وحی کا دعوا کرنے والے شخص کی اپنے دعوے (وحی و رسالت) میں سچائی یا جھوٹ کو کس طرح مشخص کیا جاسکتا هے؟

0 0

وحی کے دو معنی هیں : لغوی اور اصطلاحی[1]۔وحی کے لغوی معنی کسی مطلب کو مخفی اور تیزی کے ساﺗﻬ مخاطب تک منتقل کرنے کے هیں جو قلبی الهام کو بھی شامل کیئے هوئے هے[2] ؛ لیکن وحی کے اصطلاحی معنی (( معنوی طور پر مخصوص قسم کا شعور پیدا کرنا اور درک کرنا جو که الله کی عنایتوں کے زیر سایه گنے چنے افراد کے علاوه کسی اور کے بس کی بات نهیں هے اور ظاهریء حواس سے پنهان هے [3]۔

وحی لغوی معنی میں صرف معمولی انسانوں کے لیئے نهیں بلکه سارے جانوروں یهاں تک که وه موجودات جو ظاهر میں ادراک نهیں رکھتے (جمادات) کو بھی حاصل هے؛ جیسا که قرآن کی زبان میں شهد کی مکھی کی غریزی حالت جو که چھته بناتی هے ، شهد بناتی هے الله کی طرف سے وحی کے عنوان سے ذکر هوئی هے [4]; یا جناب موسی (علیه السلام ) کی ماں پر الهام کا هونا که وه بچے کو بچانے کے لیئے اسے صندوق میں ڈال کر دریائے نیل کے سپرد کردیں یه بھی ایک وحی کے عنوان سے ذکر هوا هے [5] ؛ نیز خداوند عالم زمین و آسمان پر بھی وحی نازل کرتا هے [6]۔ بعض عارفوں نے بھی وحی کا دعوا کیا هے جو ظاهراً وهی لغوی معنی میں هے یا مراد قلبی الهام اور ایک قسم کا باطنی کشف و شهود هے ۔

ابن عربی کهتے هیں ((۔ ۔ ۔ وحی هونے والے کی نفس پر وحی کا تسلط خود اس کی طبیعت کے تسلط سے کهیں زیاده هے جو عین نفس مخاطب هے ،خداوند عالم کا ارشاد هے (( میں شهه رگ گردن سے زیاده اس سے نزدیک هوں))[7] لهذا تم اے ولی! جب بھی یه خیال کرو که تم پر وحی هو رهی هے تو اپنے آپ کو دیکھو ، دیکھو که تمهارے اندر کوئی شک و شبهه هے یا نهیں هے اگرابھی تک تمھیں تفکر و تدبر کی ضرورت هے تو ﺴﻤﺠﻬ لو که تم صاحب وحی نهیں هو اور تم پر وحی نهیں هوئی هے، لیکن جب تم تک پهنچنے والی شئی تمھیں بطور کلی لوگوں سے الگ کردے اور تمھیں بهرا و اندھا بنادے ، اورتمهارے و تمهاری فکر و تدبر کے درمیان حائل هو جائے اور اپنے حکم کو پورے کمال کے ساﺗﻬ تم تک پهنچادے تو جان لو که تم پر وحی نازل هوئی هے [8]۔

البته اس سلسله میں بهت سی باتیں هیں جس کے لیئے دوسرے مقاله کی ضرورت هے اور یهاں پر صرف چند عارف اور حکما کے بیان پر اکتفا کرتے هیں ۔

صدرالمتألهین شیرازی اپنی کتاب مفاتیح الغیب میں حصول علم کے راستوں کے بیان اور یه که الٰهی تعلیم دو طرح سے هوتی هے ، ایک وحی کے ذریعه دوسرے الهام کے ذریعه کے بعد لکھتے هیں 🙁 خلاصه یه که الهام وه امر هے جس میں سارے انبیاء(علیهم السلام ) و اولیاء شریک هیں لیکن وحی انبیاء(علیهم السلام )  سے مخصوص اس لیئے که وحی نبوت و رسالت کے همراه هوتی هے )[9]۔ انهوں نے مزید وحی و الهام کےفرق کو واضح کیا هے [10]۔

قیصری نے بھی ابن عربی کی نصوص الحکم کے مقدمه میں وحی و الهام کے فرق کو بیان کیا هےاور ان فرقوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے هیں ( ۔ ۔ ۔ وحی نبوت کے خصوصیات میں سے هے ۔ ۔ ۔ اور الهام ولایت کے خصوصیات میں سے هے و غیره ۔ ۔ ۔ )[11]

لهذا یه امر ممکن هے که هر زمانے میں کوئی نه کوئی وحی کا دعوا کرے لیکن یه مشخص هونا چاهیئے که اس کا مقصد اصطلاحی وحی هے اور نبوت کا دعوا کر رها هے یا اس کا مقصد کسی حد تک کشف و شهود کے مرتبه تک پهنچنا هے اور اس پر الهام هوتا هے ؛ دوسری صورت میں وه ایک عارف انسان هے نه که ایک پیغمبر اور اس کی سچائی کا پتا لگانے کے لیئے اس کی باتوں اور مطالب کی طرف رجوع کرنا چاهیئے ۔

لیکن اگر اس کا مقصد اصطلاحی وحی هے اور وه یه دعوا کر رها هے که اس پر وحی کے فرشته کا نزول هوتا هے جو الله کی طرف سےا س کے لیئے پیغام لیکر آتا هے اس وقت اس کلامی بحث کی ضرورت پڑتی هے که نبی کے پهنچاننے کا طریقه کیا هے اور ایک نبی(علیهم السلام) کو (متنبی) یعنی خود ساخته نبی سے کس طرح تشخیص دی جائے ؟

ظاهر میں سوال کرنے والے کا مقصد اور نبوت کے دعویدار کی سچائی کے ذرائع جاننے کا مقصد یهی هے۔ اس لحاظ سے سوال اس طرح پیش کیا جا سکتا هے که اگر کوئی شخص دعوائے نبوت کرتا هے تو اس کے دعوے کی سچائی کو کس طرح معلوم کیا جا سکتا هے ؟

اگر کوئی شخص خداوند عالم کی جانب سے وحی ، نبوت و رسالت کا دعوا کرتا هے تو اسے چاهیئے که اپنی بات کی سچائی پر دلیل اور گواه پیش کرے کیوں که وحی کو دوسرے لوگ محسوس نهیں کر سکتے ۔ وحی کے فرشته کو سوائے نبی( علیهم السلام) کے کوئی دوسرا نهیں ﺪﯾﮐﻬ سکتا اور نه هی کسی کو اس کا پتا چلتا هے ۔ یه خارق العاده امر جو دکھائی نهیں دیتا خود دوسرے دکھائی دینے والے غیر معمولی امر کا محتاج هے جو معجزه کهلا تا هے تا که معجزه کا مشاهده کرنے والے یه یقین کر سکیں که نبوت کا دعویدار مادی طاقت سے ماوراء منبع سے متصل و مربوط هے اور اسی غیر عادی اور غیر مادی طاقت کے ذریعه وحی اس پر نازل هوتی هے۔ اس کا رابطه خداوند عالم سے هے ۔ صاحب معجزه ایسا کام انجام دے سکتا هے کے انجام دینے سے دیگر افراد عاجز هیں ۔ نتیجه میں اس کی بات قبول کر لیتے هیں ۔

اس بیان سے معلوم هوتا هے که هر نبی که امت نے اپنے نبی سے معجزه طلب کیا هے جو ان کا مسلم حق هے اور نبی( صل الله علیه و آله وسلم) نے بھی دکھا کر اپنی امت کی خواهش پوری کی هے ارشاد هوتا هے 🙁 هم نے انبیاء کو بینات (معجزه، دلیل، شاهد) کے ساﺗﻬ بھیجا هے اور هر نبی کے همراه کتاب و میزان نازل کی هے تا که لوگ اس الٰهی میزان کے ذریعه حق کو باطل سے جدا کر سکیں اور عدل و انصاف کی بنیاد پر قیام کریں [12] ۔

معجزه کی تعریف:

معجزه کی متعدد تعریف کی گئی هے، پھر بھی بعض نکتوں سے چشم پوشی کرتے هوئے معجزه کی تعریف اس طرح بیان کی جا سکتی هے “وه مخصوص اور خارق العاده عمل هے جسے صرف انبیائے الٰهی انجام دے سکتے هیں اور عام انسان اپنی تمام تر طاقت کو استعمال کرنے کے با وجود اس کے انجام دینے سے عاجز هے “[13]۔

معجزه کی تعریف پیش نظر ، معجزه کی ﮐﭽﻬ خصوصیات ﺴﻤﺠﻬ میں آتی هیں :

1 ۔ معجزه جیسا که اس کے نام سے پتا چلتا هے وه عمل هے جسے دوسرے انجام دینے سے عاجز هوں یعنی وه خارق العاده عمل هے جو انسان کی قدرت اور تعلیم و تعلم کے قاعده سے خارج هے ۔

2 ۔ معجزه ایسا هوتا هے که مخاطب اس بات کی تشخیص دیتا هے که اس طرح کے عمل کا ظاهر هونا ایک ناقابل شکست سبب سے مربوط هے جسے نه باطل قرار دیا جا سکتا هے اور نه هی ختم کیا جاسکتا هے ۔ ۔ ۔ [14] ۔

مثال کے طور پر حضرت عیسی (علیه السلام) کے ذریعه مردوں کو زنده کرنے کی طرف اشاره کیا جا سکتا هے جو که ایک خارق العاده عمل کے ساﺗﻬ ساﺗﻬ خدا کی جانب سے نبوت و رسالت کے دعوے کے همراه بھی تھا اور دوسروں کے اس کے جیسا عمل انجام دینے سے عاجز هونے کو بھی ثابت کرتا هے ساﺗﻬ هی ساﺗﻬ ایک نا قابل شکست سبب سے مربوط هونے کو بھی سمجھا تا هے ۔

انبیاء کی جانب سے اس طرح کے اعمال کا ظاهر هونا اس امر کی روشن دلیل هے که وحی (جو که ایک غیر معمولی امر بھی هے) تحقیق کے قابل هے اور اس معروف و مشهور قاعده کے مطابق (( حکم الامثال فیما یجوز و فیما لا یجوز واحد))[15] یه نتیجه نکا لا جا سکتا هے که جس طرح ایک غیبی مدد کے ذریعه عصا کو اژدها بنایا جا سکتا هے ، اسی طرح خدا کے کلام کو بھی غیب سے حاصل کیا جاسکتا هے جس کے ذریعه خود بھی علم حاصل هو سکتا هے اور دوسروں کو بھی آگاه کیا جاسکتا هے ۔

لهذا وحی و نبوت کے دعویدار کی سچائی کی شناخت کا سب سے اهم راسته معجزه هے اور اسے دلیل

ﺴﻤﺠﻬ کر اس کی نبوت پر ایمان لا یا جاسکتا هے اور اس کی دعوت پر لبیک کها جاسکتا هے حقیقت میں معجزه لوگوں پر حجت تمام کرنے کا راسته هے اور غیر مؤمنوں کے لیئے عذر خواهی کا سد باب هے ۔

ممکن هے یه سوال کی اجائے که : کیایه محال هے که کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوا کرے لیکن معجزه بھی اس سے صادر هو؟

اس کا جواب یه هوگا که اگر چه یه امر عقلاً محال نهیں هے لیکن اس خدا سے که جس کے اسماء و اوصاف پسندیده هیں جیسے حکیم، رحیم، و غیره ۔ بهر حال یه امید هوتی هے که وه نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے ذریعه معجزه ظاهر نهیں کرے گا تا که لوگ گمراهی میں مبتلا نه هوں۔ دوسرے لفظوں میں یه کها جائے که یا تو نبوت کے هر دعویدار کی بات میں کر اس پر ایمان لے آیئں جو که هرج و مرج اور بے شمار نبیوں کے ظاهر هونے کا سبب بنے گا؛ یا کسی بھی نبی ( علیهم السلام) کی بات نه مان کر اس کی تکذیب کریں جو که مقصد الٰهی (یعنی لوگوں کی هدایت اور ان کے ایمان لانے کے خالف هے؛ یا پھر سچے اور واقعی نبی کی پهچان کا کوئی راسته نکالا جائے اور وهی سچے نبی کے ذریعه معجزه کا ظاهر هونا هے جس کے ذریعه انسان کی هدایت،نجات اور غرض خلقت پوری هوتی هے ۔

اسی وجه سے بعض متکلمیں نبی کی پهچان کا طریقه صرف معجزه سمجھتیں هیں [16] .

البته بهتر یه هوگا که هم کهیں که نبی کی پهچان کا سب سے بهتر اور مطمئن راسته معجزه هے اس لیئے که نبوت کے دعویدار کی سچائی کی شناخت کے دوسرے راستے بھی هیں ؛ جن میں سب سے اهم باطنی اعتبار سے وحی کے مطالب میں تناقض و تضاد نه هوتا یا اس کا عقل و فطرت کے خلاف نه هونا هے یعنی اگر کوئی شخص نبوت کا دعوا کر رها هے اور جو مطالب وحی کے عنوان سے پیش کر رها هے وه مسلمات عقلی سے مناسبت نهیں رکھتے یا انسانی فطرت کے خلاف هیں ایسے میں اس کے جھوٹے هونے کا علم پیدا هوتا هے [17] اسی طرح اگر اس کی جانب سے وحی کے عنوان سے بیان کیئے جانے والے مطالب میں تضاد نظر آتا هے تو یه اس مدعی کے جھوٹے هونے کی واضح دلیل هے جیسا که قرآن مجید میں ارشاد هوتا هے [ کیا یه لوگ قرآن مجید میں غور و فکر نهیں کرتے جبکه اگر یه خدا کی جانب سے نه هوتا تو اس میں بهت زیاده اختلاف پاتے][18]

اس کے علاوه خود انسان کے اعمال و کردار کی تحقیق بھی مدعیٰ کے سچ یا جھوٹ کے ثبوت میں کار آمد هے اگر نبوت کا دعویدار وحی کے عنوان سے پیش کیئے جانے والے مطالب پر عمل پیرانه هو یا اپنی گفتار میں سچا نهیں هو یا نفرت پیدا کرنے والے اعمال انجام دے رها هویا لوگوں کے مال و دولت کو حسرت کی نگاه سے دیکھتا هو یا مقام و منصب اور شهرت چاهتا هو تو یه ساری باتیں منصب نبوت کے خلاف هیں جو اس کے جھوٹے نبی هونے کا سبب بنتی هیں ۔

اس کے علاوه نبی کی پهچان کا ذریعه گذشته اور حاضر نبیوں کی بشارت اور تعارف هے۔ اس اعتبار سے ممکن هے که معجزه کے بغیر بھی لوگوں پر حجت تمام هو جائے ۔اگر چه اس صورت میں بھی اس طرح کی نبوت گذشته یا همعصر نبی کے معجزه پر مبنی هے بعض مواقع پر بهت سے انبیاء ایک هی وقت میں هوتے تھے اور ایک کا معجزه دوسرے کی نبوت کے لیئے بھی کافی هوتا تھا۔ مثال کے طور پر حضرت ابراهیم(علیه السلام) و لوط (علیه السلام) همعصر تھے اور نبی بھی تھے ۔اگر حضرت ابراهیم (علیه السلام) کی نبوت ثابت هوجائے اور آپ یه فرمایئں که لوط (علیه السلام) بھی نبی هیں تو ایسے میں لوگوں پر حجت تمام هوجاتی هے اور اس طرح لوگ ان کی نبوت سے بھی آگاه هوجاتے هیں [19] ۔

پیغمبر اسلام (صل الله علیه وآله وسلم) کی نبوت بھی گذشته نبیوں کی بشارت کے ذریعه ثابت هوئی هے ۔خود پیغمبر(صل الله علیه وآله وسلم) کی جانب سے معجزه ظاهر کرنے کے علاوه ﮐﭽﻬ لوگ آپ(صل الله علیه وآله وسلم) کو اس طرح پهچانتے تھے جیسے اپنے بیٹے کو پهچانتے هیں۔ ارشاد هوتا هے [یَعرفونهُ کما یعرفونَ ابنائهُم][20] ۔

آپ (صل الله علیه وآله وسلم) کے مبعوث هونے سے پهلے حضرت عیسی (علیه السلام) نے آپ کے نام کے ساﺗﻬ آپ کی آمد کی خبر دی هے ،ارشاد هوتا هے (واذ قال عیسی بن مریمَ یا بنی اسرائیل انّی رسول الله الیکم ۔ ۔ ۔ و مبشِّراً برسول یأتی من بعدی اسمُهُ احمد، فلمّا جائهُم با لبیّنات قالوا هذا سحرٌ مبین) “اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسی بن مریم نے کها که اے بنی اسرائیل میں تمھاری طرف الله کا رسول هوں ۔ ۔ ۔ اور اپنے بعد کے لیئے ایک رسول کی بشارت دینے والا هوں جس کا نام احمد هے لیکن پھر بھی جب وه معجزات لے کر آئے تو لوگوں نے کهه دیا که یه تو کھلا هوا جادو هے “[21]

خلاصه کلام : آخر نبی (صل الله علیه وآله وسلم) سے متعلق اوصاف اور بشارتیں جو که توریت اور انجیل میں موجود تھیں اور اب بھی هیں ،انبیائے الٰهی کی پهچان کا دوسرا راسته هیں جس کی تصریح قرآن مجید میں موجود هے ۔ جیسے ارشاد هوتا هے ( الّذین یتّبِعونَ الرسول النّبی الاُمّی الّذی یجِدونَهُ مکتوباً عِندَھم فی التوراتِو الانجیل) “جو لوگ که رسول امی کا اتباع کرتے هیں جس کا ذکر اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا هوا پاتے هیں “[22]

اس کے علاوه دیگر آیتیں بھی هیں [23] ۔ پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کی نبوت کے سلسله میں موجود تصریحات کی تفصیل سے معلومات کے لیئے خود توریت ، انجیل اور اس سلسله میں لکھی جانے والی کتابوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا هے [24]


مزید  میرا شوہر قبلاً ہندو تھا اور میرے لیے مسلمان ہوا ہے۔ لیکن صرف بظاہر مسلمان، شرعی مسائل میں سے کسی ایک کی رعایت نہیں کرتا ہے، اس نے اپنا شغل جھوٹ بول کر حاصل کیا ہے۔ مجھے بتائیے کہ اس کے ساتھ کون سابرتاو کروں؟ کیا طلاق جائز ہے؟

[1]  ملاحظه هو :”وحی اور اس کی کیفیت”کے عنوان سے متعلق سوال

[2]  راغب اصفهانی ،مفردات، لفظ وحی ،ص515

[3]  طباطبائی ،سید محمد حسین ،المیزان فی تفسیر القرآن / ج2 ،ص159 دار الکتب الاسلامیۃ

[4]  سوره نحل/68

[5]  سوره طٰهٰ/38 ؛ قصص/7

[6]  سوره فصلت /11-12 ؛ زلزال/5

[7]  سوره ق/16

[8]  ابن عربی محی الدین ،المفتوحات المکیۃ / ج 2 ، ص78 دور العربیۃ الکبری ،مصر

[9]  صدر المتألهین شیرازی مفاتیھ الغیب / ج1 ،ص224-221

[10]  گذشته حواله ،ص224

[11]  قیصری ، مقدمه بر قصوص الحکم انب عربی ، تنبیه فصل هفتم

[12]  سوره حدید /25

[13]  جوادی آملی عبد الله ، تفسیر موضوعی قرآن کریم /ج 1 ص89

[14]  علامه طباطبائی ،المیزان فی تفسیر القرآن / ج1 ،ص74 دار الکتب الاسلامیۃ

[15] ایک هی جیسی چیزوں میں جن کا حکم ممکن اور ممکن نه هونے والی چیزوں مین ایک هی هے یه ایک فلسفی قاعده هے جو متعدد مواقع میں استعمال هوتا هے اس قاعده کی شناخت اور اس کے استعمال کے مواقع سے آشنائی کے لیئے علامه غلام حسین ابراهیمی دینانی کی کتاب (قواعد کلی فلسفی در فلسفه اسلامی) ج 1 ، ص208

[16]  عبد الرزاق لاهیجی ،سرمایه ایمان ۔ص85 ؛ مظفر شیخ رضا ،عقائد الامامیۃ ،ص77 ،الفصل الثانی ،النبوۃ

 [17] اس مطلب کی طرف توجه دلانا ضروری هے که ممکن هے هر انسان هر موقع پر عقل و فطرت کی مخالفت کو درک نه کر سکے یهاں تک که انبیاء کی تعلیمات میں بهت سے موارد ایسے هیں جنھیں انسان کی عقل درک کرنے سے قاصر اور عاجز هے یا هر ایک کی فطرت درک نهیں کرپاتی جب که انبیاء کے ذریعه تمام لوگوں پر اتمام حجت روشن اور واضح دلیلوں کی محتاج هے ؛مصباح یزدی محمد تقی ،معارف قرآن / ج4-5 ،صص66-69 ۔

[18] سوره نساء/82

[19]  معارف قرآن ، ج4-5 ، ص71

 [20] سوره بقره /164 ؛ انعام /20 ؛ ملاحظه هو : علامه طباطبائی محمد حسین ،المیزان، ج1 ، صص326-327 ؛ج 7 صص40-41 ؛ج 8 ،صص278-282

[21] سوره صف /6

[22]  سوره اعراف /157

[23]  سوره فتح /29؛شعراء/197و۔۔۔ ؛ ملاحظه هو: علامه مجلسی ،بحار الانوار،ج15ص174-248

[24]  بحار الانوار ج15،ص174-248؛انجیل یوحنا ،باب 14،بند16؛انجیل برنابا،باب39-41-44-54-55-136وغیره۔۔

تبصرے
Loading...