پیغمبراسلام{ص} کی نگاہ میں دوسروں کو تحفہ دینے کے آداب کیا ہیں؟

0 0

دینی تعلیمات میں جس چیز کی تاکید کی گئی ہے وہ، دوسروں کو تحفہ دینا ہے، لیکن اس مسئلہ کی یاددہانی کرانا ضروری ہے کہ دینی کتابوں میں تحفہ، مادی تحفوں کی بہ نسبت ایک وسیع تر مفہوم ہے اور معنوی تحفے بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔

پیغمبراسلام{ص} سے اس سلسلہ میں کثرت سے احادیث نقل کی گئی ہیں، ان میں سے بعض کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:

۱۔ ” ایک مسلمان کی شرافت و بزرگی یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے تحفہ کو قبول کرے، اور جو وہ رکھتا ہو اس میں سے اس کو تحفہ دیدے اور اپنے آپ کو اس کے لیے مشقت و زحمت میں نہ ڈالے،” اس کے بعد فرمایا: ” میں ان کو دوست نہیں رکھتا ہوں، جو اس سلسلہ میں اپنے آپ کو زحمت میں ڈالتے ہیں[1]۔”

اس روایت میں پیغمبراسلام{ص} تحفہ دینے اور لینے کو ایک مسلمان کی شرافت جانتے ہیں اور اس کلام میں جو ایک لطیف نکتہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تحفہ، مشقت و زحمت کا سبب نہیں بننا چاہئیے اور تحفہ کو منتخب کرتے وقت مالی طاقت کو مدنظر رکھنا چاہئیے اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ “تکلف” کا مصداق ہوگا اور مدنظر “تحفہ” کے برخلاف ہوگا۔

۲۔ امام باقر{ع} نے فرمایا ہے: ” رسول خدا{ص} تحفہ کو قبول کرتے تھے لیکن صدقہ لینے سے پرہیز کرتے تھے اور فرماتے تھے: ایک دوسرے کو تحفہ دیدو، کیونکہ تحفہ دلوں کو صاف کرتا ہے اور دیرینہ کینہ اور دشمنیوں کو دور کرتا ہے[2]۔”

مزید  جس شخص کےبدن کے اعضاء میں سے کوئى عضو، مثال کے طور پر پیر یا سر وغیره زخمى هو اور اس پر بنڈیج کیا گیا هو اور اس پر پانى ڈالنا مضر هو، تو وه کیسے وضو کرے گا؟ اور اگر اسے غسل کرنے کى مجبورى هو تو وه کیسے غسل کرے گا؟ اور اگر پاک مٹى نه ملے ته وه کیا کرے گا؟ چونکه میں ملک سے باهر زندگى گزارتا هوں، اور پاک مٹى حاصل کرنا بهت مشکل اور ناممکن هے، تو کیا میں اپنے بدن کو اس حصه کےعلاوه دھوسکتا هوں جس کے لئے پانى ڈالنا مضر هے یا بنڈیج کى وجه سے دھویا نهیں جاسکتا هے؟

۳۔ امام رضا{ع} اپنے والد اور جد بزرگوار سے نقل کرتے ہیں کہ: رسول اکرم{ص} تحفہ پسند کرتے تھے، اس کا مطالبہ کرتے تھے اور جواب میں خود بھی اس کے لیے اقدام فرماتے تھے[3]۔”

۴۔ رسول خدا{ص} نے فرمایا ہے: ” تحفہ تین قسم کا ہے: ایک کسی کے تحفہ کے جواب میں، دوسرا صلح و آشتی کے لیے اور تیسرا خدا کی خوشنودی کے لیے[4]۔”

۵۔ رسول خدا{ص} نے فرمایا ہے: ” اگر مجھے کوئی شخص گائے یا بھیڑ کے پائے کھانے کی دعوت دے گا تو میں اسے قبول کروں گا اور اگر گائے یا بھیڑ کے پائے مجھے تحفہ کے طور پر بھیجدئے جائیں گے تو میں اسے قبول کروں گا۔[5]

آنحضرت{ص} نے مثال کے طور پر گائے یا بھیڑ کے پائے کا ذکر فرمایا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اگر مجھے تحفہ کے طور پر کوئی معمولی چیز بھی دے دے تو، میں اسے قبول کروں گا۔

۶۔ رسول اکرم{ص} نے فرمایا ہے: ” جس برتن میں تحفہ لایا گیا ہو،  اسے واپس کرنے میں جلدی کرنا چاہیے تا کہ {تحفہ لانے والا پشیمان نہ ہو جائے اور } آپ کے لیے اور بھی تحفہ لائے[6]۔

۷۔ امام رضا{ع} نے اپنے اجداد اور رسول خدا{ص} سے روایت نقل کی ہے اور فرمایا ہے: ” تحفہ ایک اچھی چیز ہے، کیونکہ یہ حاجتوں کی کلید ہے۔”

ہم نے جو روایتیں تحفہ کے بارے میں ذکر کیں، ان سے نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ اس کام کی کافی اہمیت ہے، اور رسول اکرم{ص} نے اس کی سفارش فرمائی ہے، لیکن اس کے بارے میں بیان کی گئی خصوصیات اور شرائط کی رعایت کرنا ضروری ہے، کیونکہ تحفہ کا اصلی مقصد، انس ومحبت کو بڑھاوا دینا اور کینہ اور  کدورتوں کو دور کرنا ہے۔

مزید  کتاب بحارالانوار کے صفحہ نمبر ۷۹ ج ۲۷ میں درج روایت کے پیش نظر، کیا شیعوں کے اعتقاد کے مطابق قیامت کے دن سب سے پہلے پوچھا جانے والا سوال، اہل بیت {ع} سے متعلق ھوگا؟

 


[1]طبرسی، علی بن حسن، مشکاة الأنوار، ص 219، کتابخانۀ حیدریه، نجف، 1385ق.

[4]کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج 5، ص 141، ح 1، دار الکتب الإسلامیة، تهران، 1365ش.

[5]صدوق، محمد بن علی، من لا یحضره الفقیه، ج 3، ص 299، انتشارات جامعۀ مدرسین، قم، 1413 ق.

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.