نماز عصر اور ابتدائی وقت کب ھے؟

0 0

یومیھ نمازوں کیلئے تین اوقات اس طرح ھیں:

۱۔ مخصوص وقت: جس میں دوسری نماز کسی بھی صورت میں نھیں پڑھی جا سکتی ھے۔

۲۔ مشترک وقت : جو دو نمازوں ظھر و عصر، یا مغرب اور عشاء کا مشترک وقت ھے اور اس وقت میں ھم دونوں نمازوں کو ترتیب کے ساتھه پڑھه سکتے ھیں۔

فضیلت کا وقت : اگر اس میں نماز پڑھی جائے تو اُس کا ثواب زیاده ھے۔

اس مقدمھ کو مد نظر رکھه کر نماز عضر کے اول وقت کے بارے میں کھا جاسکتا ھے:

کلی طورپر نماز ظھر اور عصر کے پڑھنے کا وقت اذان ظھر سے لیکر سورج کے غروب ھونے تک ھے ۔ جس کی ابتدا میں نماز ظھر کی مقدار کا وقت ، ظھر کی نماز کا مخصوص وقت ھے ، اور اگر نماز عصر اس وقت میں پڑھی جائے تو نماز باطل ھوگی۔[1] اور آخری وقت میں جس مقدار میں نماز عصر پڑھنے کا وقت ھو ، وه نماز عصر کا مخصوص وقت ھے[2] ، اور ان دو اوقات کے مابین ظھر اور عضر کا مشترک وقت ھے، جس میں دونوں نمازیں ادا کی جاسکتی ھیں لیکن نماز ظھر کو نماز عصر سے پھلے ( یعنی ترتیب سے ) پڑھنا ضروری ھے۔[3]

نماز عصر کی فضیلت کا وقت نماز ظھر کے مخصوص وقت کے فورا بعد ھے[4] یعنی شرعی اعتبار سے جب شاخص [5]کا سایھ اس کی لمبائی سے دوگنا ھوجائے۔ پس عصر کی نماز کا اول  وقت سے وھی فضیلت کا اول وقت مراد ھے۔



[1]  البتھ اگر نماز کے درمیان وه سمجھه لے کھ اس نے غلطی کی ھے ، اسے چاھئے کھ نماز ظھر کی نیت کرے اور نماز کو ختم کرے اور اسے کے بعد نماز عصر پڑھے، لیکن احتیاط یھ ھے کھ نماز عصر کو دوباره پڑھےاور یھ احتیاط بھت بھتر ھے ، توضیح المسائل ( المحشی للامام الخمینی ) ج ۱ ص ۴۰۵۔

[2] لھذا اگر کسی نے نماز عصر کے مخصوص وقت میں نماز ظھر کو نھیں پڑھا ھوگا اس کی نماز ظھر قضا ھوڑی ھے اور اس مخصوص وقت میں نماز عصر کو پڑھنا چاھئے اور اس کے بعد نماز ظھر کو قضا پڑے ( توضیح المسائل امام خمینی ، مسئلھ نمبر ۷۳۱۔

[3] تحریر الوسیلۃ ، ج ۱ کتاب الصلاۃ ، المقمدۃ الاولی ، مسائل ۶۔۷، ۸ ص ۱۱۲، توضیح المسائل ، امام خمینی (رح) مسئلھ ۷۳۱۔

[4]  امام خمینی تحریر الوسیلھ میں ، اگر چھ ابتدا میں کھتے ھیں کھ علی الاظھر نماز عصر کی فضیلت کا وقت وه ھے جب شاخص کا سایھ چار ھفتم تک پھنچ جائے ، لیکن آخر میں فرماتے ھیں کھ بعد نھیں ھے کھ عصر کا اول وقت نماز ظھر کی مقدار کو ادا کرنے کے بعد ھوگا۔ (تحریر الوسیلۃ ، ج ۱ ص ۱۱۲، مسئلھ ۶)

[5]   شاخص : لکڑی یا اس کے مانند کو کھتے ھیں جسے زمین میں گاڑا جاتا ھے۔   جس سے زوال کا اول وقت اور نماز ظھر کا وقت جاننے کیلئے استعمال کیا جاتا ھے۔ اگر لکڑی کو زمین کی سظح پر عمودی گاڑا جانے جب اس کا سایھ ختم ھوجائے اور دوسری جانب سایھ بڑھنے لگے تو وه سورج کے زوال کا وقت ھے اور نماز ظھر کا اول وقت ھے ، ظھر کی نماز کی فضیلت کے وقت کے بارے میں کھا جاتا ھے نماز ظھر کی فضیلت کا وقت اول ظھر سے لیکر اس وقت تک ھے جب شاخص کا سایھ ، شاخص کے برابر ھوجائے۔ ( تحریر الوسیلۃ ، ج ۱ ، کتاب الصلاۃ ، مقدمات الصلاۃ ، المقدمۃ الاولی، مسئلھ ۶، عروۃ الوثقی ، مع تعالیق الامام الخمینی ، س ۲۷۳، و ۲۷۲ ، آموزش فقھ ، محمد حسین فلاح زاده ، ص ۱۲۵، ۱۲۶)

مزید  کیاسرمہ لگے ہونے کی صورت میں وضو یا غسل کیا جا سکتا ہے ؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.