ڈیکارٹ کے جمله ” میں غورو فکر کرتا هوں، پس میں هوں” کے منبع کا پته بتائیے؟

0 0

” میں غوروفکر کرتا هوں، پس، میں هوں” کا جمله ” رنه ڈیکارٹ” کے تفکر کا جمله هے، جو رساله “گفتاردر روش ” میں درج هے- ڈیکارٹ، اس سلسله میں استدلال کرتا تھا که اگر میں شک کرتا هوں، تو اس کا لازمه یه هے که ایک “میں” هونا چاهئیے تاکه شک کر سکے “میں شک کرتا هوں، پس میں هوں” اس کے بغیر کیسے ممکن هے که هر قسم کا شک پیدا هو جائے- دوسری جانب سے ڈیکارٹ معتقد هے که یه ” وجود رکھنا” صرف اس وقت یقینی هے که میں آگاه هوں، اس لیے اس نے ” میں غورفکر کرتا هوں، پس میں هوں ” کے قاعده کو اپنے فلسفه کا پهلا اصول قرار دیا هے- پس یه دونوں جملے ڈیکارٹ کے هیں-

“ڈیکارٹ” نے اپنے اس مشهور جمله : ” میں غور و فکر کرتا هوں، پس، میں هوں” سے انسان کی پیدائش کو موضوع کے رتبه پر فراهم کیا هے

لیکن کانٹ نے معرفت شناسی کو وسعت بخش کر انسان کے بارے میں ایک نئی هویت پیش کی هے، جس میں عقل فرد کی هویت کی محور میں تبدیل هو کر انسان کے دوسرے وجود، جیسے جذبات، احساسات، پست امور قرار پاکر مسترد هوئے هیں- اس نظریه کے مطابق انسان کی هویت سے ، صرف “میں” سے انسان کے عقلانی پهلو کی طرف اشاره هے

مزید مطالعه کے لیے مندرجه ذیل منابع کی طرف رجوع کیا جا سکتا هے:

1- “گفتار در روش راه بردن عقل”، رنه ڈیکارٹ، ترجمه محمدعلی فروغی، تصحیح امیرجلال الدین اعلم، نشر البرز ۱۳۷۷ هجری شمسی

2ـ “تأملات در فلسفه اولی “، رنه ڈیکارٹ ، ترجمه احمد احمدی، مرکز تولید و انتشارات مجتمع دانشگاهی ادبیات و علوم انسانی ۱۳۶۱هجری شمسی

3ـ “سیر حکمت در اروپا”، محمدعلی فروغی ، تصحیح امیرجلال الدین اعلم، نشر البرز ۱۳۷۷ھ ش

4ـ “فلاسفه بزرگ”، بریان مگی ، ترجمه عزت الله فولادوند، انتشارات خوارزمی ۱۳۷۲ھ ش

5ـ “فلسفه روشن اندیشی”، ارنست کاسیرر، ترجمه نجف دریابندری، انتشارات خوارزمی ۱۳۷۲.ھ ش

6ـ “بحث در ما بعدالطبیعة” ژان وال، ترجمه یحیی مهدوی ، انتشارات خوارزمی ۱۳۷۰ھ ش

مزید  زیادہ بولنے کا علاج کیسے ممکن ہے؟ اور اس کےلیے کون سے طریقے ہیں؟ تا کہ میں اپنے اور دوسروں کے اسرار کی حفاظت کر سکوں؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.