مکه میں،بت پرستی، کس زمانه میں اور کس کے توسط سے شروع هوئی هے ؟

بت پرستی کا سابقه:

نمرود بن کنعان بن کوش بت پرست بادشاهوں میں ایسا بادشاه تھا، که بت پرستی میں اس سے ظالم تر اور سخت تر کوئی نهیں تھا- بت پرستی طهمورث کے زمانه سے شروع هوئی هے، جب کوئی شخص مر جاتا تھا لکڑی کو تراش کر اس کی شکل بنائی جاتی تھی اور اس کی پرستش کی جاتی تھی

طبقات ناصر میں آیا هے: نمرود بن کنعان بن حام بن نوح، پهلا شخص هے جس نے طوفان {نوح} کے بعد قدرت هاتھه میں لے لی اور بادشاهی تاج کو اپنے سر پر رکھا، اس نے بابل کی سرزمین پر قبضه کیا، عرب وعجم پر تسلط جما کر بت خانے بنائے، بت پرستی کرتا تھا، سونے اور چاندی کے بت بنائے، تمام بتوں کو جواهرات سے سجایا، آذر نامی بت تراش کو اپنے خزانوں، بتوں اور سازوسامان کا امین بنایا اور علم نجوم کی پیروی کرتا تھا، احتمال قوی هے که بتوں کو ستاروں کی شکل میں بنایا جاتا تھا اور ان کی پرستش کی جاتی تھی

مکه میں بت پرستی کا آغاز

عمرو بن لحی کے توسط سے ھبل نامی بت کو شام سے لانا اور مکه کے لوگوں کو اس کی پرستش کرنے پر مجبور کرنا:

{قبیله} جرهم نے حرم {کعبه} میں بغاوت کی ، یه امر {قبیله} سبا کے پراکنده هونے اور بنی حارثه بن ثعلبه بن عمروبن عامر کے مکه کی سرزمین پر قدم رکھنے کا سبب بنا- وه جرهم کے ساتھه ایک هی جگه پر زندگی کرنا چاهتے تھے، لیکن قبیله جرهم نے انکار کیا اور ان کے درمیان جنگ چھڑ گئی، اور کها جاتا هے که بنی حارته، خزاعه تھے، انهوں نے غلبه پایا اور خانه خدا پر قابض هوگئے- اس وقت ان کا رئیس عمروبن لحی تھا، اس نے قبیله جرهم کے بچے کھچے افراد کو وهاں سے بھگا دیا- اور ابن لحی کا نام ، ربیعته بن حارثه بن ثعلبه بن عمرومزیقیا بن عامر تھا- حدیث میں آیا هے که پیغمبراسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا هے: “ رایت عمرو بن لحى یجر قصبه (یعنى أحشاءه) فى النار” – کیونکه اس نے بحیره، سائبه اور حامی کی بدعت ایجاد کی اور دین اسماعیل کو دگرگوں کر کے رکھه دیا اور بت پرستی کو رواج بخشا

بعض مورخین نے نقل کیا هے که: ایک دن عمرو بن لحی کسی کام کے سلسله میں مکه سے شام گیا اور جب سرزمین بلقاء اور شهر “مآب” میں پهنچا، وهاں کے لوگ قبیله عمالقه سے تعلق رکھتے تھے اور وه عملاق۔۔ یا عملیق۔۔۔ بن لاوذ بن سام بن نوح کی اولاد تھے- عمرو بن لحی نے دیکھا که وه بتوں کی پرستش کرتے هیں، سوال کیا: یه کیا هیں که آپ ان کی پرستش کرتے هیں؟ انهوں نے جواب میں کها: یه بت هیں که جب هم بارش چاهتے هیں تو ان سے درخواست کرتے هیں اور یه همارے لیے بارش برساتے هیں اور اگر ان سے مدد چاهتے هیں تو وه هماری مدد کرتے هیں؛ عمروبن لحی نے کها:اگر ممکن هے تو ان میں سے ایک مجھے دیجئِے تاکه میں اسے اپنے ساتھه سرزمین عرب میں لے جاوں اور وه بھی آپ کے مانند اس کی پرستش کریں- عمالقه نے ھبل نامی بت کو اسے دیدیا اور عمرو اسے اپنے ساتھه مکه لے آیا اور وهاں کے لوگوں کو اس کی پرستش اور تعظیم کے لیے مجبور کیا

مسعودی یوں نقل کرتا هے: جب عمروبن عامر اور اس کے فرزند مارب سے نکال باهر کیے گئے، بنی ربیعه جدا هوگئے اور تهامه میں قیام کیا، ان کو جدا هونے کی وجه سے خزاعه کها جاتا هے که خزاعه کے معنی جدا هونے کے هیں۔۔۔ خزاعه نے خانه کعبه کی تولیت اپنے هاتھه میں لے لی اور ان میں سے جس پهلے شخص نے خانه کعبه کی تولیت اپنے هاتھه میں لے لی وه عمرو بن لحی تھا، لحی کا نام حارثه بن عامر تھا، اس نے دین ابراھیم {ع} میں تبدیلیاں ایجاد کیں اور اسے دگرگوں کر کے رکھه دیا اور لوگوں کو مجسموں اور بتوں کی پرستش کی ترغیب دیدی- ایک روایت کے مطابق وه شام گیا اور وهاں پر ایک گروه کو بتوں کی پرستش کرتے هوئے دیکھا انهوں نے ایک بت اسے دیدیا اس نے اسے خانه کعبه میں نصب کیا- خزاعه کی قوم قوی هو گئی اور اور عمرو بن لحی نے سبوں پر ظلم کیا، جرھمیوں سے ایک شخص جو دین ابراھیم پر قائم تھا، اس نے اس سلسله میں عمرو بن لحی سے کها: اے عمرو مکه میں ظلم نه کرنا، کیونکه یه شهر محترم هے، پوچھنا که عادیوں کا انجام کیا هوا اور بنی عمالیق، جن کے وهاں پر اونٹ تھے کهاں گئے؟ لوگ اس طرح نابود هو رهے تھے- عمرع بن لحی نے بهت سے بتوں کو کعبه کے اطراف میں نصب کیا اور عربوں میں بت پرستی نے رواج پایا اور دین حنیف {دین ابراھیم} تقریباً منسوخ هوا-

شحنه بن خلف جرھمی نے اس سلسله میں عمرو سے کها: ” اے عمرو هم نے مکه اور خانه کعبه کے اطراف میں ، متعدد خداوں کو رکھا هے، یهاں پر همیشه خدائے وحده لاشریک تھا،لیکن تم نے خدا کے اس گھر میں متعدد خداوں کو رکھا هے، تمهیں جاننا چاهئیے که خداوندمتعال خانه خدا کے لیے تیرے علاوه اور لوگوں کو پرده داری کے لیے منتخب کرے گا-” کها گیا هے که: عمروبن لحی نے تین سو پینتالیس سال عمر کی هے- خانه کعبه کی تولیت {قبیله} خزاعه کے هاتھه میں تھی


مجمل التواریخ و القصص، ص 189 و 190، (نوشته در 520)، تحقیق، ملک الشعراء بهار، تهران، کلاله خاور.

طبقات ناصرى تاریخ ایران و اسلام، منهاج سراج (م بعد 658) ، طبع ‏1، ص 138، تحقیق: حبیبى، عبد الحى، تهران، دنیاى کتاب، چ اول، 1363ش.

مائده، 103؛ الله نے بحیره،سائبه، وصیله اور حام کو کوئی قانون نهیں بنایا{اشاره ان چار پالتوں حیوانوں کے بارے میں هے، جنهیں جهالت کے زمانه میں کچھه علتوں کی وجه سے حرام قرار دیا گیا تھا- اور اس بدعت کی اسلام میں ممانعت هوئی} یه جو لوگ کافر هوگئے هیں وه الله پر جھوٹا بهتان باندھتے هیں اور میں اکثر بے عقل هیں!

العبر تاریخ ابن خلدون، ترجمه، آیتى، عبد المحمد، طبع ‏1، ص 379 ، مؤسسه مطالعات و تحقیقات فرهنگى، چ اول،1363ش ، ترجمه، ‏متن.

ابن هشام (م 218)، زندگانى محمد(ص) پیامبر اسلام، ترجمه، رسولى، ج ‏1، ص 52، سید هاشم، تهران، انتشارات کتابچى، چ پنجم ، 1375ش، ترجمه.

مسعودی، أبو الحسن على بن الحسین (م 346)، مروج الذهب و معادن الجوهر، ج ‏1، ص 418 و 419، ترجمه، پاینده، ابو القاسم، تهران، انتشارات علمى و فرهنگى، طبع پنجم، 1374ش.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.