میاں بیوی جنھوں نے ایک دوسرے سے طلاق لے لی ھے۔ ان میں سے فرزندوں کی حضانت (سرپرستی ) کا حق کس کو حاصل ھے؟

0 0

اسلامی نقطھ نظر سے سب فرزندوں کا نفقھ ( مالی اخراجات ) باپ کے کندھوں پر ھیں۔ لیکن ان کی حضانت ( سرپرستی ) اور تربیت کا حق  ان کی عمر اور لڑکے یا لڑکی ھونے کے عنوان سے مختلف ھے۔

حضرت امام خمینی (رح): اس سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ھیں: “دو سال تک  بیٹے اور سات سال تک بیٹی کی حضانت (سرپرستی ) کا حق ماں کو حاصل ھے، اور اس کے بعد ماں کا کوئی حق نھیں ھے۔ اور باپ اپنے فرزندوں کو حاصل کرسکتا ھے لیکن کسی بھی صورت میں وه بچوں کا نفقھ کاٹ نھیں سکتا ھے۔ حضانت کی مدت کے دوران ، شادی کرنے کی صورت میں ماں کی حضانت کا حق ختم ھوجاتا ھے، اور یھ حق باپ کو حاصل ھوتا ھے” [1]

البتھ اس مدت میں دونوں ماں باپ ، اپنے بیٹے یا بیٹی کو دیکھه سکتے ھیں۔

حضرت آیۃ اللھ بھجت کا نقطھ نظر: ” سرپرستی کے دوران ، دونوں ماں اور باپ دونوں هی اگر اپنے فرزند کو دیکھنا چاھتے ھین یا اس کو کوئی چیز دینا چاھتے ھین اور اس کا کوئی نقصان یا مشکل دور کرنا چاھتے ھیں یا کسی خاص مدت تک اس کے ساتھه رھنا چاھتے ھیں تو دوسرا اس سلسلے میں رکاوٹ نھیں بن سکتا ھے” [2]



[1]  استفتائات حضرت امام خمینی ، ج ۳ ص ۲۰۹۔ ، اجوبۃ الاستفتائات (فارسی) سوال نمبر ۱۵۰۴، ص ۳۳۹۔

[2]  توضیح المسائل ( المحشی للامام الخمینی، ) ج ۴ ، ص ۵۱۶، مسالھ ۱۹۸۶۔

مزید  اگر کوئی عورت وضع حمل کی وجه سے ایک مشکل سے دوچار ھوئی ھو اور اس وجه سے وه وضو کو بر قرار رکھنے کی طاقت نھیں رکھتی ھے اور نماز کے دوران اس کا وضو باطل ھوتا ھے، تو اس مسئله کا حکم کیا ھے؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.