وحدت وجود سے فقها اورمتکلمین کی مخالفت کی علت کیا هے؟

0 0

“وحدت وجود”عرفان میں انتھائی بنیادی مفاهیم میں سے هے که اسلامی اورغیر اسلامی عرفا نے اس پر بحث کی هے اور ابن عربی کے مکتب میں اسے “اصل الاصول”شمار کیا گیا هے.

مذکوره بنیاد کے مطابق،وجود ایک واحد اور ازلی حقیقت هے .یه واحد وجود خدا کے علاوه نهیں هے .عالم وجود ،کوئی آزاد و حقیقی وجود نهیں رکھتا هے .حقیقی وجود ایک چیز کے علاوه نهیں هے .اور جو کچھـ وجود کی صورت میں دکھایی دیتا هے ،وه اس واحدحقیقت کے مختلف مظاهر هیں جو اسی الهی وجود سے مربوط هیں.

اس بناپر،ایک خالق کے نام سے اور دوسرا مخلوق کے نام سے الگ الگ دو وجود کا قایل هو نا ممکن نهیں هے،اس طرح صرف ایک حقیقی وجود کا قایل هو نا ضروری هے،که وه وجود حق کبھی خلق کے درجه پر نازل هو کر عین خلق بن جاتا هے.

ایک جگه پرابن عربی کهتا هے:

“فما وصفناه بوصف الاکنا نحن ذلک الوصف،فوجودنا وجوده ،ونحن مفتقر الیه من حیث وجودنا ،وهو مفتقر الینا من حیث ظهوره لنفسه.”

ترجمه:&quotم جو کچھـ اس کے بارے میں کهیں گے ،حقیقت میں هم نے اپنی توصیف کی هے اور اپنے بارے میں کها هے ،کیونکه هماری هستی اس کی هستی هے ،همیں هونے کے لیے اس کی ضرورت هے اور اسے ظاهر هو نے کے لیے هماری ضرورت هے.”[1]

اس کی نظر میں خدا اور خلق ایک چیز هےکه ایک دوسرے کے محتاج هیں ،کیونکه دونوں ایک هی حقیقت کی صورت هیں ،لهذا خلق،حق کے اسمااور صفات کے علاوه کویی چیز نهیں هے.منتهی هستی کی خدا سے نسبت ایک حقیقی نسبت هے اور هستی کی خلق سے نسبت ایک مجازی نسبت هے.اور” فتوحات مکیه”میں”حیرت”کے بارے میں کهتا هے :

“اهل الله اور اهل نظر کے در میان فرق یه هے که:صاحب عقل کهتا هے:

وفی کل شی له آیه        تدل علی انه واحد

لیکن صاحب تجلی کهتا هے:

وفی کل شی له آیه        تدل علی انه عینه

پس وجود کی وادی میں خدا کے علاوه کویی چیز نهیں هے اور خدا کو خود اس کے علاوه کویی شخص یا چیز نهیں پهچانتا،اور اس حقیقت واحد کا  ناظر وه هے که جس نے ابویزید کے مانند”انا الله”کها هے،اور اس کے علاوه متقدمین میں سے وه هے جس نے “سبحانی”کها هے.[2]

اور سر انجام ابن عربی کی وحدت وجود کے بارے میں فتوحات میں درج واضح ترین عبارت،جس پر کافی لوگوں نے تنقید کی هے مندرجه ذیل عبارت هے اور اس کے ضمن میں کهے گیے ابیات هیں:

“فسبحان من اظهر الاشیاء وهوعینها”یعنی پاک و منزه هے وه جس نے اشیاء کو ظاهر کیا هے اور وه عین وهی اشیاءهیں.

فما نظرت عینی الی غیر وجھه                 وماسمعت اذنی خلاف کلامه

فکل وجود کان فیه وجوده              وکل شخیص لم یزل فی منامه

یعنی میری آنکهـ نے اس کے چهرے کے علاوه کسی کو نهیں دیکها هے اور کان نے اس کے کلام کے علاوه کویی کلام نهیں سنا هے .پس هر چیز کا وجود اسی میں هے اور هر کویی اس کی آرام گاه سے الگ نھیں ھے.[3]

لهذا اس بناپرعرفانی مکاتب و مذاهب کے بنیادی محور کے مطابق وحدت وجود اس معنی میں هے که عالم میں دیکھا جانے والا هر وجود ،خدا کی تجلیات کے سوا کچھـ نهیں هے ،نه اس لیے که یه اس کی تخلیق هیں،بلکه اس معنی میں که یه سب اس سے هیں ،یعنی بجایے اس کے که کها جایے :میں تمام عالم کاعاشق هوں ،کیو نکه تمام عالم اس سے هے ،کهنا چاهئے:تمام عالم وه هے،چنانچه آٹھویں صدی کے عارف شیخ محمود شبستری نے اپنے اشعار میں کها هے:

جناب حضرت حق را”دویی”نیست

درآن حضرت من و ماوتویی نیست

من و ما وتوو اوهست یک چیز

که در وحدت نباشدهیچ تمئیز

شود با وجه باقی،غیر هالک

یکی گرددسلوک وسیروسالک

ترجمه:حضرت حق(خدا)کا کویی ثانی نهیں هے ،میں ،هم اور تم اس میں نهیں هے ،میں،هم اور تم در اصل ایک هی چیز هے،کیونکه وحدت میں کویی فرق نهیں هے،باقی رهنے والے کے ساتهـ ابدی بن جایے گا،سیر وسلوک اور سالک ایک هی بن جاییں گے.[4]

امام محمد غزالی کهتے هیں:عرفامجاز کے مقام سے حقیقت کے کمال تک پرواز کرتے هیں اوراپنے معراج اورکمال تک پهنچنے کے بعد اپنی آنکهوں سے مشاهده کر تے هیں که دار هستی میں خدا کے علاوه کویی دیر نشین نهیں هے اور تمام چیزیں اس کی صورت کے علاوه نابود هو نے والی هیں،نه صرف ایک زمانه میں،بلکه ازل سے ابد تک…اور تمام چیزوں کی دو صورتیں هیں:ایک صورت اپنی طرف اور دوسری خدا کی طرف اوریه دوسری صورت پهلی صورت کے اعتبار اور لحاظ سے عدم هے اور دوسری صورت کے لحاظ سے وجود هے .نتیجه کے طور پر خدا اور اس کی صورت کے علاوه ازل سے ابد تک کویی موجود نهیں هے ،”کل شی هالک الا وجهه”.اور اس لحاظ سے عارف محتاج نهیں هے که”لمن الملک الیوم؟لله الواحد القهار”کی آواز سننے کےلئے قیامت کے دن تک انتظار کرے بلکه یه آواز کبھی ان کے کانوں سے جدا نهیں هوتی هے .اور وه “الله اکبر”سے یه معنی استنباط نهیں کرتے هیں که وه سب سے بڑا هے،حاشا!کیونکه اس کے دار وجود میں کوئی دیارهی نهیں هے که وه اس سے بڑا هو.حق کی معیت میں کبھی غیر قرار نهیں پاتا هے.[5]

قابل ذکر بات یه هےکه”اصالت وجود”کی اصطلاح محی الدین کےکلام میںنهیں پایی جاتی هےاور اس سے قبل اس قسم کی اصطلاح کا رواج هی نهیں تھا ،بلکه ابن عربی کی کتابوں کی شرح لکھنے والوں اور اس کے بعد والے عارفوں نے ابن عربی کی تعلیمات سے الهام حاصل کرتےهویےاس قسم کی اصطلاح کو رواج بخشا هے.

وحدت وجود پر استدلال:

عر فایے فلاسفه،جیسے صدرالمتالهین اور دوسروں نے وحدت وجود کے بارے میں ایک فلسفیانه استد لال پیش کیا هے جو اصالت وجوداور معنوی وجود کے اشتراک پر مبنی هے.

من جمله استدلال یه هےکه:معنوی وجود کے اشتراک کے پیش نظر ،وجود،ایک واحد حقیقت هو نا چاهیے ،کیونکه مختلف حقایق سے معنی کو منفک کر نا ممکن نهیں هے.

اس کےعلاوه فلسفه میں وحدت وجود کے نظریه کی تایید میں جو بنیادیں  اور اصول هیں وه قاعده”بسیط الحقیقه کل الاشیاء&quotے،اس بیان میں که:

حق کی بسیط ذات اگر بعض حقایق پر مشتمل نه هو،تو اس کا لازمه ذات کا مرکب هو نا هے .اگر چه عقل کے اعتبار سے هی وجود،فقدان اور ترکیب بسیط هو نے کے ساتهـ ساز گار نهیں هے .پس کهنا چاهیے وجود مطلق تمام موجودات کے کمالات کا بسیط تر صورت میں حامل هے.[6]

فقها اور متکلمین کی مخالفت کی وجه

بعض شیعه وسنی فقها ومتکلمین ،حتی که عیسایی متکلمین نےبهی ،عرفا اور صوفیوں کے عقاید ،خاص کر عقیده “وحدت وجود”کے بارے میں کچھـ اعتراضات کیے هیں .بعض نے عرفا کو اس قسم کے نظریات کے سبب کا فر کها هے ،کیو نکه وه اس قسم کے عقیده کو الهی تعلیمات کے متناقض جانتے تھے ،مثال کے طور پر “لا اله الا الله”جو اسلام کا سب سے پهلا شعار هےکو”لاوجود الاالله”کے منافى اور متضاد جانتے هیں.کیونکه پهلاشعار اس بات کی دلالت کر تا هے که خدا کے علاوه کسی چیز ،جیسے بتوں،خداٶں اور دوسرے معبودوں کی پرستش نهیں کرنی چاهیے،لیکن دوسرا شعار کهتا هے:جو کچھ هے ،خواه بت هو،صنم هویا کوئی دوسرا معبود ،سب خدا هے اور خدا کے علاوه اصولی طور پر کویی چیزنهیں هے،بلکه یه خداهی هے جس کی مختلف صورتوں میں پرستش کی جاتی هے.

عرفا کے اس قول پر :”سبحان من اظهر الاشیاء وهو عینها “اعتراض کیا گیا هے که کیا ممکن هے خداوند متعال عین موجودات بن جایے جبکه بعض موجودات پست،کثیف،آلوده اور نجس هیں ؟پس یه کلام بالکل کفر هے .

البته ،قابل ذکر بات هے که بعض عرفا اپنے مقصود کو بیان کر نے میں قصور وار تھے یابعض تنقید کر نے والے ان کے کلام کے اصلی معنی کو نهیں سمجھـ سکے هیں.اور یه مسئله اعتراضات اور اشکالات کی وجه هے اور عر فا خاص کر ابن عربی کے بارے میں متناقض فیصلے سنانے کا سبب بنا هے .وحدت وجود کی بحث،ایک سنگین اور پیچیده بحث هے نه هر شخص اسے مکمل طور پر بیان کر سکتا هے اور نه هر شخص اس بیان کو صحیح معنوں میں سمجهـ سکتا هے .

صدرالمتالھین ان شخصیات میں سے هیں جنهوں نے “وحدت وجود”کی بحث کا مکمل طور پر تجزیه کر نے کی کوشش کی هے تاکه اس کے بارے میں غلط فهمیوں کا ازاله ھو سکے .

وه معین موجودات اور خاص حقایق میںحقیقت وجود کے اسرار کی کیفیت کے بارے میں کهتا هیں:

جان لو که تمام اشیاءکے مقام هستی میں تین مراتب هیں:

پهلامرتبه:وه هستی خالص وغیر وابسته هے اور کسی قید سے مقید نهیں هے.که عرفا اسے &quotویت غیبیه”،”غیب مطلق” اور “ذات احدیه”سے تعبیر کرتے هیں اور نه اس کا کویی نام هے اور نه تعریف اور نه کسی معرفت سے متعلق واقع هے…

دوسرامرتبه:غیر سے متعلق هستی،یه وهی وصف زاید سے مقید وجود هےاوراحکام   محدودکی تعریف کےساتھـ ،جیسےعقول،نفوس،افلاک،عناصرومرکبات،مانند انسان،جانور،درخت،هوااور دوسرے خاص موجودات.

تیسرامرتبه:وه مطلق”وجود منبسط&quotےکه جس کی عمومیت کلی عمو میت کی قسم سے نهیں هے،بلکه دوسری صورت میں هے،اس جهت سے که وجود،صرف حصول وفعلیت هے اور کلی خواه طبیعی هو یا عقلی ،ابهام کی حالت میں هو تا هے اور اپنے حصول اور هستی کے بارے میں کسى دوسری چیز کے تتمه کا محتاج هو تا هے .اور اس وجود کی وحدت عددی منبسط نهیں هے کیونکه یه ایک حقیقت هے جس نے ممکنات کی شکلوں میں انبساط پایا هے…اوروه اصل عالم هے اور فلک حیات هے اور عرش رحمان هے اور صوفیوں کی تعریف میں “الحق المخلوق به&quotےاور حقیقۃ الحقایق هے…[7]

پھر اس بحث کے ضمن میں “رفع اشتباه ” کے عنوان سے اضافه کرتےهیں:

” جو کچھـ ھم نے کها اس سے ثابت هوتاهے که عارفوں کے عرف میں جب حق واجب پر،وجود مطلق اطلاق هوتاهے، ان سے مراد پهلے معنى کا وجود هے، یعنى وه حقیقت بشرط لاشى هے، نه آخرى معنى میں، ورنه معلوم هے که کهلے مفاسد سے دوچار هوں گے اور ان دو معانی کے درمیان فرق کو مشخص نه کییے جانے اور غلطى کے نتیجه میں کس قدر گمراهیاں اور عقاید کى براییاں رونماهوتى هیں اور مسئله الحاد،اباحه، حلول اور حق اول کو ممکنات کى صفات سے متصف کرنے اور نقاءص وحوادث تک پهنچتا هے[8]

صدرالمتالهین دوسرى جگه پر” وهم وتنبیه ” کے عنوان سے یوں کهتے هیں:

“بعض جاهل اور نام نهاد صوفیوں نے عارف علما کے طریقه کى تقلید کیے بغیر عرفان کو حاصل کرنے کى کوشش کى هے اور عرفان کے مقام پر نهیں پهنچے هیں، فکرى ناتوانى،ضعف اعتقاد اور ان کے اطمینان پر وهم و گمان کے تسلط کى وجه سے انهوں نے یوں خیال کیا هے که ذات احدیت، جسے عارفوں کى اصطلاح میں “مقام احدیت”،”غیبت هویت” اور “غیبت الغیوب” کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا هے، مجرد صورت میں بالفعل ظهور محقق هونا ممکن  نهیں هے، بلکه متحقق وهى عالم کى صورت هے اور اس کے روحانى اور حسى قوى اور “الله” وهى مجموع ظاهر هے اور نه اس کے علاوه کوئی حقیقت ھے اور وه نه مجموع ظاهر عبارت هے انسان کبیر اور کتاب مبین کى حقیقیت، که یه انسان صغیر، اس کا ایک مختصر نمونه ونسخه هے اور یه کلام اور عقیده ، واضح کفر اور بے دینى هے. اور جو- شخص تهوڑا سا علم رکھتا هو، اس قسم کا کلام زبان پر جارى نهیں کرتا. اور اس امر کا اکابر صوفیه دوران کے بزرگوں سے نسبت دنیا بالکل افترا اور بڑی تهمت هے اور ان کا ضمیر و باطن ان چیزوں سے پاک و منزه هے اور بعید نهیں هے که اس جاهلانه تصور کا سبب، وجود کے اطلاق میں غلط هو که کبھی وجود ذات حق پر اطلاق هوتاهے اور کبهى مطلق پر مشتمل اور کبھى عام عقلى معنى پر…

یهاں پر مناسب هے که هم اس مطلب کى تایید میں ایک واقعه کى طرف اشاره کریں که عرفا اور دوسرے علمایے دین کے درمیان اختلاف غلط تعبیرات یا بیان کے نارسا هونے کے سبب تھا یا غلط فهمى اور سوء ظن کى وجه سے تھا:

عرفان اور تصوف کو مسترد کرنے کے سلسله میں لکھى گیی کتابوں میں سے ایک، برهان الدین بقاعى(٨٠٩-٨٨٨ھ) کى لکھى گیى کتاب” مصرع التصوف” هے که اس میں اس قسم کى غلط فهمیوں کے چند نمونے ذکر کیے گیے هیں که هم یهاں پر ان میں سے ایک مقام  کى طرف اشاره کرتے هیں:

شیخ زین الدین عبدالرحیم بن الحسین عراقى، جسے بقاعى نے شیخ الشیوخ اور امام قروه اور شیخ الاسلام اور حافظ عصر کا لقب دیاهے، ابن عربى کے بارے میں کهتاهے:

“پس،خدا، رسول خداصلى الله علیه وآله وسلم اور مومنین کے اس دشمن نے آکر صوفیوں کے کام کى تایید کى هے اور انھیں خداشناسوں میں شمار کیا هے اور کها هے که: حقیقت میں عارف وه هے جو حق کو تمام چیزوں میں مشاهده کرتا هے، بلکه اسے عین سب چیزیں جانتا هے. اور بیشک ایسا کلام لکهنے والے کا شرک یهود و نصارى کے شرک سے بدتر هے، کیونکه یهود و نصارى خدا کے بندوں میں سے ایک مقرب بندے کى پرستش کرنے تھے اور یه ابن عربى گوساله اور بت پرستى کو عین خدا کى پرستش جانتا هے. بلکه وه اس سلسله میں یهاں تک بڑھ کیا هےکه خدا کو عین کتا و سور اور… جانتا هے اور یهاں تک که عین کثافت! ایک فاضل اور اهل علم سچے انسان نے مجهـ سے نقل کیا که میں نے اسکندریه کے پاس اس عقیده کو ماننے والےایک شخص کو دیکھا که مجهـ سے که رها تها خداوند متعال عین اشیاء هے اور وهاں سے ایک گدھا گزررهاتها، میں نے اس سے پوچھا: کیا یه گدھآ بھى؟!اس نے جواب دیا که هاں، یه گدھا بھى! اور اس کا فضله بھی!

مغربى ممالک میں بھی جو عرفا پر اعتراضات هویے هیں و غلط فهمیوں کى وجه سے هیں اور خاص کر وحدت وجود کے قول پر زیاده اعتراضات کیے گیے هیں.

برمنگم کے پادرى، ڈاکٹر بارنس کهتاهے: میرى نظرمیں وحدت وجود کى تمام قسمیں مسترد کى جانى چاهییں، کیونکه اگر انسان خالق کا ایک حصه هو، تو انسان میں پایی جانے والی برایی اور خباثت بهى خدا کا حصه هونى چاهیے.[9] ایک عیسایی متکلم اسٹیسن نے وحدت وجود پر اعتراض کرتے هویے لکها هے:

بظاهر مومنین کى وحدت وجود کے بارے میں بدظنى کى تین عمده وجھیں پایی جاسکتى هیں. اول یه که وحدانیت پرستی مشخص خدا کى قایل هے، حالانکه مغربى مفکریں کى نظرمیں وحدت وجود ایک نامشخص مطلق کے قایل هے…

دوسرا یه که: اعتراض کرتے هیں که وحدت وجود کے عقیده کے مطابق، عالم اور جوکچهـ اس میں هے” الوهى” هے، اس صورت میں “شر” اور برایی بھی الوهی هوگى…

اور تیسرا یه که: تمام ادیان میں، خدا کے جلال یا جبروت کا راسخ احساس و اعتقاد پاجاتاهے. اور یه احساس بالکل اسى تصور کے مانند هے که” روڈلف اوٹو” “سر هیبت” کے بارے میں رکھتا هے. انسان خدا کے سامنے کچهـ نهیں هے، یه ایک گناهگار اور اپنے خدا سےایک محجوب وجود هے جو آلایش کی حالت میں اور عفو وبخشش نه پانے کی صورت میں “ظلوم وجهول”کے خطاب کا سزاوار هے ان نا مناسب اوصاف کے پیش نظر کفر محض هے که اپنے خدا سے اتحاد،یعنی یکسانی کا دعوی کیا جایے .خدا اور انسان اور خدا وعالم کے در میان ایک فرق پایا جاتا هے.[10]

اسى طرح معلوم هو جاتاهے که اسلامی یا غیر اسلامی فقها اور متکلمین نے کیوں وحدت وجود کی مخالفت کی هے؟اور واضح هوا که مطلب کی سنگینی اور اس کے واضح نه هو نے اور عر فان کا دعوی کر نے والے بعض جاهلوں کی غلط بیانی اور بعض اذهان کے ان کو قبول کر نےمیں مشکل،اس نظریه کے انکار کے دلایل میں سے هیں .سچ یه هے که اس قسم کے عمیق مطلب کے بارے میں جو آگاهی نهیں رکھتے هیں وه اظهار نظر نه کریں اور جو عرفا کے مراد کا ادراک نهیں کرتے هیں ،ان پر  کفروالحاد کا الزام نهیں لگاییں .اور انصاف کا تقاضا هے که کفر وفسق کا الزام لگانے کے بجایے بے خبری کا اظهار کریں.


مزید  سلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہتقریباً ایک سال قبل مجھے کچھ پیسوں کی اشد ضرورت تھی، اس لیے میں نے ایک شخص کی اجارہ نمازیں پڑھنا قبول کیں اور اس نے اپنے باپ اور بھائی کی نمازیں پڑھانے کے لیے مجھے اجرت دیدی تاکہ میں ان کی قضا نمازیں پڑھوں، ایک سال تک یہ قضا نمازوں کو پڑھنے میں مشغول ہونے کے بعد، میرے زانو میں شدید درد ہونے لگا، میں طبیب کے پاس گیا۔ اس وقت میں ایسے درد سے دوچار ہوا ہوں کہ اپنی واجب نمازیں بھی مسکن دواوں کی مدد سے پڑھتا ہوں۔ اب میں پریشان ہوں کہ کیا کروں۔ اجارہ کی نمازوں کو کیسے بجا لاوں یا باقی اجرت کو کیسے واپس کروں۔۱۔ کیا جائز ہے کہ میت کے وارث کو اطلاع دئے بغیر ، باقی اجارہ نمازوں کو کسی اور شخص کے سپرد کردوں؟۲۔ اگر میں میت کے وارث کو پیسے واپس کرنا چاہوں، تو کیا ایک سال کے دوران اجارہ نمازوں کی اجرت پڑھنے کی وجہ سے وہ مجھ سے زیادہ پیسوں کا مطالبہ کر سکتا ہے؟بہرصورت اگر میں اس باقی بچی اجرت کو واپس نہ کر سکا تو مجھے کیا کرنا چاہئِے؟

[1]  محیی الد ین ابن عربی ،فصوص الحکم،ص١٦٤.

[2]  محیی الدین ابن عربی ،الفتوحات الملکیه فی اسرارالمالکیه والملکیه ،ج١،ص٢٧٢،باب ٥٠ .

[3]  فتوحات مکیه،ج٢،ص٤٥٩.

[4]  شیخ محمود شبستری،گلشن راز.

[5]  محمدغزالی،مشکوه الانوار،ص١٥٠.١٥٢.

[6]  سید یحی ییثربی،فلسفه عرفان،ص١٢٧و١٢٨،دفتر تبلیغات اسلامی حوزه علمیه قم،

٣٤٧ه ش صدرالمتا لهین،الاسفارالاربعه،ج٢،ص٣٢٧تا٣٣٠با تلخیص.

[7]  

[8]  ایضا،ص٣٣٠.

[9]  برٹرنڈرسل،علم و مذهب ،ص١٢٧،نقل ازفلسفه عرفان،ص١٧٣.

[10]  عرفان وفلسفه ،ص٢٥٦،نقل از سید یحیی یثربی،فلسفه عرفان،ص١٧٣.

تبصرے
Loading...