان اپبنے ارد گرد رونما ھونے والے حوادث کی معرفت حاصل کرنے کے سلسلھ میں جستجو ، تلاش و کوشش کرنے والا ھے ، خاص کر مختلف شعبوںمیں سائنس کی ترقی کے پیش نظر ترقی یافتھ وسائل اور آلات سے عظیم کائنات اور اس میں موجود کھکشانوں کے بارے میں نئی نئی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ھے۔ مادی اور فطری علوم کے سائنسدان اگرچھ اس مادی دنیا کے بارے میں کسی حد تک معلومات حاصل کرنے میں کامیابی میں کئی تھیوریاں اور مفروضے پیش کرچکے ھیں ، لیکن اس مطلب کا اعتراف کرنا چاھیے کھ عالم ھستی کی معرفت کے مقابلے میں ان کی معرفت کافی حد تک نا چیز اور کمتر ھے اسی لئے عالم کے ابتدائی مواد کے بارے میں متفاوت نظریات پیش کئے گئے ھیں اور انھیں تھیوری یا مفروضھ کھا جاتا ھے۔

قرآن مجید ، جومعجزه کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کی رسالت کے دعوی کی صداقت کو ثابت کرتا ھے، خود مختلف موضوعات کے بارے میں معجزوں کا حامل ھے ان میں سے ایک قرآن مجید کا علمی معجزه ھے قرآن مجید کا علمی معجزه اس کے ان مطالب اور اسرار پر مشتمل ھے جنھیں قرآن مجید نے بیان کیا ھے لیکن قرآن مجید کے نزول کے زمانھ میں عصر جھالت اور ٹیکنالوجی اور صنعت کے فقدان کی وجھ سے اس زمانھ کے انسان کیلئے قرآن مجید کے علمی معجزون کا ادراک ممکن نھییں تھا لیکں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجھ میں ان میں سے بعض کا انکشاف ھوا ھے، البتھ قرآن مجید کا مقصد اور کام پیچیده علمی معادلات اور مسائل کو حل کرنا نھیں ھے بلکھ قرآن مجید نے اں مسائل کو انسان کی عقل و شعور پر چھوڑ دیا ھے۔ قرآن مجید بدیھیات کو پیش کرکے اور مختلف دلائل بیاں کرکے توحید کی طرف انسان کی راھنمایی کرتا ھے اور قیامت کو ناممکن سے خارج کرکے قبول کرنے کے نزدیک لاتا ھے اور اگر قرآن مجید میں اس قسم کے مسائل بیان ھوئے ھیں تو وه خداوند متعال کے وجود اور وحدانیت کی معرفت و توجھ کیلئے ھیں۔

بیشک قرآن مجید کی ذمھ داری اور تقرر انساں کیلئے ھے۔ قرآن مجید کا کام ایک اجمالی نظریھ کائنات کا بنیادی ڈھانچھ بیان کرنا اور اس کے اور پروردگار کے درمیان رابطھ کی بنیاد ڈالنا ھے ۔

لیکن مادی علوم اور عالم طبیعیات کی ایجادات ان کے مختلف وسائل اور طریقھ کار کو انسان کی عقل ، تجربوں ، انکشافات اور مفروضات پر چھوڑدیا گیا ھے تا کھ انسان ان میدانوں میں اپنی توانائیوں کے مطابق تلاش و کوشش کرے۔

اس بنا پر اس قسم کے علمی و تجربی مسائل کو پیش کرنا ، قرآن مجید کیلئے مناسب نھیں لگتا ھے[1]

بھر حال مذکوره سوال کے جواب کے سلسلھ میں ھم پھلے بعض فلاسفھ اور مادی علوم کے دانشوروں کے نظریات پیش کریں گے اور اس کے بعد آیات و روایات اور اسلامی منابع کی طرف رجوع کریں گے تا کھ اس موضوع کے بارے میں ایک مناسب نتیجھ حاصل کرسکیں

فلاسفھ اور دانشوروں کی نظر میں عالم کا ابتدائی ماده

“تالس” نامی سب سے پھلا یونانی فلاسفر ، جو 640 قبل مسیح زندگی بسر کرتا تھا، معتقد تھا کھ کھ “عالم ھستی پانی سے وجود میں آیا ھے اور عالم کے تمام تغیرات چھه ایسے عناصر کی وجھ سے ھیں جو پانی پر اثر ڈالتے ھیں اس کا اعتقاد تھا کھ مٹی اور پتھر ھوا کی تبدیلیوں کے نتیجھ میں پیدا ھوتے ھیں اور ھوا ، بھاپ میں تبدیل شده پانی ھے اور تھ بھ تھ بھاپ بادل ھیں ، آگ ، پانی سے وجود میں آئے منجمد اجسام کے ٹکراو کے نتیجھ میں پیدا ھوئی ھے۔ دنیا میں تمام چیزیں اپنی اصل یعنی پانی کی طرف پلٹتی ھیں۔

یھ فلسفی دعوی کرتا تھا کھ ھستی ، ایک قدیم پانی سے لبریز ھے اور اس کے اطراف میں برف ، پانی کا محاصره کئے ھوئے ھے۔ ان چٹانوں میں سے ایک ٹکڑا جدا ھوکر پانی پر قرار پا گیا ھے جس کا نام زمین ھے۔[2]

طبیعی علوم کے دانشوروں کا اعتقاد ھے کھ اصل ھستی فضا کو پُر کئے ھوئے مسلسل و متحرک ومتخلل (پلپلی) گیس سے وجود میں آئی ھے اور یھ گیس ماده کا گھیرے ھے

اکثر دانشوروں کا یھ اعتقاد ھے کھ ھزاروں ملین سال قبل ” عظیم دھماکھ” کے نام سے ۔۔ رونما ھوئے ایک حادثھ کے نتیجھ میں عالم کا آغاز ھوا ھے ۔۔ تصور کیا جاتا ھے کھ اس دھماکھ کے نتیجھ میں کائنات میں موجود تمام ماده اور انرجی کی تخلیق ھوئی ھے۔

اس وقت عالم کے نشات پانے کے بارے میں مشھور ترین پیشں کیا گیا نظریھ “عظیم دھماکھ ” کا نظریھ ھے[3] اس نظریھ کے مطابق بھت قدیم زمانھ میں ، تقریبا ۱۳ ارب سال پھلے عالم ایک خاص نقطھ کے اندر قرار پایا تھا ، اس میں انرجی یعنی بے انتھا چھوٹے چھوٹے ذرات موجود تھے[4]

اس قسم کی کائنات شناسی کی بنیاد پر ، ھستی نے ایک دھماکھ کے نتیجھ میں گنجاپن اور حد سے زیاده درجھ حرارت سے رھائی پانا شروع کیا اس طرح عالم لمحھ بھ لمحھ وسیع تر ھوتا رھا اور قدرتی طورپر درجھ حرارت بھی رفتھ رفتھ کم ھوتا گیا[5] یھ سائنسدان عالم کی تخلیق کے سلسلھ میں اپنی تحقیقات اور مشاھدات کے دوران اس نتیجھ پر پھنچے ھیں کھ ماده ، تخلیق کی ابتدا میں منجمد اور ساکت تھا ، اور اسی طرح ابتداء میں ماده ، شعلھ ور ، کافی سکڑا اور تھ بھ تھ گیس کی صورت میں تھا اس میں ایک عظیم دھماکھ واقع ھوا جس کے نتیجھ میں ماده اپنے ارد گرد وسیع پیمانھ پر پھیل گیا۔

قرآن مجید کی نظر میں عالم کا ابتدائی ماده

قرآن مجید کے مفسرین سوره ھود کی آیت [6]۷ اور دوسری آیات[7] سے استناد کرکے کھتے ھیں : ” بنیادی طور پر جس چیز سے عالم وجود میں آگیا ھے وه پانی تھا”۔

سید قطب اعتقاد رکھتے ھیں کھ یھ آیت (سوره ھود کی آیت ۷) شرف آسمان و زمین کی تخلیق کے وقت پانی کے وجود اور اس پر عرش الھی کے قرار پانے پر دلالت کرتی ھے لیکن اس پانی کی کیفیت ایک غیبی امر ھے اور اس کو سمجھه لینے کی کوئی گنجائش نھیں ھے۔[8]

بعض مفسرین کے مطابق پروردگار عالم نے پھلے پانی کو خلق کیا ھے اور اس کے بعد آسمانوں اور زمین بلکھ کلی طور پر مادی مخلوقات کو پانی سے خلق کیا ھے[9]

قرآن مجید آسمان کی تخلیق کے بارے میں فرماتا ھے ” ثم استوی الی السماء و ھی دخان “[10] پھر آسمان کی تخلیق کی جب کھ دھویں کی صورت میں تھا”۔

یھ آیھ شریفھ دھویں سے آسمان کی پیدائش کو بیان کرتی ھے۔

امام باقر علیھ السلام فرماتے ھیں : ” یھ دھواں وه دھواں نھیں ھے جو آگ کے نتیجھ میں پیدا ھوتا ھے۔[11]

امام علی علیھ السلام کی نظر میں عالم کا ابتدائی ماده

امام علی علیھ السلام ، نھج البلاغھ میں ، افعال الھی ، یعنی مخلوقات، من جملھ ارض و سماوی مجرد اور مادی مخلوقات  کی تخلیق اور ان کی تدبیر بیاں کرنے کے ضمن میں اس موضوع ، یعنی عالم کے ابتدایی ماده کے بارے میں فرماتے ھیں : “ثم انشاء سبحانھ فتق الاجواء[12] ۔۔۔” پھر پروردگار عالم نے ایک وسیع فضا کو پیدا کیا اور اس وسیع فضا میں پانی کو پیدا کیا اور یھ پانی ھوا پر قرار پایا یعنی حقیقت میں پروردگار عالم نے فضا میں ایک ھوا کو پیدا کیا اور اس ھوا پر ایک رقیق چیز کو پیدا کیا جو پانی کی شکل میں تھی وه ھوا نیچے سے دباؤ لاکر پانی کو سھارا دے رھی ھے تا کھ یھ پانی ساکت رھے اس کے بعد ایک دوسری ھوا کو پیدا کیا اور یھ ھوا پانی پر دباو ڈال کر اسے متلاطم کرتی ھے ، اور اس کے نتیجھ میں بھت سی لھریں پیدا ھوتی ھیں یھ لھریں متلاطم ھوتی ھیں اور ان امواج کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجھ میں جھاگ پیدا ھوتا ھے ( حقیقت میں یھ جھاگ ، وھی پانی کے ذرات ھیں جو اوپر کی طرف آتے ھیں ) اور اسی جھاگ سے آسمان خلق ھوئے ھیں۔ بعض روایات، جن میں سے ایک خود حضرت علی علیھ السلام کی روایت ھے، سے معلوم ھوتا ھے کھ جھاگ سے بھاپ اٹھی جو دھویں کی صورت میں تھی[13] البتھ ان دونوں نطریات کے درمیان کوئی اختلاف نھیں ھے کیوں کھ جب بھاپ ایک جگھ پر جمع ھوتی ھے تو وه اوپر اٹھتی ھے اور دھویں کی صورت اختیار کرتی ھے۔

اس لئے اگر ھم حضرت علی علیھ السلام کے اس بیان کو دوسری روایتوں کے ساتھه جوڑدیں تو معلوم ھوتا ھے کھ حضرت علیھ السلام پانی کو عالم کا اصلی ماده جانتے ھیں۔

آیات و رویات اور جدید نظریات میں یکسانیت

بیشک لفظ “دخان” یعنی قرآن مجید میں بیان کئے گئے دھویں کا مراد ، اصطلاحی دھواں نھیں ھے ، کیونکھ دھواں آگ سے پھچانا جاتا ھے ، مفسرین ، حضرت امام باقر علیھ السلام کی مذکوره روایت سے استفاده کرتے ھوئے اس بات پر متفق ھیں کھ قرآن مجید کی اصطلاح میں ” دخان” ( دھواں) آگ سے پیدا ھونے والا دھواں نھیں ھے ، بلکھ امواج کی شدت کے نتیجھ میں پانی سے پیدا ھونے والا دھواں ھے ، جو پانی سے اٹھنے والی بھاپ کا استعاره ھے اسی طرح یھ بھی ممکن ھے کھ سوره ھود کی آیت نمبر ۷ میں بیان کیا گیا عرش اعلی خدا کی قدرت کا کنایھ ھو اور حقیقت میں ، مادی عالم کی تکوین و تشکیل کا آغاز ، پانی سے تھا۔ یھ حضرت علی علیھ السلام کا وھی کلام ھے کھ آپ نے فرمایا: ” عالم کی خلقت پانی سے ھوئی ھے ۔۔۔”

لیکن اس سلسلھ میں کوئی دلیل موجود نھیں ھے کھ اس پانی سے مراد یھی پانی ھے جو آکسیجن اور ھائیڈروجن سے تشکیل پاتا ھے۔ بلکھ ممکن ھے کھ مراد وھی پگھلا ھوا ماده ھو ، اور چوں کھ اس زمانھ کے لوگوں کیلئے پگھلے ھوئے ماده کی پھچان نھ ھونے کی وجھ سے ، اس کا نام نھیں لیا گیا۔ اس لئے اس کی پانی سے تعبیر کی گئی۔ اسی طرح جس ھوا کے بارے میں حضرت علیھ السلام فرماتے ھیں کھ پانی پر مسلط ھے ، ممکن ھے اس سے اصطلاحی ھوا مراد نھ ھو ، بلکھ وھی طاقت ھو جو پگھلے ھوئے ماده کو فوری متحرک بناتی ھے۔

اسی طرح امام باقر علیھ السلام نے فرمایا ھے کھ : ” جب اللھ نے آسمان کو خلق کرنا چاھا تو ھواؤں کو حکم دیا تا کھ سمندر میں تلاطم پیدا کریں ” امام علیھ السلام کے اس ارشاد میں استعمال شده سمندر کی اصطلاح سے بھی معلوم نھیں ھے کھ یھی سمندر اور اقیانوس مراد ھے ، کیونکھ ان سمندروں کا تشکیل پانا اسی زمین کی خلقت سے مربوط ھے اور یھاں پر بحث خود کھکشانوں کی پیدائش کے بارے میں ھے کھ زمین ان کا ایک حصھ ھے۔

اس لئے اس وضاحت کے پیش نظر عالم کے ابتدائی ماده کے سلسلھ میں امام علی علیھ السلام کے نظریھ اور جدید سائنسی تھیوری کے درمیان کوئی فرق نھیں ھے حضرت علی علیھ السلام کے ارشاد کے مطابق عالم کا بنیادی ماده پانی تھا اور طبیعی علوم کے سائنسدانوں کے مطابق پگھلا ھوا ماده تھا۔

امام علی علیھ السلام نھج البلاغھ میں فرماتے ھیں : ” حرکت کے نتیجھ میں جھاگ پیدا ھوا ھے ، جھاگ سے مراد وھی پانی کے ذرات ھیں جو پگھلے ھوئے ماده میں اوپر کی طرف جاتے ھیں اور پھر اس سے جدا ھوتے ھیں ، یعنی حقیقت میں اس سے کچھه ذرات جدا ھوکر بھاپ کی صورت میں اوپر چڑھتے ھیں اور اسی بھاپ سے آسمان کی تخلیق ھوئی ھے اور خود جھاگ سے زمین کی تخلیق ھوئی ھے۔ اس بنا پر زمین بھی وھی پگھلا ھوا ماده تھا جو بعد میں اوپر سے بندھو گیا ھے یھ مطلب عظیم دھماکھ کے نظریھ کے ساتھه قابل تطبیق ھے، جسکے مطابق پگھلے ھوئے ماده سے کچه ذرات جدا ھو کر زمین کی صورت اختیار کرگئے ھیں

اس لئے قرآن مجید کی آیات و روایات کے نظریھ اور علوم جدید کے سائنسدانوں کے نظریھ کے درمیان کوئی اختلاف نھیں ھے چونکھ لفظ آب اور بھاپ پگھلے ھوئے ماده اور گیس کے ساته قابل تطبیق ھیں اس لئے قرآن مجید اور روایات کا نظریھ ، جدید نظریات ، خاص کر “سوڈیم “[14] کے نظریھ کے ساتھه قابل تطبیق ھے۔

البتھ متکلمین نے اس مسئلھ میں بظاھر صرف آیات و روایات پر اکتفا کیا ھے اور کسی توجیه کے بغیر انھیں قبول کیا ھے اور کھا ھے :’ چونکھ خداوند متعال تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ھے ، اس لئے ، ممکن ھے پانی کو خلق کرے اور اس سے زمین و آسمان پیدا کرے “۔

بعض نے قرآن مجید کی آیت : “ھم نے ان کو نھ زمین و آسمان کی خلقت کا گواه بنایا ھے اور نه  خود انھیں کی خلقت کا[15] ۔۔۔” سے استناد کرکے اور اس استدلال پر کھ ابھی سائنسدانوں کا نظریھ مفروضھ کے مرحلھ اور رد و قبول کی حالت میں ھے اور ابھی صحیح علمی قوانین کے درجھ پر نھیں پھنچا ھے اور کسی نے ابتدائی ھستی اور اجرام کی تکوینی کیفیت کو بھی نھیں دیکھا ھے[16] اس لئے قبول کیا ھے کھ عالم کا ابتدائی ماده پانی ھے[17]

بعض دوسرے افراد، آسمانوں اور زمین کی پانی سے تخلیق کی توجیھ کرتے ھوئے حسب ذیل کچھه اور مطالب بیان کرتے ھیں اور کھتے ھیں :

عالم دو قسم کا ھے:

۱۔ عالم خلق و ماده

۲۔ عالم امر ، یعنی مجردات کا عالم اس کی دلیل سوره اعراف کی آیت نمبر ۵۴ ھے جس میں خدائے متعال فرماتا ھے : ” الا لھ الخلق والامر” “اسی کے لئے خلق بھی ھے اور امر بھی”

” خلق سے مراد عالم فطرت اور “امر” سے مراد عالم مجردات ھے

اس اصول کے مطابق پانی سے مراد، فیض الھی ھونا چاھیئے ، وه فیض جو تمام عالم وجود ( عالم عقول و مجردات سے لے کر عالم فطرت تک) پر مشتمل ھے اس بناء پر اس عبارت سے مراد یھ ھے کھ پانی اور لھروں کے ٹکراؤ کے نتیجھ میں زمین و آسمان پیدا ھوئے ھیں خدا سے حاصل کئے گئے فیض کے نتیجھ میں عالم عقول پھیل گیا ھے اور اس کے پھلاؤ کے نتیجھ میں عالم ماده یعنی زمین و آسمان خلق ھوئے ھیں[18]

آخر میں اس نکتھ کو بیان کرنا ضروری ھے کھ آیات و روایات کا سامنا کرنے کی صورت میں درج ذیل چند پھلوؤں کو مد نطر رکھنا چاھیے:

۱۔ اگر چھ بظاھر قرآن مجید اور سائنس سے معلوم ھوتا ھے کھ عالم ابتداء میں گرم گیس سے پیدا ھوا ھے ۔لیکن دوسرے نظریات جسیے ” مھباگ” ( ابتدائی عظیم دھماکھ ) کے بارے میں قرآ مجید کوئی واضح مطلب بیان نھیں کرتا ھے ۔

۲۔ خلقت کے آغاز کے بارے میں متعدد نظریات پیش کئے گئے ھیں اور ان کے قطعی طورپر ثابت نھ ھونے کے پیش نظر فی الحال ان میں سے کسی ایک کو قطعی طورپر قرآن مجید سے نسبت نھیں دی جاسکتی ھے۔ اس لئے اسلامی کتابوں میں اس سوال کاجواب اسلاف کی اس سلسلھ میں مباحثاتی توانایی کے نمونوں اور قرآن مجید کے معجزوں کی حد تک پیش کیا گیا ھے۔

۳۔ اگر ایک دن ” عظیم دھماکھ” کا نظریھ قطعی طورپر ثابت ھوجائے تو یھ مطلب قرآن مجید اور روایات کے علمی معجزه کو ثابت کرے گا ، کیوں کھ یھ ایک قسم کا قرآن مجید اور روایات کے علمی راز سے پرده اٹھانا ھے[19] لھذا فی الحال کسی چیز کو قطعی طورپر قرآن مجید اور روایات سے استناد نھیں دیا جاسکتا ھے۔


مزید  میں اسلامی فلسفه کے،یونیورسٹی طلاب کے موسم گر ما کے ٹرینگ سنٹر کا معلم هوں – مجهے اس سنٹر میں موت، احتضار،قبر ، روح کی جسد کے ساتھـ همراهی ، قبر میں شب اول کے سوالات اور دوسرے جزئیات کے بارے میں 8جلسوں کے دوران تدریس کرنا هے-مهر بانی کر کے اس سلسله میں جامع اور قابل بحث معلو مات کے بارے میں میری مکمل راهنمائی فر مایئے-

[1]  اس سلسلھ میں سید قطب کھتے ھیں ؛” جو مسلمان جدید ٹیکنالوجی کا چکا چوند لگانے والے زرق و برق سے متاثر ھوکر کوشش کرتے ھیں تا کھ بعض امور کو قرآن مجید سے ربط دین اور چاهتے ھیں کھ قرآن مجید کو علم طب ، کمسٹری ، اور فلکیات وغیره کی کتاب کے عنوان سے پھچنوائیں وه انتھائی ساده لوح ھیں ” سید قطب  کھتے ھیں :” قرآن مجید اپنے موضوع میں ایک مکمل کتاب ھے اور اس کا موضوع ان تمام علوم سے عظیم اور برتر ھے کیونکھ قرآن مجید کا موضوع ، خود انسان ھے ” تفسیر فی ظلال القرآن ج ۱ ص ۱۸۱

 [2]  عبدالغنی ، خطیب ، قرآن و علم امروز ( ترجمھ اسد اللھ مبشری ) ص ۶۹ ، ۷۰

[3]  ۱۹۲۷ میں جارج لومٹر نامی بلجیک کے ایک ستاره شناس نے یھ نظریھ پیش کیا کھ عالم ابتداء میں بھت چھوٹا تها اس نے عالم کی اس حالت کو “کائناتی انڈا” نام رکھا کھ مھیب دھماکھ کے بعد عالم نے موجوده وسیع صورت اختیار کی ھے ، ۱۹۳۰ ء اور ۱۹۴۰ء کی دھائی کے دوران ” کائناتی انڈے ” کا نظریھ ختم ھوکر “عظیم دھماکھ” کے نظریھ میں تبدیل ھوا ( دانشنامھ آکسفورڈ ج۱ ص ۹۰)

[4]  ھر جسم کے حجم اور جرم کے یونٹ کو چگالی کھتے ھین (جرم اور حجم کی نسبت)

[5]  مزید آگاھی اور معلومات کے لئے ، ‘ باشگاه اندیشه ” “پارساکار” اور “مجلھ رشد” کی سائٹوں کی طرف رجوع کیا جائے

[6] “و ھو الذی خلق السماوات وا الارض فی ستۃ ایام و کان عرشھ علی الماء ” اور “وھی وه ھے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھه دنوں میں پیدا کیا ھے اور اس کا تختِ اقتدار پانی پرتھا۔

[7] جیسے :” و جعلنا من الماء کل شیء حی ” اور ھم نے ھر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا ھے ” (انبیاء / ۳۰)

[8]  سید قطب ، تفسیر فی ظلال ، ج ۴ ش ۱۸۵۷

[9]  دائرۃ المعارف قرآن کریم ، ج ۱ کلمھ ی آب۔

[10]  فصلت / ۱۱

[11]  لما أراد اللھ سبحانھ و تعالی ان یخلق السماء ، امر الریاح فضربن البحر حتی ازید فخرج من ذالک الموج و الزید دخان ساطع من وسطھ مں غیر نار ، فخلق اللھ منھ السماء ، یعنی جب پروردگار علم نے آسمان کو خلق کرنا چاھا تو ھواؤں کو حکم دیا کھ سمندروں کوآٓپس میں ٹکرائیں اس طرح جھاگ وجود میں آگیا۔ ان لھروں اور جھاگ سے سمندر میں موجود ، آگ کے بغیر پیدا ھونے والا دھواں وجود میں آگیا ، خداوند متعال نے اس دھویں سے آسمان کو خلق کیا ( ابں میثم ، شرح نھج البلاغھ ج ۱ ش ۱۳۸)

[12]  نھج البلاغھ خطبھ ۱ ، ” اس کے بعد خداوند متعال نے قسم قسم کے طبقات وجود میں لائے اور ان کے اطراف کو کھول دیا اور خالی فضا وجود میں لایا اور اس میں ایک ایسے پانی کو جاری کیا جس میں متلاطم لھریں ایک دوسرے سے ٹکراتی تھیں ، اور اسے ایک شدید ھوا اور طوفان پر قرار دیا ، پھر ھوا کو پلٹادیا اور اسے اس کی حفاظت کی ذمھ داری سونپی اور مطلوبھ حد تک اسے قریب لے آیا اس کے نیچے ایک خالی فضا بنائی اور اس کے اوپر پانی جاری تھا اس کے بعد خداوند متعال نے ایک ایسا طوفان اٹھایا جس کا کام صرف پانی کو متلاطم کرنا تھا اور پانی کی لھریں مسلسل ایک دوسرے سے ٹکراتی تھیں ، شدت کے ساتھه طوفان چلتا تھا اور ایک دور نقطھ اس کا سر چشمھ تھا اس کے بعد اسے حکم دیا تا کھ تھ بھ تھ پانی اور پانی کی عظیم لھریں آپس میں ٹکرائیں اور ان سمندروں کی لھریں ھر طرف پھیل جائیں پس انھیں مشک کے مانند آپس میں ،مخلوط کیا ” ( ترجمھ و شرح نھج البلاغھ ج ۱ ص ۵۰)

[13]  ابں میثم ، شرح نھج البلاغھ ج ۱ ص ۱۳۸

[14]  سوڈیم ، وھی کائناتی غبار کے ساتھه مخلوط شدھ گیس ھے یا دوسرے الفاظ میں ایک ایسی معلق گیس ھے جس میں سخت مواد موجود ھے ، جس کی دانشور ، قرآن میں بیاں کئے ھوئے “دخاں” (دھویں ) سے تطبیق کرتے ھیں۔

ایک مفروضھ یھ بتاتا ھے کھ سورج ، ستاروں اور زمین وغیره کا ماده ایک گرم جاری اور پگھلا ھو اماده تھا ، اس پگھلے ھوئے ماده کی حرکت کی شدت کی وجھ سے اس سے کچھه ٹکڑے جدا ھوئے اور یھ ٹکڑے نظام شمسی کی زمین، چاند وغیره کی صورت میں وجود میں آئے ھیں اس نظریھ کے مطابق پانی اور بگھلے ھوئے ماده کے درمیان اشتراک کا سبب وھی انکا جاری ھونا ھے اس بنا پر ممکن ھے پانی سے مراد وھی بگھلا ھوا ماده ھو اور سوڈیم وھی گیس اور دھواں ھو جو اس پگھلے ھوئے ماده کی شدید حرکت کی وجھ سے وجود میں آیا ھے اور اس سے آسمان خلق ھوئے ھیں۔

[15] و ما اشھدتم خلق السموات و الارض ، کھف ۵۱

[16]  عبد الغنی خطیب ، قرآن و علم امروز ( ترجمھ اسد اللھ مبشری ) ش ۸۵ ۔۸۶

[17]  مادی موجودات کی خلقت کے سلسلھ میں علماء کے نظریات کے بارے میں مزید معلومات اور آگاھی  حاصل کرنے کیلئے ملاحظھ ھو : شرح نھج البلاغھ ابں میثم ، ج ۱ ش ۱۳۸ ۔ ۱۵۵

[18]  مادی موجودات کی خلقت کے سلسلھ میں علماء کی نظریات کے بارے میں مزید معلومات اور آگاھی کیلئے ملاحظھ ھو : شرح نھج البلاغھ ابں میثم ، ج ۱ ش ۱۳۸ ۔ ۱۵۵

[19]  مزید معلومات کیلئے ملاحظھ ھو : قرآن مجید کے علمی معجزات پر ایک تحقیق ، تالیف محمد علی رضائی اصفھانی ج ۱ ش ۹۳ ۔ ۱۰۵

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.