میرے لئے امام موسی کاظم (ع) کی زندگی ، ان کے فرزندوں اور نواسوں کے بارے میں ایک خلاصه بیان کیجئے-

0 0

حضرت امام موسی کاظم علیه السلام اور ان کے فرزندوں کی زندگی کی تفصیلات بیان کرنے کے لئے کئی جلد کتابیں تالیف کرنے کی ضرورت هے- حضرت امام موسی کاظم علیه السلام کے بارے میں بهت ساری کتابیں تالیف کی گئ هیں- موسوی سادات کے بارے میں سید حسین ابو سعیده موسوی کی تالیف کی گئی تین جلدوں پر مشتمل کتاب ” مشجر الوافی” کا مطالعه کرنا آپ کے لئے مفید هے[1]– یهاں پر هم آپ کے سوال سے مربوط موضوع کے بارے میں ایک خلاصه بیان کرتے هِیں:

امام موسی کاظم (ع) کا اسم مبارک، القاب اور شجره نسب:

حضرت(ع) کا اسم مبارک،موسی بن جعفربن محمد باقر بن علی (زین العابدین) بن حسین بن علی بن ابیطالب (ع) هے[2]– امام موسی کاظم علیه السلام، اتوار ۷،صفر سنه ۱۲۸ هجری کو مکه اور مدینه کے درمیان “ابوا” کے مقام پر پیدا هوئے هیں اور مشهور قول کے مطابق آپ (ع) کو سنه ۱۸۳ھ یا ۱۸۱ یا ۱۸۶ یا ۱۸۸ هجری میں هارون رشید کے زندان میں زهر دے کر شهید کیا گیا اور بغداد کے مغرب میں، “مقابر قریش” نامی قبرستان میں سپردخاک کے گئے- البته اس وقت اس جگه کا نام شهر کاظمین هے-

شیخ مفید فرماتے هیں: ” ماضی میں یه مقبره بنی هاشم اور قبیلوں کے سرداروں کا قبرستان تھا-“

امام موسی کاظم علیه السلام کی والده حمیده اندلسی تھیں- کتاب اعلام الوریٰ میں نقل کیا گیا هے که حضرت کی والده گرامی حمیده بربریه یا حمیده مصفاه تھیں- لیکن کتاب مناقب میں حمیده مصفاه بنت صاعد بربری، جس کی کنیت “لو لو” تھی، کو حضرت موسی بن جعفر علیه السلام کی والده بتایا گیا هے[3]

حضرت کے القاب: عبد صالح،کاظم،صابر اور امین هیں-

شیخ مفید کهتے هیں: “ابو ابراھیم،ابوالحسن اور ابو علی، حضرت کی کنیتیں هیں- بعض نے حضرت کی کنیتیں ، ابوالحسن اول،ابوالحسن ثانی، ابو ابراھیم، ابوعلی اور ابو اسماعیل بیان کی هیں[4]

حضرت امام موسی بن جعفر علیه السلام کے زمانه کے معروف ترین شاعر سید حمیری هیں، جو حضرت (ع) کے پیرووں میں سے تھے[5]

حضرت موسی بن جعفر(ع) کی امامت:

شیعه اثنا عشری کے هاں مشهور هے که هر امام کو تشخیص دینے اور اسکی امامت کو ثابت کرنے کے طریقوں میں سے ایک، گزشته امام کے توسط سے اگلے امام کو پهچنوانا اور اسکے علاوه ان سوالات اور امتحانات سے گزرنا هے جو عام انسانوں کی قدرت سے خارج هوتے هیں- خوش قسمتی سے حضرت موسی بن جعفر علیه السلام کی امامت کے بارے میں کافی نصوص و روایتیں موجود هیں جن سے ان کی امامت ثابت هوتی هے-

ابن صباغ مالکی کهتے هیں: “عبدالاعلیٰ،فیض بن مختار سے نقل کرتا هے که میں نے حضرت امام صادق (ع) کی خدمت میں عرض کی: میری دستگیری فرما کر مجھے جهنم کی آگ سے نجات دیجئے اور مهربانی کر کے فرمائے که آپ کے بعد کون امام هیں؟ اسی اثنا میں موسی بن جعفر علیه السلام داخل هوئے، وه ابھی نوجوان تھے- امام صادق علیه السلام نے فرمایا: یه (حضرت موسی بن جعفر (ع) کی طرف اشاره کرتے هوئے) تمھارے امام هیں، ان کی اطاعت کرنا[6]-“

اس سلسه میں شیخ مفید کهتے هیں: ” موسی بن جعفر (ع) ان کے والد گرامی کے بعد امام هیں اور حضرت امام صادق علیه السلام کے تمام فرزندوں پر فضیلت رکھتے هیں، کیونکه:

۱-ان میں تمام خوبیاں اور فضائل پائے جاتے هیں-

۲-ان کے بارے میں صحیح اور قابل اعتبار نصوص واضع طور پر نقل کئے گئے هیں-

۳-ان کے پدر بزرگوار نے واضح طور پر فرمایا هے که : وه میرے بعد میرے ولیعهد اور امام هیں[7]-“

حضرت موسی بن جعفر(ع) کے زمانه کے خلفاء:

حضرت موسی بن جعفر علیه السلام کی امامت کا زمانه بنی عباسیوں کی خلافت کے استحکام کے همرمان تھا- امام موسی کاظم علیه السلام کو اس وقت امامت ملی، جب ظالم اور جابر ترین حکام، حکومت کی گدّی پر تھے- ان کی حکومت مستحکم هو چکی تھی داخلی طور پر ملک میں امن و امان برقرار تھا اور کسی قسم کی مخالفت اور کشمکش کا وجود نهیں تھا- یه استحکام اور امن و امان حکام کے لئے اپنے دشمنوں پر تسلط پیدا کرنے کا سبب بنا اور انهوں نے آسانی کے ساتھ اپنے مخالفوں پر کنٹرول حاصل کیا اور ان کی حرکات و سکنات کو تحت نظر رکھا-

حضرت امام موسی کاظم علیه السلام کے زمانه کے ظالم و جابر عباسی سلاطین و حکام حسب ذیل تھے:

۱-منصور دوانقی: وه اپنے بھائی ابو عباس سفاح کے بعد عباسی حکومت کا دوسرا حاکم تھا- وه بخل اور حسد میں مشهور تھا اور اسی وجه سے اسے دوانقی کا لقب دیا گیا تھا- خیانت،خباثت،وعده خلافی اور بے وفائی اس کی دوسری واضح خصوصیات تھیں-

۲-مهدی عباسی:  بنی عباسی حکومت کے اس خلیفه کی مشهور ترین خصوصیات لهو لعب اور فسق و فجور کی طرف حد سے زیاده رحجان تھا- اس قسم کے مسائل کی طرف اسکی شدید دلچسپی کے نتیجه میں اس کا بیٹا ابراھیم بغداد کے گائک کلاکاروں کا رئیس بنا اور اس کی بیٹی علیّه بغداد کی مشهور ملکه ترنم اور رقاصه بنی-

مهدی عباسی کی اس قسم کی اخلاقی برائیاں اس قدر مشهور تھیں که معروف شاعر عرب دعبل خزاعی نے اپنے ایک شعر میں عباسیوں اور علویوں کے درمیان یوں موازنه کیا هے:

علیّه تم لوگوں میں سے تھی یا بنی هاشم سے؟ گانا بجانے والوں کا سردار ابراھیم تم لوگوں میں سے تھا یا ان میں سے[8]؟

۳-هادی عباسی: وه ۲۵ سال کی عمر میں حاکم بن گیا جبکه وه اهل بیت علیهم السلام کا شدید مخالف اور دشمن تھا اور ایک شر پسند حاکم تھا- وه ایک مغرور،متکبر، بے تجربه اور جوان حاکم تھا- اس کی حکومت کا دور اهل بیت (ع) اور شیعوں کے لئے انتهائی سخت دور تھا-

مشهور تاریخ دان،مسعودی اپنی کتاب “مروج الزهب” میں هادی عباسی کے بارے میں کهتا هے: ۔ ۔ ۔ ۔ وه سنگ دل،بداخلاق اور بدمزاج تھا- هادی عباسی کے زمانے میں بنی هاشم اور علویوں کی قیادت میں تحریکیں اور بغاوتیں شروع هوئیں- حسین بن علی کی رهبری میں واقعه “فخ” اس زمانه کی مشهور بغاوتوں میں سے ایک هے- اس تحریک کو امام موسی کاظم علیه السلام کی تائید حاصل تھی- امام (ع) نے اس تحریک کے قائد (حسین بن علی) کو شهادت کی بشارت دی تھی اور انهیں اپنی قوت بڑھانے اور مقاومت و صبر کی نصیحت کی تھی-

امام نے ان (حسین بن علی) سے مخاطب هو کر فرمایا: ” تم قتل کئے جاوَ گے، اچھی طرح سے لڑنا، تمهارے مقابلے میں قرار پائی فوج اور قوم’ فاسق هیں۔ ۔ ۔” واضح هے که امام(ع) کی ان کی تحریک کے بارے میں یه پالیسی، اس کے جائز هونے کی تائید هے-

(ع)-هارون رشید: وه ذخیره اندوزی،فضول خرچی،حرم سرا رکھنے اور گانا گانے والی عورتوں اور رقاصوں کی طرف رحجان رکھنے میں مشهور تھا- وه ائمه اطهار(ع) اور سادات بنی هاشم سے سخت دشمنی رکھتا تھا اور انهیں نابود کرنے میں کوئی کسر باقی نهیں رکھتا تھا- حضرت امام موسی کاظم علیه السلام کو بار بار زندان میں ڈالنا اور آخر کار سندی بن شاھک کے هاتھوں انهیں زهر دلا کر شهید کرانا اسکی دشمنی کا ایک نمونه هے[9]

هارون رشید کے مقابل میں امام(ع) کی پالیسی:

هارون رشید زور زبردستی،ظلم و جبر، سنگدلی،دشمنی، خاص کر علویوں کے ساتھ دشمنی برتنے میں مشهور تھا، لیکن اس کے باوجاد هم تاریخ میں پاتے هیں که امام موسی کاظم علیه السلام هارون رشید کے لئے کسی قسم کی اهمیت کے قائل نهیں تھے اور اس سے کسی صورت میں نهیں ڈرتے تھے اور هارون کے سامنے انتهائی عزت و شجاعت کا مظاهره کرتے تھے اور اپنا فریضه نبھانےمیں کسی قسم کی پسپائی اور کمزوری نهیں دکھاتے تھے- اس حقیقت کی تاریخ گواهی دیتی هے- یهاں پر هم اس سلسله میں هارون رشید کے ساتھ امام(ع) کی مڑبھیڑ کے چند نمونے پیش کرتے هیں:

هارون رشید کا پیغمبر( ص) سے رشته جوڑنا:

خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں نقل کرتے هیں: ” هارون رشید اپنے سفر حج کے دوران زیارت کے لئے قبر رسول(ص)  پر حاضر هوا، جبکه وهاں پر قریش جمع تھے- امام موسی کاظم(ع) بھی وهاں پر موجود تھے- جب هارون رسول الله (ص)  کی قبر کے نزدیک پهنچا، تو اس نے کها: سلام هو آپ پر اے رسول خدا اور میرے چچازاد بھائی۔

اس کا “چچازاد بھائی” کهنا اس لئے تھا تاکه اس رشته کا اظهار کر کے دوسروں کو فخر دکھائے- اسی دوران موسی بن جعفر(ع) آگے بڑھے اور رسول خدا (ص) سے خطاب کر کے فرمایا: ” سلام هو آپ پر میرے باپ-” یه جمله سن کر هارون رشید کے چهرے کا رنگ بدل گیا اور کها: اے ابوالحسن حقیقی اور واقعی فخرو مباهات یهی هے-[10]

۲-امام(ع) کے توسط سے “فدک” کی حدبندی

زمخشری کهتے هیں: ” هارون رشید نے امام موسی بن جعفر(ع) سے عرض کی: اے ابوالحسن: آپ فدک کی سرحد معین فرمائیے تاکه هم اسے آپ کو واپس لوٹا دیں- حضرت(ع) نے اس کام سے انکار کیا، یهاں تک هارون نے اصرار کیا، تو امام(ع) نے فرمایا: “اگر میں اسکی حقیقی سرحدیں مشخص کروں تو تم اسے واپس نهیں کرو گے: هارون نے کها: اس کی حدود کهاں تک هیں؟ حقیقت اور سنجیدگی کے ساتھ اس کو مشخص کیجئے- لهٰزا امام(ع) نے فرمایا: اس کی پهلی سرحد عدن تک هے- یه سن کر هارون کے چهرے کا رنگ بدل گیا اور اس نے کها: اپنے بیان کو جاری رکھئے- امام(ع) نے فرمایا: اس کی دوسری سرحد سمرقند هے- یه سن کر هارون کا چهره تاریک هو گیا- امام(ع) نے فرمایا: اس کی تیسری سرحد افریقه هے، یه سن کر هارون کا رنگ سیاه هو گیا- اس نے کها جاری رکھئے- امام(ع) نے فرمایا اس کی چوتھی سرحد خزر اور ارمنستان تک پھیلی هوئی هے- یهاں پر هارون نے کها: آئیے اور میری جگه پر بیٹھئے: اس طرح تو همارے لئے کوئی چیز باقی نهیں رهتی هے- امام(ع) نے فرمایا: میں نے تو تم سے کها تھا که اگر “فدک” کی سرحدیں معین کروں گا تو تم اسے همیں واپس نهیں لوٹا دو گے[11]– اسی بنا پر هارون نے امام(ع) کو قتل کرنے کا فیصله کیا-

رسول(ص) سے رشته کا ثبوت:

نقل کیا گیا هے که ایک دن امام موسی کاظم علیه السلام سے پوچھا گیا: آپ کیسے کهتے هیں که آپ رسول خدا(ص) کے فرزند هیں ، جبکه آپ حقیقت میں علی(ع) کے فرزند هیں؟ بیشک مرد باپ کی طرف سے یا دادا کی طرف سے منسوب هوتا هے نه ماں کی طرف سے-

امام(ع) نے جواب میں قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرمائی: ” اور هم نے ابراھیم(ع) کو اسحاق و یعقوب دئے اور سب کو هدایت بھی دی اور اس کے پهلے نوح(ع) کو هدایت دی اور پھر ابراھیم(ع) کی اولاد میں داود(ع) ، سلیمان(ع)، ایوب(ع)، یوسف(ع)، موسیٰ(ع) اور هارون(ع) قرار دئے اور هم اس طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے هیں- اور ذکریا(ع)،عیسیٰ(ع) اور الیاس(ع) کو بھی رکھا جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے[12]-” جبکه عیسیٰ(ع) کا کوئی باپ نهیں تھا- بیشک وه ماں کی طرف سے انبیاء کی طرف منسوب هوئے هیں- اسی طرح هم بھی اپنی ماں حضرت فاطمه زهراء(س)  کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) کی اولاد شمار هوتے هیں-

اس کے علاوه خداوند متعال نے فرمایا هے: پیغمبر! علم آنے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کهدیجئے که آو هم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بُلائیں اور پھر خدا کی بارگاه میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں[13]-“

پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے مباهله کے دوران علی(ع)،فاطمه(ع) اور حسن(ع) و حسین(ع) کے علاوه کسی کو دعوت نهیں دی هے، لهٰزه ثابت هوتا هے که حسنین(ع) پیغمبر(ص) کے فرزند هیں[14]

امام موسی بن جعفر(ع) کا علم و اخلاق

حضرت امام موسی کاظم علیه السلام کے مختلف علوم اور اخلاقی فضائل کے بارے میں وسیع علم رکھنے کے سلسله میں متعد روایتیں نقل هوئی هیں- یه کیسے ممکن هے که حضرت(ع) مختلف علوم اور کمال و فضائل کے مالک نه هوں جبکه آپ(ع) نے نبی (ص) کے گھر، معدن رسالت اور ملائکه کی آمدورفت کی جگه پر تربیت پائی هو-

اس سلسله میں کافی روایتیں نقل کی گئی هیں، جن میں سے هم یهاں پر صرف تین روایتوں کی طرف اشاره کرنے پر اکتفا کرتے هیں:

۱-ابو حنیفه کهتے هیں: ” میں امام صادق(ع) کے زمانه میں حج پر چلا گیا تھا، جب میں مدینه میں داخل هوا، امام صادق(ع) کے گھر گیا- میں حضرت(ع) کے گھر کے دروازه پر کھڑا رها تاکه حضرت(ع) مجھے گھر میں داخل هونے کی اجازت دیدیں، اس وقت ایک چھوٹا بچه گھر سے باهر نکلا، میں نے اس بچے سے پوچھا که بیت الخلاء کهاں هے؟ اس نے جواب میں کها: صبر کیجئے، اس کے بعد دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور کها: ” ندی کے کنارے، میوه دار درخت کے نیچے، مسجد کے صحن میں اور راسته پر پیشاب اور قضائے حاجت کرنے سے پرهیز کرنا چاهئے- دیوار کے پیچھے جائیے اور قبله کی طرف رخ اور پشت کر کے بیٹھنے سے پرهیز کرنا- ۔ ۔ ۔”

ابو حنیفه کهتے هیں : ” میں اس بچے سے یه کلام سن کر حیرت میں پڑ گیا- میں نے اس بچه سے پوچھا: تیرا نام کیا هے؟ اس نے جواب میں کها که میں موسی بن جعفر هوں- میں نے ان سے پوچھا: اے جوان ؛ گناه و معصیت کیا هے؟

انهوں نے جواب میں کها: ” گناه اور معصیت کے لئے تین حالتیں قابل تصّور هیں:

۱-یه که گناه خدا کی طرف سے هو، نه بنده کی طرف سے- اس صورت میں سزاوار نهیں هے که خداوند متعال اپنے بنده کو اس چیز کے لئے عزاب کرے

جس کا وه مرتکب نهیں هوا هے-

۲-یه که گناه خدا اور بنده کی طرف سے مشترکاً انجام پائے- اس صورت میں بھی سزاوار نهیں هے که قوی تر شریک کمزور شریک پر ظلم کرے-

۳۔ یه که گناه بنده کی طرف سے هو، اور یه صحیح هے- اس صورت میں اگر خداوند متعال اپنے بنده کو بخش دے، تو اس کا جود و کرم هے اور اگر اسے سزا دے تو وه بنده کے گناه اور نافرمانی کی وجه سے هے-

ابو حنیفه کهتے هیں: ” اس بچه (موسی بن جعفر) کی زبانی یه کلام سننے کے بعد میں نے اپنا جواب پا لیا اور امام جعفر صادق(ع) سے ملاقات کرنے سے منصرف هو گیا-

ابن شهر آشوب نے اپنی کتاب ” مناقب ” میں حدیث کے آخری حصه کو یوں نقل کیا هے: “جب میں نے ان (موسی بن جعفر) سے یه کلام سنا تو میرے دل میں ان کی عظمت بڑھ گئ اور مجھے اطمینان حاصل هوا اور میں نے اس آیت کی تلاوت کی: ” ذریۃ بعضھا من بعض[15]

علما نے مختلف علوم و فنون کے بارے میں ان سے متعد روایتیں نقل کی هیں که هماری دینی کتابیں ان علوم سے بھری پڑی هیں[16]

۲-ابوالفرج اصفهانی کهتے هیں: “یحییٰ بن حسن نے میرے لئے نقل کیا که: موسی بن جعفر(ع) کا طریقه کار یه تھا که اگر انھیں یه خبر ملتی که کوئی شخص ان کے ساتھ اچھا نهیں هے اور ان کے پیچھے امام کے حق میں برا بھلا کهتا هے تو، آپ اس شخص کے لئے دینار سے بھری ایک تھیلی بھیجتے تھے جس میں دو سو سے تین سو تک دینار هوتے تھے- حضرت(ع) کا یه کام ضرب المثل بن گیا تھا-“

ابو الفرج اصفهانی مزید کهتے هیں: ” دوسرے خلیفه کے نواسوں میں ایک شخص موسی بن جعفر(ع) کو دیکھتے هی حضرت علی(ع) کے نام دشنام دیتا تھا اور موسی بن جعفر(ع) کے ساتھ برا سلوک کرتا تھا- بعض شیعوں نے حضرت(ع) سے کها که انهیں اجازت دیں تاکه اس شخص کو قتل کر ڈالیں، لیکن امام(ع) نے فرمایا: نهیں- ایک دن حضرت(ع) مرکب پر سوار تھے اور اس شخص کے کھیت میں داخل هوئے، اس شخص نے پکارتے هوئے کها که: آپ نے هماری زراعت اور فصل کو نابود کر کے رکھ دیا هے- حضرت(ع) اس کی باتوں کی طرف کوئی توجه نه کرتے هوئے آگے بڑھے اور یهاں تک که اس شخص کے نزدیک پهنچے، مرکب سے نیچے اترے، اس کے پاس بیٹھ گئے اور اس کے ساتھ گفتگو اور شوخی مزاق کرتے هوئے کها: آپ کی فصل کا خساره اور معاوضه کتنا هے؟ اس نے جواب میں کها: سو درهم- امام(ع) نے فرمایا: اس کا منافع کتنا هے؟ اس نے کها مجھے کچھ معلوم نهیں هے- حضرت(ع) نے فرمایا: میں نے پوچھا که کتنا اندازه لگا سکتے هو؟ اس نے کها: سو درهم- امام(ع) نے تین سو درهم اسے دیدئے- اس کے بعد وه شخص اپنی جگه سے اٹھا اور حضرت(ع) کے سر مبارک کا بوسه لیا- اس کے بعد جب بھی امام(ع) مسجد میں داخل هوتے تھے، وه شخص اپنی جگه سے اٹھ کر حضرت(ع) کو سلام کرتا تھا اور کهتا تھا: الله اعلم حیث یعجل رسالۃ-( یعنی خداوند متعال بهتر جانتا هے که وه اپنی رسالت کسے سونپے) اور حضرت(ع) کا احترام و تعظیم کرتا تھا- جو شیعه اس شخص کو قتل کرنا چاهتے تھے، امام(ع) نے ان کی طرف مخاطب هو کر فرمایا: ان دو کاموں میں سے کونسا کام بهتر تھا، جو کام تم لوگ چا هتے تھے یا جسے میں نے انجام دیا[17]؟!

۳۔ مستحب عبادتیں انجام دینے اور نماز شب بجا لانے میں امام موسی بن جعفر علیه السلام کا طریقه کار یه تھا که وه اپنی نافله شب کو صبح کی نماز سے متصل کرتے تھے- فجر کی نماز کے بعد سورج چڑھنے تک تعقیبات، سجده و دعا میں مشغول رهتے تھے- سورج چڑھتے وقت حضرت(ع) اکثر اس دعا کو پڑھتے تھے: “اللّھم انی اسالک الراحته عند الموت والعفو عندالحساب-” آپ(ع) کی ایک دعا یه تھی “عظم الزنب من عبدک فلیحسن العفو من عندک”

خوف خدا میں اس قدر روتے تھے که آپ(ع) کا ریش مبارک تر هوتا تھا-

امام موسی بن جعفر(ع) صله رحم کو انجام دینے میں ممتاز تھے- رات کے اندھیرے میں مدینه کے فقراء اور محتاجوں کے پاس جاتے تھے اور ان کے لئے پیسے، روٹی اور خرما لے جاتے تھے، اور لوگوں کو پته نهیں چلتا تھا که یه پیسے اور کھانا موسی بن جعفر(ع) کی طرف سے ملتا هے[18]

امام موسی کاظم(ع) کے فرزند اور نواسے:

جیسا که هم نے اس تحریر کی ابتداء میں بیان کیا که امام موسی بن جعفر علیه السلام اور ان کے فرزندوں کے بارے میں کئ جلدوں پر مشتمل کتاب تالیف کرنے کی ضرورت هے، لیکن یهاں پر هم صرف ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کے نام بیان کرنے پر اکتفا کرتے هیں اور اس کے علاوه معلومات حاصل کرنے کے لئے انساب کی کتابوں کا مطالعه کرنے کی تجویز پیش کرتے هیں-

کتاب “مشجرالوافی” کے مولف، اس سلسله میں تمام اقوال اور ان کے بارے میں تحقیق و تجزیه پیش کرنے کے بعد یوں کهتے هیں:

الف: امام موسی بن جعفر(ع) کے بیٹوں کے نام:

امام موسی کاظم علیه السلام کے ۲۳ بیٹے تھز[19]– پهلے هم ان کے نام بیان کریں گے اور اس کے بعد یه بیان کریں گے که ان میں سے کن بیٹوں کی نسل آگے بڑھی هے-

ان کے نام حسب ذیل هیں:

ابراھیم اصغر مرتضیٰ وه “مجاب” کے نام سے بھی مشهور هیں، محمد عابد، عبدالله،عباس، اسماعیل، جعفر خواری (ابن شرقم اپنے تحفه میں کهتے هیں: امام کا جعفر اکبر نام سے ایک بیٹا تھا) ، اسحاق، حمزه، عبد الرحمٰن، عقیل، قاسم، یحیٰی، داوود، سلیمان ، احمد، فضل، حسن، حسین، زید نار، عبیدالله، ابراھیم اکبر، هارون اور عمر (ابن شرقم کی کتاب ” تحفه” میں نقل کے مطابق)

امام کی بیٹیاں:

امام موسی بن جعفر(ع) کی بیٹیوں کے نام حسب ذیل هیں:

فاطمه کبریٰ، فاطمه صغریٰ، رقیه، حکیمه، ام ابیها، رقیه صغریٰ، کلثوم، ام جعفر، لبابه، زینب، خدیجه، علیه، آمنه، حسنه، بربهه، ام سلمه، میمونه، ام کلثوم-

بعض لوگوں نے مزید کئی ناموں کا اضافه کیا هے[20]، لیکن هم خلاصه کے پیش نظر ان کو بیان کرنے سے صرف نظر کرتے هیں-


مزید  دوسرے سیاروں پر زندگی گزارنے کا کیا حکم ھے؟

[1] المشجر الوافی،سید حسین ابو سعیدة الموسوی، دار المحجة البیضاء.

[2] وفی رحاب ائمة اهل البیت (ع) سید محسن امین، ص 80.

[3] ایضاً.

[4] ملاخطه هو: ارشاد، شیخ مفید؛ مناقب، ابن شهر آشوب؛ مطالب السؤول، ابن طلحة.

[5] ایضاً

[6] الفصول المهمّة، ص 231.

[7] ملاخطه هو: کافی، ج 1، ص 307 – 311؛ اثبات الهداة، ص 3 ، ص 156 – 170، وقد نقل الاخیر ما یناهز 60 حدیثا على امامته.

[8] دیوان دعبل خزاعی

[9] ملاخطه هو: تاریخ الخلفاء، سیوطی؛ مروج الذهب، مسعودی؛ ارشاد، شیخ مفید

[10] وفیات الأعیان، ج 5، ص 9

[11] ربیع الأبرار، ج 1، ص 315.

[12] انعام، 84.

[13] آل عمران، 61.

[14] الفصول المهمّة، ص 238؛ آیات أنعام، 84؛ آل عمران، 61.

[15] تحف العقول، ص 303، مناقب، ابن شهر آشوب، ج 4، ص 314.

[16] مقاتل الطالبیین، ص 499 – 500؛ تاریخ بغداد، ص 28

[17] مفید، ارشاد، ص 296

[18] ملاخطه هو: ارشاد، ص 298؛ کافی، ج1، ص 13 – 20؛ تحف العقول، ص 283.

[19] من غیرعلی بن موسى الامام الرضا (ع).

[20] ملاخطه هو: المشجر الوافی، ج 1، ص 65- 66.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.