همارا اعتقاد هے که اسلام تحریف سے محفوظ هے اورهم یه بھی اعتقاد رکھتے هیں که عترت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم مفسرقرآن هیں- اس بناپر کیا اس کا یه نتیجه نکل سکتا هے که غیر شیعی اسلام تحریف شده هے؟

0 0

تمام مسلمان قرآن مجید کی عدم تحریف ، اس میں کمی و بیشی واقع نه هو نے اور نبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی حدیث ثقلین پر اتفاق نظر رکھتے هیں- اسی طرح تمام مسلمان ، مذاهب اور ملتوں اور فر قوں کے باهمی اختلافات و تفاوت کے وجود پر بهی متفق هیں- لهذا اس امر میں کسی قسم کا شک وشبهه نهیں هے که سیرت نبوی(ص) کو حاصل کر نے اور حتی که اهل بیت عصمت و طھارت عیهم السلام کی سیرت اور ان کی روایات سے تمسک پیدا کر نے اور قرآن مجید کو سمجھنے میں اختلافات پیدا ھوئے هیں اور هر فرقه نے اپنی ایک راه اختیار کی هے! اسی کامطلب مسلمانوں کا اپنی اصلی راه سے تحریف اور انحراف کر نا هے ، یعنی اس راه سے انحراف جسے قرآن مجید اور رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم نے ان کے سامنے رکھا هے-

لهذادیکھنا چاهئے که حق کو باطل سے اور اصلی کو نقلی سے متمیز کرنے  کا معیار کیا هے؟ یه امر اگر چه ابتداء میں مشکل اور ناقا بل حل نظر آتا هے ، لیکن ناممکن نهیں هے – کیونکه تمام فرقوں میں “قرآن مجید” وحی کے بنیادی اور بے تحریف منبع کے عنوان سے قابل تصدیق و قبول هے اور شیعه وسنی میں موجود احادیث میں بعض احادیث مُتَّفق علیه پائی جاتی هیں جو ایک اور اصلی منبع کی طرف ھماری رهنمائی کرتی هیں – ان میں سے اهم احادیث حسب ذیل هیں:

. حدیث”انذار” (یوم الدار)

. حدیث غدیر

.حدیث ثقلین

. سوره مائده کی آیت ٣ اور ٦٧ کی تفسیر کر نے والی احادیث

. سوره احزاب کی آیت ٣٣ ( آیه تطهیر) کی تفسیر کر نے والی احادیث اور

.سوره مائده کی آیت ٥٥ اور  ٦٥کی تفسیر کر نے والی احادیث –

یه وه احادیث هیں جو شیعه و سنی کے تمام فر قوں کے در میان متفق علیه هیں اور کوئی انصاف پسند انسان ان کے ظواهر سے منه موڑ نے اور ان کی تاریخی اسناد کو جھٹلانے کی جرات نهیں کرسکتا هے – لهذا انصاف کا تقاضا یهی هے که اسلام کے مختلف مذاهب کے در میان قرآن مجید اور قطعی سنت کو حکم قرار دینا چاهئے-

امام صادق علیه السلام فر ماتے هیں:” کسی بھی امر میں دو افراد کے در میان اختلافات پیدا نهیں هوا هے، مگر یه که اس مطلب کے لئے خداوند متعال کی کتاب میں ایک اصل موجود هے جبکه ان کی عقلیں اس اصل تک نهیں پهنچی هیں، (لهذا اختلافات سے دوچار هوئے هیں) [1] مزید فر ماتے هیں :” پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے منی (حجته الوداع) میں خطبه پڑھا اور فر مایا: اے لوگو! جو کچھـ میری طرف سے (حدیث یا سیرت کے طورپر) تمھارے پاس لایا جائے گا اس کا قرآن مجید سے موازنه کرنا، پس اگر قرآن مجید کے موافق هو، تو اسے میں نے کها هے اور جو بات خدا کی کتاب سے اختلاف رکھتی هو وه میں نے نهیں کهی هے,”[2]

اور امام محمد باقر علیه السلام فر ماتے هیں :” جب میں کسی چیز کے بارے میں کسی قسم کا نظریه پیش کروں ، مجھـ سے اس کے بارے میں قرآن مجید سے (استدلال کر نے کا) سوال کرنا-( تاکه میں تمھارے لئے وضاحت کروں که میں نے اس حکم کو قرآن مجید میں کس جگه سے لیا هے)-[3] لهذا ائمه اطهار علیهم السلام کی سیرت میں متعدد ایسے مواقع پائے جاتے هیں که جب انهوں نے اپنے اصحاب کے سامنے قرآن مجید کو سمجھنے کی اپنی روش کی وضاحت فر مائی هے.”[4]

بعض لو گوں نے ان اختلافات کی توجیه کر نے کے لئے اس حدیث نبوی کا سهارا لیا هےکه:” میری امت کا اختلاف رحمت هے-“

عبدالمومن انصاری (رح) کهتے هیں که:میں نے امام صادق علیه السلام سے کها: بعض لوگ رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم سے یه روایت نقل کر تے هیں که آپ(ص) نے فر مایا :” میری امت کا اختلاف رحمت هے-“امام (ع) نے فر مایا “سچ کهتے هیں -” پس میں نے کها: ” اگر ان کا اختلاف رحمت هے تو کیا ان کا اتحاد واتفاق عذاب هے ؟! آپ(ع) نے فر مایا: ایسا نهیں هے جو تو نے تصور کیا هے اور انهوں نے خیال کیا هے ! بیشک رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم نے خدا وند متعال کے قول کا اعاده کیا هے که فر ماتا هے : هر گروه میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے کیوں نهیں نکلتی هے که وه دین کا علم حاصل کریں…-[5]” پس خدا وند متعال نے حکم دیا هے که لوگ رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کی طرف هجرت کریں، سیکھـ لیں ، پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ کر انھیں تعلیم دیں- بیشک پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے (اس حدیث میں ) امت کے مختلف ممالک اور ذاتوں کے لحاظ سے اختلاف کا اراده کیا هے نه که مذهب میں ان کے اختلاف کا ، بیشک دین ایک هے – [6]

اس لئے ،شیعوں نے علی (ع) اور حسنین(ع) کی امامت کو نبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی راه سے اور دوسرے ائمه کی امامت کو پهلے والے امام کے طر یقه سے پهچان کر ان کے سامنے سر تسلیم خم کئے ھیں ڈال دئے هیں اور نصوص نبوی(ص) نے بھی ایک ایک کر کے باره اماموں کے نام معین کر دئے هیں – مثال کے طور پر : جابر بن عبدالله انصاری رحمته الله علیه کهتے هیں: “جب آیه شریفه “اطیعوا الله واطیعوا الرسول واولی الامر منکم”[7] نازل هوئی تو، میں نے رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کی خد مت میں عرض کی : هم نے خدا ور اس کے رسول(ص) کو پهچان لیا ! لیکن اولی الامر ، جن کی اطاعت هم پر واجب هوئی هیں ، کون لوگ هیں؟ ! آنحضرت (ص) نے فر مایا : وه میرے جانشین اور میرے بعد امام هیں ، ان میں سے پهلے علی(ع) هیں اور اس کے بعد بالترتیب : حسن بن علی(ع) ، حسین بن علی (ع) ، علی بن الحسین(ع) ، محمد بن علی (ع) ، جو تورات میں باقر کے لقب سے مشهور هیں اور تم اس کے زمانه کو پھنچو گے – جب ان کو دیکھو گے توهمارا اسلام انھیں پهنچانا- ان کے بعد بالتر تیب : جعفر بن محمد(ع) ، موسی بن جعفر(ع) ، علی بن موسی(ع) ، محمد بن علی(ع) ، علی بن محمد(ع) ، حسن بن علی (ع) اور ان کے بعد ان کے فرزند جن کا نام و کنیت میرے نام و کنیت کے مساوی هے – خدا وند متعال انھیں تمام دنیا پر حاکم قرار دے گا اور وه وهی هیں جو غائب هوں گے اور ان کی غیبت طولانی هو گی- یهاں تک که صرف وه لوگ اپنے عقیده اور ان کی امامت پر باقی رهیں گے جن کا ایمان مستحکم اور آزموده هوگا-“[8]

البته مسلمان ان نصوص اور ناموں کے ذکر پر اکتفا نهیں کرتے تھے ، بلکه پهلے ان کی عصمت، علم غیب اور معجزه کا امتحان کرتے تھے – لهذا جب شیعوں کی امامت کا دعوی کر نے والے میں یه شرائط پائی جاتی تھیں تو ان کے حکم اور ولایت کے سامنے هتھیار ڈال دیتے تھے ، ورنه جستجو و کوشش کو جاری رکھتے تھے پھاں تک که اپنی مراد کو پالیتے اور اس کی اطاعت کر تے تھے ![9] ائمه اطهار علهیم السلام بھی مسلمانوں کو ایک مهر بان باپ کے مانند اپنی محبت کے سایه میں قراررکھه  کر ان کی معنوی اور علمی پیاس کو بجھاتے تھے – یهاں تک که الهی، قرآنی ونبوی(ص)معارف سینه به سینه منتقل هو ئے اور شیعه اثنا عشری کی موجوده نسل تک پهنچ کر حدیث و تفسیر کی کتابوں میں درج، ضبط اور  محفوظ هو ئے- سر انجام مصلح موعود(عج) پرده غیب سے ظهور فر مائیں گےاور اسلام کو غربت سے نکا ل کر اختتلاف وافتراق کو دور کریں گے اور تمام دنیا کو خالص اسلام محمدی(ص) کے پرچم کے نیچے لے آئیں گے-

اس میں کوئی شک وشبهه نهیں هے که پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی حضرت علی علیه السلام کی ولایت اور عترت وقرآن سے ایک ساتھـ تمسک کر نے کی سفارشات و تاکیدات ایک طرف مسلمانوں کے اتحاد واتفاق کے لئے اور دوسری جانب دین کی تفسیر اور بیان میں انحراف اور تحریف کو روکنے کے لئے تھیں، که اس کا فائده خود مسلمانوں کو هدایت ، حقیقی سعادت اور اخروی اجر وثواب ملنے کی صورت میں هے ، ورنه اگر تمام دنیا بھی اهل بیت اطهار علیهم السلام کی  نافر مانی کرے تو، ان کے مقام و منزلت کو خدا کے پاس کوئی نقصان نهیں پهنچ سکتے هیں[10] چنانچه تمام انسانوں کی نافر مانی اور شرک و کفر خدا وند متعال کو بھی کوئی ضررنهیں پهنچا سکتا هے، بلکه خود انسان ضررو نقصان سے دو چار هوتا هے-[11]  مسلمانوں کی فرمانبرداری سے ان کے ثواب میں نه کسی قسم کا اضافه هوتا هے اور نه ان کی نافر مانی سے ان کے ثواب میں کوئی کمی واقع هوتی هے ، کیونکه وه خدا وند متعال کے مخلص بندےهیں ، اور انهوں نے لوگوں کی هدایت کر نے کے لئے اپنی طرف سے تمام تر کوششیں کی هیں اور آخر کار اپنے آرام و آسائش اور عزیز جان تک کو اس راه میں قربان کیا هے اور لوگوں کو تحریفات اور انحرافات سے بچانے میں کسی قسم کی کوتاهی نهیں کی هے اور دین کی حفاظت کر نے میں کم ترین امکانات سے زیاده سے زیاده استفاده کیا هے – پس ان کا معاوضه، اجر وثواب خدا کے پاس هے- ان ھذا لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا-“

منابع و ماخذ:

١- خسرو پناه ، عبدالحسین، کلام جدید،ص٢١٢-١٦١-

٢- سبحانی ، جعفر، آیین وهابیت-

٣- سبحانی، جعفر، شیعه پاسخ می دهد-

٤- شهرستانی ، عبدالکریم، ملل و نحل ،ج١،ص ١٨٨-٢٧-

٥- شیرازی ، سلطان الواعظین، شبهای پیشاور-

٦- صافی، لطف الله، منتخب الاثر-

٧- عاملی ، شیخ حر، وسائل الشیعه-

٨- علامه عسکری ، نقش عاشیه در اسلام –

٩- قرآن کریم وتفاسیر شیعه وسنی ذیل آیات مذکور در پاور قی ها-

١٠- قمی ، شیخ عباس، تتمھ المنتهی –

١١- قمی مشهدی ، محمد بن محمد رضا، کنز الدقائق ، ج٣،ص٣١- ٣٦، ٥٨، ج٤، ص ١٦٦-١٩٦-

١٢- مجلسی، محمد باقر ، بحار الانوار-

١٣- مصباح یزدی، محمد تقی، آموزش عقاید ، ج١ و٢، درس ٣٨- ٤٠-


مزید  کیا وه روایتیں قابل اعتماد هیں، جن میں ائمه اطهار (ع) کے وکلا اور خادمین کو شرپسند متعارف کیا گیا هے؟ اس کے کیا معنی هیں؟

[1] ـ کافی، ج١، کتاب فضل العلم ، ح ٦،ص٧٨-

[2] – کافی ،ج١، کتاب فضل العلم، ح ٥،ص٨٩-

[3] – کافی ،ج١، کتاب فضل العلم ،ح ٥،ص٧٧-

[4] – ملاحظه هو: جوادی آملی ،عبدالله ، تفسیر تسنیم، ج١،ص٦٩-٧٣،وسائل ،ج٥،ص٥٣٨-

[5] – سوره توبه، ١٢٢-

[6] – وسائل ، ج١٨، باب صفات القاضی ، باب،١١،ح١٠، ص١٠٢- ١٠١-

[7] – سوره نساء، ٥٩-

[8] – منتخب الاثر ، ص١٠١، غایه المرام ، ج١٠،ص٢٦٧، اثباه الهداه ، ج٣،ص١٢٣، ینابیع الموده،

٤٩٤-

[9] – ملاحظه هو: عنوان: امامت در سن طفو لیت ، سوال ٢٨٥-

[10] -سبا، ٤٧،شوری، ٢٣، هود، ٥١-

[11] – آل عمران ، ١٧٦- ١٧٩ و١٤٤، محمد ، ٣٢- ٣٤ ، نساء ،١٣١-١٣٣-

تبصرے
Loading...