وه بیمار جس کو ھر آدھے گھنٹے کے بعد پیشاب کرنے ضرورت پڑتی ھے اور وه پھیھ دار کرسی ( wheel Chair) پر اپنے اعمال کو انجام دینے پر مجبور ھے ، حج تمتع پر جانے میں اس کے لئے کیا حکم ھے؟

0 0

حج کے واجب ھونے کی ایک شرط جسمانی استطاعت (توانائی ) ھے یعنی حج پر جانے اور اعمال حج انجام دینے کی طاقت،  اس کے بغیر کھ کوئی رکاوٹ  اور مشکل پیش آئے ۔ حضرت امام خمینی اس سلسلے میں فرماتے ھیں :

” حج کے واجب ھونے میں جسمانی استطاعت شرط ھے ، اور راستھ کا کھلا ھونا اور وقت کا وسیع ھونا بھی، پس جو بیمار حج پر جانے کی طاقت  نھیں رکھتا یا اس کے لئے زیاده تکلیف اور مشکل کا باعث بنتا ھے اور جس کیلئے راستھ کھلا نھیں ھے یا حج کا وقت اتنا تنگ ھوگیا کھ وه حج تک نھیں پھنچ سکتا ، اس پر حج واجب نھیں ھے[1]

پس اگر آپ کے شوھرکے لئے حج اس طرح کی تکلیف اور مشقت کا باعث ھے جس کو وه برداشت نھیں کر سکتے ھیں تو ایسی صور ت میں ان کے اوپر حج واجب نھیں ھے لیکن اگر گزشتھ سالوں میں، جب وه اس بیماری میں مبتلا نھیں ھوئے تھے ان پر حج واجب ھوگیا تھا لیکن انھوں نےاس حج کو انجام دینے میں سھل انگاری کی تھی اور بجا نھیں لائے  تھے اب ان پر حج واجب ھے اور ان کے لئے ضروری ھے کھ اسے بجا لائیں۔ حضرت امام خمینی (رح) اس سلسلے میں فرماتے ھیں:

” اگر استطاعت کی شرط کے ساتھه ساتھه ، اس نے حج کو ترک کیا ، تو حج اس پر واجب ھےاور اسے بعد میں جس طرح ممکن ھوسکے حج پر جانا چاھئے۔ [2]

اب اس  بات کو مد نظر رکھه کر کھ حج کے اعمال میں صرف طواف اور طواف کی نماز میں طھارت شرط ھے اور حج اور عمره کے باقی اعمال میں یعنی احرام ، سعی ، تقصیر ، عرفات ، مشعر اور منی میں وقوف، رمی جمرات اور قربانی میں طھارت کی شرط نھیں ھے اور پھیھ دار کرسی کا ھونا طواف اور سعی میں کوئی رکاوٹ  نھیں ھے اور جو مشکلات آپ نے اپنے شوھر کے متعلق بیان کئے ( کھ انھیں ھر آدھے گھنٹے کے بعد پیشاب کرنے کی ضرورت پڑتی ھے اور وه  مجبور ھیں کھ پھیھ دار کرسی کے ذریعے اعمال کو انجام دیں ) یھ مشکلات نا قابل برداشت نھیں ھیں۔ اور حج کے انجام دینے میں رکاوٹ نھیں بن سکتے ۔ اس لئے آپ کےشوھر ، خدا پر توکل کرکے ایک ھمراھی اور مددگار کے ساتھه خود ھی حج اور عمره کے اعمال بجالا سکتے ھیں اور انشاء اللھ اس لحاظ سے کوئی بھی مشکل پیش نھیں آئے گی۔ ھاں اگر وه طواف اور نماز طواف خود نھیں پڑھ سکتے جن میں طھارت شرط ھے تو ان کے انجام دینے کے لئے میں وه نائب لے سکتے ھیں اور حج کے باقی احکام کو خود ھی انجام دیں ۔ امام خمینی کا فتوی اس سلسلے میں یوں ھیں:

” مستطیع شخص کو خود ھی حج پر جانا چاھئے اور اسکی جانب سے دوسرے کا حج کفایت نھیں کرتا مگر مریض یا بوڑھے پر جس کی وضاحت بعد میں کی جائے گی۔ [3]

مریض یا بیمار سے مراد اس مسئلھ میں وه ھے  جس کے لئے  حج اور عمره کا انجام دینا ممکن نھیں یا ناقابل قابل برداشت سختی ھو اور ٹھیک ھونے کی امید بھی نھ ھو ھے اس صورت میں وه نائب لے سکتا ھے۔


مزید  کیا قرآن مجید کی یہ آیتیں:"عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذينَ صَدَقُوا وَ تَعْلَمَ الْكاذِبينَ"اور «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُلَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ" پیغمبراکرم{ص} کی عدم عصمت کی دلیل پیش کرتی ہیں؟

[1]  مناسک حج ( المحشی للامام الخمینی ، ) ص ۳۸ م ۴۱۔

[2]  ایضا ، مسئلھ ۴۲۔

[3]  ایضا مسئلھ ۴۳۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.