نماز جماعت میں صفوں کو کیسے تشکیل دیا جاسکتا هے؟ کیا نماز کے دوران حرکت کر نا، نماز کو باطل کر نے کا سبب بن سکتا هے؟

0 0

جو مسئله آپ کو پیش آیا هے( نماز جماعت کی صف تشکیل دینا) اس کے بارے میں فقه کی کتابوں میں حسب ذیل بیان هواهے :

١- ماموم کو امام سے آگے کھڑا نهیں هو نا چاهئے-[1]

٢- اگر ماموم ایک مرد هو تو مستحب هے امام کے دائیں جانب [2] اور احتیاط واجب کی بناپر امام سے تھوڑا پیچھے کھڑا هو جائے اور اگر کئی افراد هوں تو امام کے پیچھے کھڑے هو جائیں- [3]

لهذا بظاهے اس قضیه میں پهلے اور دوسرے ماموم میں سے هر ایک نے اپنے فریضه پر عمل کیا هے-

لیکن اس سوال کے جواب میں که کیا دوسرے ماموم کا عمل جو پهلے ماموم کی حرکت کا موجب بناهے ، نماز کو باطل کر نے کا سبب بنا هے یا نهیں کهنا چاهئے: جو کام نماز کی حالت کو بگاڑ سکتا هے اور اسے باطل کر سکتا هے تالی بجانے اور اچھل کود کے مانند —[4]

مرحوم سید محمد کاظم طباطبائی یزدی فر ماتے هیں[5] : نماز کی حالت میں قدم بڑھانا قبله رو [6]هو ، تو دو تین قدم یا اس سے قدرے زیاده بھی مضر نهیں هے ، چونکه اس مقدار میں راه چلنا فعل کثیر شمار نهیں هو تا هے – باوجودیکه معیار کثرت نهیں هے بلکه نمازکی صورت کا بگڑ جانا هے اور اس قدر چلنے سے ، بلکه اس سے زیاده چلنے سے بھی نماز کی حالت نهیں بگڑ تی هے ، پھر بھی ، جمله روایات اس کے جائز هو نے کی دلالت کرتی هیں-[7]

پس نماز جماعت میں ، ، نماز کی صف کو مرتب کر نے کے لئے یا دوسرے شخص کو کھڑا هو نے کے لئے جگه چھوڑ نے کے لئے حر کت کر نا حرج نهیں هے-

ذیل میں مراجع تقلید کے دفاتر کے تحریری جواب ملاحظ هوں:

آیت الله العظمی ناصر مارم شیرازی (مدظله العالی) کے دفتر کا جواب : اصل میں یه کام مشکل نهیں هے بشرطیکه قدرے پیچھےهٹنے کے وقت امام ذکر میں مشغول نه هو-

آیت الله العظمی بهجت( مدظله العالی) کے دفتر کا جواب :

بظاهر امام کے برابر کھڑا هو جا نا جائز هے اگر چه امام کا تھوڑا سا آگے هو نا مستحب اور افضل هے-

آیت الله العظمی فاضل لنکرانی  (رح) کے دفتر کا جواب :

مذکوره صورت میں اقتداء کر نا صحیح اور اگر ماموم ایک شخص هو تو اسی صورت میں هو نا مستحب هے- اگر کئی افراد هوں تو امام کے پیچھے کھڑے هو جائیں-


مزید  اگر نماز دین کا ستون هے تو کیوں فروع دین میں شمار هوتى هے؟

[1] – بعض فقها نے ماموم کے امام کے برابر کھڑے هو نے کو بھی منع کیا هے – ملاحظه هو مراجع عظام کی توضیح المسائل ج١، ص٧٨١و ٧٨٢، مسئله١٤٣٢-

[2] – بعض فقها نے اس استحصاب کی اپنے رسالوں میں تاکید کی هے ، ایضاً ملاحظه هو: مذکوره حواله نمبرا

[3] – ملاحظه هو مذکوره حواله ، الوسیله الی نیل الفضیله ،ص١٠٧،جامع عباسی اور اس کا تکمله (محشی) ج١،ص٩٦-

[4] – ملاحظه هو ایضاً ،ص٦٢٨، مسئله ١١٥١-

[5] – سید محمد کاظم طباطبائی یزدی، سوال و جواب،ص٤٧(نرم افزارجامع العضه)

[6] – قبله رو هو نا-

[7]– وسا ئل الشیعه ، ج٤ ،ص ١٢٧٩، روایت ١ وج ٥ ،ص٤٤٣، باب ٤٣، ابواب صلاه الجماعه: من لا یحضر،ج١، ص٢٧٧،روایت٨٥١وج١،ص٤٩٤،روایت١٤٢١: الکافی ، ج٣، ص٣١٦و٣٨٥وص٢٧٢: تهذیب الاحکام، ج٣،ص٣٧٥،روایت ١١٩-

تبصرے
Loading...