چورى کے گناه کى تلافى کیسے کى جاسکتى هے؟

0 0

هم آپ کو مبارک باد دیتے هیں که خداوند متعالىٰ نے آپ پر لطف و مهربانى فرمائى هے اور آپ کو اپنى غلطى کا احساس هوا هے اورآپ توبه اور گناهوں کى تلافى کرنے کى کوشش کررهے هیںـ هم آپ کو خوشخبرى دے رهے هیں که اس گناه کے توبه اور تلافى کے لئے یه ضرورى نهیں هے که آپ اس شخص کو کچھـ بتایئں اور اپنے برے کام کے بارے میں اسے آگاه کریں بلکه اس قدر که اپنے پروردگار کے درمیان اپنے کام پر توبه کریں اور جورقم یا مال اس شخص کے مال سے ااٹھایا هے اسے واپس پهنچادیں [1] (یا اسى جگه پر رکھیں جهاں سے وه پیسے آٹھائے تھے بشرطیکه وه شخص پیسوں تک رسائى رکھتا هو) تو کافى هے، حتى اگر وه متوجه بھى نه هوجائے اور انشاء الله خداوند متعالى آپ کو بخش دے گا اور آپ پر مهربانى عنایت کے گاـ



1 مراجحع تقلید کے مشابه فتوىٰ سے اس حکم کا استفاده کیا جاسکتا هے، مثال کے طور پر مندرجه ذیل موارد پر توجه کى جائے:

مجمع المسائل (للگپایگانى)،ج1،ص401،س386 “ایک شخص کا مشغله اور کام لوگوں کے گروں کے اندر کنواں کھودنا تھا ، مالک مکان نے اس کے ساتھـ قرارداد باندھى که مثلاً وه دس میٹر گهراکنواں کھودےاور اس نے خیانت کى اور دس کے بجائے 9 میٹر کنواں کھودکر مالکین مکان کے حوال کرتا تھا اور اس طرح اس نے ایک رقم جمع کى هے اور اپنے اس گزشته کام کے بارے میں پیشیمان هوا هے اور ما لکین سے رابطه قائم کرکے انھهیں راضى نهیں کرسکتا هے، اس صورت میں اگر وه اس مبلغ کا خمس ادا کرے تو کیا برى الذمه هوسکتا هے یا نهیں؟

جواب: اگر عین وه رقم باقى نه رهى هو اور خرچ هوئى هو اور اس رقم کے مالکوں کو نهیں پهنچا نتا هو ، تو یقین کى حد تک اپنے ذمه رقم کو حقداروں کى طرف سے غیر سید فقیر کو صدقه کے طور پر دیدے اور جن کو جانتا هو ان سے رضا مندى حاصل کرنا ضرورى هےـ چنانچه اگر عین وه رقم موجود هو اور دوسرے مال کے ساتھـ مخلوط هو چکى هو اور اس کى مقدار اور مالک کو بھى نهیں جانتا هو تو اس مال کا مخلوط به مال حرام کے عنوان سے خمس ادا کرےـ”

جامع المسائل (للبهجھ )،ج2،ص108،”اور اگر مالک کو پهنچانتا هو لیکن مال کى مقدار کو کسى صورت میں نهیں جانتا هو، تو اسے متیقن رقم پر اکتفا کر نا چاهئے اگر سابقه علم احتمال کى حد میں نه هو، یعنى کم از کم احتمال جس پر اکتفاء کرنے کا یقین کرے ، ورنه غالباً ایسا هے که احتیاط مستحب کے طور پر مالک کے ساتھـ مصالحت کرے یا اکثر احتمالات کو دور کرے ، جس مقدار پر مالک راضى هو جا ئے وه ادا کرے ذکر شده عین اور دین میں کوئى فرق نهیں هے”    

مزید  اسلامی فلسفہ میں وجود ذہنی کے معنی کیا ہیں؟
تبصرے
Loading...